معمولی اجرت‘ 16 گھنٹے تک مشقت‘ بھٹہ مزدور خواتین بدترین حالات کا سامنا

08 نومبر 2014

لاہور(رفیعہ ناہیداکرام) ہزاروںبھٹوںپرانتہائی قلیل اجرت پر چودہ سے سولہ گھنٹے کام کرنے والی دس سے سترسال تک کی عورتیںاستحصال،جبر اور تلخ حالات کارکاشکارہیں۔بھٹہ مالکان کے بدترین استحصال،غربت کی دلدل اور سودی قرضوںکے عذاب نے ان کی زندگی کواجیرن بنارکھاہے مگراس صورت حال سے بچ نکلنے کاکوئی راستہ نہیں  بھاگ جائیں توظالم بھٹہ مالکان سودی قرضے کوجواز بناکربہیمانہ تشددکرتے دھمکیاںدیتے واپس بھٹے پرلاکھڑاکرتے ہیں۔مظلوم عورتیںاجرت میںاضافے یامعمولی قرضوںکے بھاری سودکی معافی کی بات کریں تواس ’’جرات‘‘کی انہیں عبرتناک سزادی جاتی ہے۔دوسری جانب غربت کے چنگل میں پھنسی  جھگی نشین عورتیں گھرکے مردوںکے بدترین تشددکانشانہ بھی بنتی ہیں،اکثرمردنشہ کرتے ہیںاورانکی مزدوری بھی ہتھیالیتے ہیںجس سے انکے مصائب میں کئی گنااضافہ ہوجاتا ہے۔ علاج معالجہ کی کوئی سہولت میسرنہیں جس سے اینٹوںکی تیاری کے دوران لگنے والے زخم مدتوںرستے رہتے ہیں۔ ’’نوائے وقت‘‘ سے گفتگومیں بھٹہ مزدورخواتین راحیلہ ،نزہت اور آسیہ نے بتایاکہ ہمارے بچے بھی ہمارے ساتھ کئی کئی گھنٹے کام کرتے ہیں۔ بچوں کو سکول بھیجنے کاتصوربھی نہیں کرسکتیں۔نبیلہ اورشمیم نے کہاکہ کھانے کونہیں ملتاتوباقی باتیں کیسے سوچیں،صبح چاربجے اٹھ کرکام شروع کرناپڑتاہے، بیماری میں بھی آرام نصیب نہیں ہوتا،ہماراپوراخاندان کام کرتاہے مگرزندگی میں کوئی سہولت نہیں۔ جبری مشقت کے خاتمے کی تنظیم بانڈڈ لیبرلبریشن فرنٹ کی جنرل سیکرٹری سیدہ غلام فاطمہ نے بتایاکہ جب تک جبری مشقت کے قانون پرعملدرآمدنہیں ہوتاکوئی ان مظلوم عورتوںکوبھٹہ مالکان کے چنگل سے آزادنہیں کرواسکتا، حکومت کم سے کم اجرت کے قانون پرعملدرآمدکروائے ، انکے بچوںکومفت تعلیم دی جائے  گھربنواکر دیئے جائیں۔