بھارت اپنے دغا باز ماضی کے ہاتھوں آج مجرم بن چکا ہے: ہندوستان ٹائمز
اسلام آباد (اے پی پی) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ سفارتی طریقے سے معاملات حل کرنے کی بجائے دانستہ طور پر پاکستان کے ساتھ مخاصمت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ بھارت اپنے دغاباز ماضی کے ہاتھوں آج مجرم بن چکا ہے۔ ہندوستان ٹائمز کے سینئر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار پریم شنکر جھا نے اخبار میں اپنے آرٹیکل میں کہا ہے کہ مودی حکومت نے ’’پاکستان کو سبق سکھانے کی اپنی خواہش چھپانے کی بھی زحمت نہیں کی‘‘۔ سرحدوں کے اطراف سے فائرنگ کے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اس حوالے سے بھارت کا جواب نامناسب رہا ہے۔ اس سال اکتوبر میں فائرنگ کا تبادلہ 2011 اور 2012ء کے فائرنگ کے واقعات سے اپنی نوعیت کے لحاظ سے مختلف تھا۔ دیہی علاقوں کے لوگ یہ شدید بمباری یاد رکھیں گے، بمباری زیادہ تر بھارت کی طرف سے ہوئی ہے، صرف 9 اکتوبر کو ایک روز میں بھارتی فورسز نے پاکستانی کشمیر پر ایک ہزار سے زائد مارٹر گولے پھینکے۔ 2011ء اور 2012ء میں سرحد کے دونوں اطراف سے فائرنگ کے 61 واقعات ہوئے۔ جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر امن ضروری ہے لیکن مودی حکومت نے فیصلہ کن انداز میں سفارتکاری کے دروازے بند کر لئے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں بی جے پی کی طرف سے بابری مسجد کے ڈیڑھ سو سال پرانے تنازعہ سے غلط انداز میں نمٹنے کی طرح مودی حکومت نے نواز شریف حکومت کے ساتھ نئے جارحانہ طریقے اختیار کر لئے۔ یونائیٹڈ پروگریسو الائنس اور واجپائی حکومتوں کے برعکس مودی نے پاکستان کے لئے جارحانہ رویہ اختیار کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی۔ انتخابات سے قبل مودی نے ممبئی میں سیاسی ریلی کے دوران پاکستان کو ’’دشمن‘‘ قرار دینے کی منطق اختیار کی۔ پاکستان اگر بھارت کی سرحدی چوکیوں پر پہلے بلااشتعال فائرنگ کرتا تو پھر بھارت کے پاس بلاشبہ جارحانہ جواب کا جواز بنتا تھا تاہم یہ دعویٰ تو بھارت کی اپنی حکومت کر رہی ہے، پاکستان نے پہلے فائر کھولنے کی تردید کی ہے۔ بھارتی میڈیا پاکستانی تردید شائع کئے بغیر جنوبی بلاک کی پریس ریلیز کو بہت اہم سمجھتا ہے، بھارت آج اپنے دغاباز ماضی کے ہاتھوں مجرم بن چکا ہے۔
