سزائے موت پر عملدرآمد نہ ہونے سے قتل کے واقعات بڑھ گئے

08 نومبر 2014

 لاہور (شہزادہ خالد) سزائے موت  پر عمل درآمد نہ ہونے سے قتل  جیسے سنگین جرائم میں اضافہ ہو گیا۔ سزائے موت کا ڈر ختم ہونے پر ملزموں کے حوصلے بڑھ گئے دوسری طرف مخالف پارٹی خود بدلہ لینے کی کوشش کرنے لگی ہے جس وجہ سے عدالتوں کے اندر بھی قتل اور اقدام قتل کے واقعات ہو رہے ہیں۔ رواں سال کے دوران ملک بھر میں1581 افراد کو قتل کیا گیا۔1351 افراد قاتلانہ حملے میںشدید زخمی ہوئے۔ ستمبر 2014 ء میں 109 افراد کو قتل کیا گیا۔ 2013 ء میں 1480 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ درجنوں افراد کو عدالتوں کے اندر اور باہر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لاہور  اور ننکانہ میں کمرہ عدالت میں تاریخ پیشی پر آئے 3 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لاہور کی سیشن عدالتوں میں درجنوں ایسے خطرناک ملزموں کے کیس زیر سماعت ہیں جن  کے باعث کسی بھی وقت ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ وکلاء نے ایسے مقدمات کی سماعت فوری طور پر جیل میں منتقل کرنے  کا مطالبہ کیا ہے۔ پندرہ جون 2013 کو ملزم جماعت علی اور نثار احمد وغیرہ اپنی ضمانتوں میں توسیع کے لئے عدالت میں پیش ہوئے تو اسی دوران ملزم صدام حسین نے جماعت علی وغیرہ فائرنگ کر دی جس سے جماعت علی اور نثار سمیت چار افراد زخمی ہوگئے، ایک موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جبکہ دوسرا زخمی جان بچانے کے لئے ایڈیشنل سیشن جج کے چیمبر میں گھس گیا مگر ملزم نے اس کا تعاقب کرکے اسے وہاں بھی چھلنی کرکے اس کی موت کی تصدیق کے بعد اطمینان سے پولیس کی موجودگی میں فرار ہو گیا۔ جماعت علی وغیرہ پر الزام تھا کہ انہوں نے باٹاپورمیں دیرینہ عداوت پرشبیرکوقتل کردیا گیا جس پر اس کے بیٹے عبداللہ نے جماعت علی، نثار احمد، شہزاد، یونس اور امیرعلی وغیرہ کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ اسی عدالت اور اسکے سامنے والی عدالت میں 6  کیس اسی نوعیت کے زیر سماعت ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سزائے موت کا قانون ختم کرنے کا مطلب قاتلوں کو کھلی چھٹی دینا ہے۔ سزائے موت ختم کرنے سے مجرموں کو فری ہینڈ مل جائے گا۔ سزائے موت  کا قانون ختم کرنے کی باتیں ملک میں انتشار پھیلانے والی خفیہ قوتوں کے دبائو پر کی جا رہی ہیں۔