ہفتہ ‘ 14محرم الحرام 1436ھ‘8 ؍ نومبر 2014ء

08 نومبر 2014

اپنی زندگی میں ایشیائی نژاد کو برطانیہ کا وزیراعظم دیکھنا چاہتا ہوں : ڈیوڈ کیمرون!
اگر آپ حقیقت میں ایشیائی نژاد کو وزیراعظم دیکھنے کے خواہشمند ہوتے تو آپ سعیدہ وارثی کو سیاسی وارث قرار دے کر اسے گھر سے بُلاتے اور اگلے الیکشن میں اسے وزیراعظم کا امیدوار بناتے لیکن آپ نے احسان کا بدلہ احسان کے ساتھ دے کر پھر بھی پاکستانیوں کا بھرم رکھ لیا ہے۔ گورنر پنجاب چوہدری سرور کی دس دن کی چُھٹیاں انکے بیٹے کیلئے بڑی کارآمد ثابت ہوئی ہیں۔ انس سرور چھوٹی عمر میں برطانیہ کے وزیر مملکت بن گئے۔ اگر سکاٹ لینڈ علیحدہ ہو جاتا تو پھر ڈیوڈ کیمرون بھی گئے تھے اور چوہدری سرور کی برطانیہ میں چودھراہٹ کو بھی گرہن لگ جانا تھا۔ ڈیوڈ کیمرون اگر ایشیائی نژادوں کو ساتھ ملا کر رکھنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں مستقبل کے وزیراعظم بننے جیسے سہانے خواب دکھاتے رہیں۔ ایشیا کی مٹی ہی ایسی ہے کہ وہ خوابوں پر ہی خوش رہتی ہے۔ ایک دور تھا کہ پاکستانی برطانیہ میں اُتر کر پکارتے تھے …؎
تیرے بچے جگ پر راج کریں
میرے بھوکے ننگے بچوں کو
کچھ اپنی نسل کا صدقہ دے
کچھ اپنے سر سے وار
لیکن اب پاکستانیوں کا طوطی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ پاکستانیوں نے برطانیہ میں کھڑے ہونے کی جگہ مانگی اور پھر بیٹھ گئے اور بیٹھے بھی اس انداز سے کہ اب برطانیہ والوں کی وہ مجبوری بن چکے ہیں۔ ڈیوڈ کیمرون اگر حقیقت مین ایشیائی نژاد کو وزیراعظم دیکھنے کے متمنی ہیں تو سعیدہ وارثی کو منا کر واپس لائیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
قائداعظم، بھٹو، بے نظیر ہم شرمندہ ہیں، ضیاء کا پاکستان آج بھی زندہ ہے : بلاول، ملک لوٹ کر زندہ ہے بھٹو اب بھی زندہ ہے : اعجاز الحق کا ردعمل!
بلاول اور اعجازالحق دونوں ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں انہیں غریبوں کے اُجڑے گھر دیکھنے، ان کے خالی پیٹوں کی شکنیں گننے اور قرضوں کے باعث نسلیں رہن رکھنے والوں کے دکھ سُننے کی فرصت نہیں، وہ آپس میں ہی طعنوں کا تبادلہ کرکے مطمئن ہیں۔ ویسے بلاول اور اعجازالحق کے والد میں ایک چیز مصلحت پسندی تو مشترک ہے، خود لوٹیں یاحواریوں کو لوٹنے کا موقع فراہم کریں‘ غریب لوگ توان کی باتیں سُن کر یوں کہتے ہیں …؎
جینے نہیں دیتے کبھی مرنے نہیں دیتے
یہ لوگ کوئی کام بھی کرنے نہیں دیتے
کوٹ رادھا کشن کا واقعہ افسوسناک ہے لیکن سیاسی رہنمائوں کو اس پر اپنی سیاست نہیں چمکانی چاہئے بلکہ متاثرہ خاندان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی بجائے مرہم رکھنے کی کوشش کریں۔ بلاول اور اعجازالحق ایک دوسرے کے ابائو اجداد پر طعن کرنے کی بجائے اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں تو دونوں کو ایسے ٹوئیٹ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
واہگہ بارڈر کا دورہ، شاہ محمود قریشی غلطی سے ’’بھارت‘‘ چلے گئے، رینجرز اہلکار نے واپس کھینچا!
شاہ محمود قریشی علم ہونے کے باوجود زیرو لائن کراس کر گئے اور پھر رینجرز اہلکار کے بتانے پر ایسے معصوم بن گئے جیسے وہ نرسری کے بچے ہوتے ہیں۔ قریشی صاحب نے یہ زیادہ تو اپنی مشہوری کیلئے کیا تھا کیونکہ آجکل ان کا دھرنا ذرا ٹھنڈا پڑا ہوا ہے اس لئے میڈیا پر وہ مشہوری نہیں ہو پا رہی جو ہونی چاہئے تھی اس لئے وہ پوز بنا کر وہاں کھڑے ہو گئے تھے۔ قریشی صاحب نے انڈین لوگوں سے سلام دعا تو کر لی تھی وہ ذرا دور سے بھی ہو سکتی تھی لیکن انکے آگے بڑھنے کو دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے وہ گلے ملنے کی کوشش میں تھے کیونکہ گلے مل کر وہ عام آدمی پارٹی کے سربراہ کیلئے کوئی پیغام بھجوانا چاہتے تھے کہ اب آگے کیا کرنا ہے کیونکہ دونوں پارٹیوں میں مشترکہ چیز ’’ضد‘‘ ہے اس بنا پر عام آدمی پارٹی اپنی دہلی کی حکومت گنوا بیٹھی اور تحریک انصاف اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کیلئے بے تاب بیٹھی ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
مظفر گڑھ : مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے نے جوتا اتارا، ڈاکٹر پر پھینکا نہیں، مبینہ تشدد کی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو ارسال!
عزت والے کو جوتا دکھانا بھی مارنے کے مترادف ہوتا ہے لیگی ایم پی اے نے جوتا سونگھانے کیلئے اُتارا ہو گا کیونکہ بعض لوگوں کے جوتوں میں بھی اس قدر بدبُو ہوتی ہے وہ جوتا سونگھا کر ہی مخالف کو مار دیتے ہیں۔ لیگی ایم پی اے کا جوتا بھی شاید سونگھانے والا ہی ہو۔ لیگی ایم پی اے کیلئے تو یوں ہی کہا جا سکتا ہے کہ…؎
کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے
کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے
وہ بھی جوتا مارتے مارتے رہ گئے، جوتا لگا نہیں لیکن ڈاکٹرز نے ہڑتال شروع کر دی، اگر جوتا لگ جاتا تو پھر کیا قیامت ٹوٹنی تھی۔ سیاستدانوں کو جوتا باری سے باز رہنا چاہئے کیونکہ اب میڈیا کا دور ہے ایک سیکنڈ ہیرو سے زیرو بننے میں لگتا ہے اور براہِ مہربانی جوتا ذرا صاف ستھرا ہونا چاہئے۔ ہمارے ایک دوست خرم خورشید ہیں‘وہ اپنے ایک کولیگ منے کو ہمیشہ یوں کہتے ہیں اگر تم باز نہ آئے تو آپ کو موزا سونگھا کر بے ہوش کر دوں گا۔ اس سے سمجھ آتا ہے جوتا مارنے سے زیادے سونگھانا خطرناک ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز کو اب ہڑتال ختم کر دینی چاہئے اگر انہوں نے بدلہ ہی لینا ہے تو ایم پی اے کو وہ بھی جوتا سونگھا دیں اور معاملہ رفع دفع کر دیں۔