سانحہ واہگہ اور کوٹ رادھا کشن! ذمے دار کون

08 نومبر 2014

ضرب عضب کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اب تک دہشت گردوں کے سینکڑوں ٹھکانے تباہ اور ہزاروں دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں۔ دہشت گردوں نے بڑی کاروائی کرکے فوجی آپریشن کا جواب دینا تھا۔ پنجاب حکومت نے پیشگی اطلاعات کے باوجود ایک خودکش حملہ آور کو واہگہ بارڈر پر ہونے والی پرچم اُتارنے کی تقریب کے قریب پہنچ کر حملے کا موقع فراہم کردیا۔ اس وحشیانہ حملے نے یوم عاشور سے پہلے کربلا برپا کردی جس میں 62 معصوم اور شہری شہید ہوگئے جن میں 3 رینجرز کے آفیسر، 10 عورتیں اور 7بچے شامل تھے جبکہ 120 افراد زخمی ہوگئے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی وزارت نے پنجاب حکومت کو وارننگ دی تھی کہ واہگہ لاہور پر خودکش حملہ ہوگا مگر روک تھام کے لیے مناسب اقدامات نہ کیے گئے۔ وفاقی وزیر داخلہ کے بیان کے بعد حکومت پنجاب کو ذمے داری قبول کرتے ہوئے دلی افسوس کا اظہار اور شہیدوں کے لواحقین سے معذرت کرنی چاہیئے تھی مگر افسوس پنجاب حکومت کے ترجمان اور ہوم منسٹر نے اس المناک واقعہ کی ذمے داری سکیورٹی ایجنسیوں پر ڈال دی۔ یہ انتہائی شرمناک رویہ ہے۔ امن و امان کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت آئینی طور پر پنجاب حکومت کی ذمے داری ہے۔ خود کش حملہ آوروں کو واردات سے پہلے گرفتار کرنا ایس ایچ او کے دائرہ اختیار میں ہے۔ سول اور عسکری ایجنسیاں تعاون تو کرسکتی ہیں مگر بنیادی ذمے داری صوبائی حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ افواج پاکستان کسی مخصوص علاقے میں آپریشن کرکے دہشت گردوں کے ٹھکانے تو تباہ کرسکتی ہیں مگر شہروں میں گھس بیٹھے دہشت گردوں کا صفایا نہیں کرسکتیں۔ شہروں میں دہشت گردوں کو کاروائیوں سے روکنے کی ذمے داری صوبائی حکومت کو قبول کرنی پڑے گی۔
کاش شریف برادران نے پنجاب میں اپنے تیس سالہ اقتدار میں عوام کو پیشہ ور، اہل اور معیاری پولیس دی ہوتی تو لاہور میں کربلا کا واقعہ ظہور پذیر نہ ہوتا۔ افسوس مسلم لیگ(ن) کے لیڈروں نے پنجاب پولیس کو ’’گلو بٹوں‘‘ سے بھر دیا جو صرف شریف خاندان کے وفادار ہیں اور عوام کی جان و مال کی ان کو کوئی فکر نہیں ہے۔ اگر ایس ایچ او جذبہ خدمت سے سرشار ہوں تو وہ اپنے علاقوں کی کڑی نگرانی کرکے دہشت گردوں کے منصوبے خاک میں ملاسکتے ہیں۔ دہشت گردی کے عذاب سے نجات پانے کے لیے پولیس کو معیاری اور مثالی بنانا ہوگا۔ یہ کام کوئی ایسا لیڈر ہی کرسکتا ہے جو قوم پرست ہو ، محب الوطن ہو اور عوام کی بے لوث خدمت کے علاوہ اس کا اور کوئی ایجنڈا نہ ہو۔ موجودہ حکومت نے بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ نیشنل سکیورٹی پالیسی تشکیل دی تھی مگر اسے سردخانے میں رکھ دیا گیا ہے۔ نیشنل سکیورٹی کا اعلیٰ ادارہ نیکٹا غیرفعال ہے۔ حکمران سیاسی مفادکے لیے اربوں روپے کے لیپ ٹاپ بانٹ دیتے ہیں مگر عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ان کے پاس فنڈز نہیں ہیں۔ اسی رویے سے حکمرانوں کی پاکستان اور عوام سے محبت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان حالت جنگ میں ہے فوج اور عوام اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں مگر حکمران جنگ سے لاتعلق ہیں۔ انہوں نے سکیورٹی کی ذمے داری افواج پاکستان کے سپرد کردی ہے حالانکہ منتخب سیاسی لیڈر جو ریاست کا چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے آگے بڑھ کر اپنی آئینی اور قومی ذمے داریوں کو پورا کرتا ہے اور فرار کا راستہ اختیار نہیں کرتا۔ فوج اپنی ذمے داری پورے جذبے اور جنون کے ساتھ پوری کررہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کرنا سیاسی رہنما کا کام تھا۔ وہ قوم کو متحد کرتا جنگ کا ماحول بناتا عوام میں جوش اور ولولہ پیدا کرتا مگر افسوس لیڈر مصلحتوں کا شکار ہوگیا۔
جب توقع ہی اُٹھ گئی غالب
کیا کسی کا گلہ کرے کوئی
زندہ دلان لاہور کو لاکھوں سلام جنہوںنے دہشت گردی کے سنگین واقعہ کے دوسرے روز اپنے خاندانوں کے ساتھ واہگہ میں ہونے والی پرچم اُتارنے کی تقریب میں شامل ہوکر ثابت کردیا کہ پاکستانی زندہ قوم ہیں اور وہ دہشت گردوں سے خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں۔ تقریب میں شامل زندہ دلان لاہور جن میں عورتیں اور بچے شامل تھے۔ پاکستان زندہ باد پاک فوج زندہ باد اور دہشت گرد مردہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔ لاہور کے عوام نے حکمرانو، سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو خدا حافظ کہتے ہوئے آگے بڑھ کر دہشت گردوں کو سخت پیغام بھیجا ہے۔ حکومت کا کام اب صرف واقعہ کا نوٹس لینا، رپورٹ مانگنا ، مذمتی بیان جاری کرنا اور جے آئی ٹی بنایا رہ گیا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں کسی ایک دہشت گرد کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا بلکہ جن ہزاروں دہشت گردوں اور قاتلوں کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے ان کو پھانسی نہیں دی جارہی۔ پی پی پی نے بھی سزائے موت پر عمل درآمد سے گریز کیا تھا۔ سکیورٹی فورسز کی رائے ہے کہ سزائے موت نہ دینے سے دہشت گردوں، قاتلوں اور مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔
جب تک پاکستان میں ظلم، نا انصافی، کرپشن اور استحصال کا نظام ختم نہیں ہوگا اور عوام غربت اور جہالت کا شکار رہتے ہوئے عزت کی زندگی نہیں گزار سکیں گے وہ طالبان کے متبادل نظام کی جانب رجوع کریں گے۔ پاکستان میں داعش کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ تحریک طالبان کے اہم کمانڈر داعش میں شامل ہوچکے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے کچھ علاقوں پر قبضہ کرکے داعش کی حکومت قائم کردی جائے۔ ان حالات میں ایک متحرک، فعال اور اہل حکومت کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں وقفے وقفے کے بعد غیر مسلموں کے ساتھ مذہب کے نام پر اس قدر افسوسناک سلوک کیا جاتا ہے جو رحمت اللعالمینﷺ کی تعلیمات کے منافی ہوتا ہے۔ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ’’خبردار اگر کسی شخص نے غیر مذہب رعیت پر ظلم کیا یا اس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف دی یا اس کی مرضی کے خلاف کوئی شے لی تو میں اس کی طرف سے قیامت کے روز جھگڑوں گا‘‘۔ [دائود] مبینہ طور پر کوٹ رادھا کشن میں ایک مشتعل ہجوم نے شہزاد مسیح اور اس کی حاملہ بیوی شمع پرپہلے شدید تشدد کیا اور بعد میں دونوں کو اینٹوں کے بھٹے میں پھینک کر نذر آتش کردیا۔ ان دونوں پر الزام تھا کہ انہوں نے قرآن پاک کے اوراق نذر آتش کرکے مقدس کتاب کی توہین کی۔ ڈی پی او قصور جماد کنور کے مطابق مقامی مذہبی رہنما نے مسجد کے لائوڈ سپیکر پر مسلمانوں کو اشتعال دلایا کہ شہزاد مسیح اور اس کی بیوی نے قرآن پاک کی توہین کی ہے۔ ایک ہزار دیہاتی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور غیر مسلموں کو ہلاک کردیا۔ ہیومن رائٹس پاکستان انسانی حقوق کا غیر جانبدار ادارہ ہے اس کی رپورٹ کے مطابق شہزاد مسیح کا بھٹہ کے مالک یوسف سے لین دین کا تنازعہ چل رہا تھا۔ افسوسناک واقعہ اس تنازع کی وجہ سے رونما ہوا۔ وزیراعظم اس واقعہ میں ذاتی د لچسپی لے رہے ہیں، خدا کرے وہ اصل ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچا سکیں۔ ماضی میں غیر مسلموں کے خلاف تشدد کے جو واقعات ہوچکے ابھی تک ان کے ملزمان کو سزانہیں دی جاسکی۔موجودہ حکومت جو عوام کو گڈ گورننس دینے میں ناکام رہی ہے اور سکیورٹی کی ذمے داری بھی لینے کے لیے تیار نہیں ہے ان سے یہ توقع ہی عبث ہے کہ وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرسکے گی۔ حکومت کمزور ہے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کی وجہ سے اس کی اخلاقی اتھارٹی ہی ختم ہوچکی ہے۔ وہ قومی سلامتی کا دفاع کرنے کی اہل ہی نہیں رہی لہذا پاکستان کی سلامتی اور بقاء کے لیے لازم ہے کہ دو تین سال کے لیے وسیع البنیاد حکومت قائم کی جائے جس میں اہل، دیانتدار اور محب الوطن افراد شامل ہوں۔ قومی حکومت یکسو ہوکر دہشت گردی کا قلع قمع کرے ، قومی لٹیروں کا کڑا احتساب کرے، ریاستی نظام میں اصلاحات کرے اور صاف شفاف انتخابات کرائے۔ قومی حکومت کے علاوہ اور کوئی آپشن باقی نہیں بچا جو پاکستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈال سکے۔