بھارت سے تجارت یا آزادی کا تحفظ

08 نومبر 2014

بھارت کی طرف سے آزادکشمیر کی سرحد پر باقاعدہ جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد شہری جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ بھارتی فوج کی اشتعال انگیز کارروائیاں ایسے موقع پر کی جا رہی ہیں جب بھارت کے زیرتسلط جموں و کشمیر کے علاقوں میں بندوق کی نوک پر انتخابات کا ڈھونگ رچانے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں یہ انتخابات20سے 25 سے دسمبر تک منعقد کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ ایسے میں بھارت کی ہندو بنیاد پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں وہاں کے عوام اور انکے قائدین پر ظلم و تشدد کا بازار گرم کر دیا ہے اور دوسری طرف لائن آف کنٹرول پر آزادکشمیر کے دیہات پر گولہ باری کرنے کے جارحانہ اقدامات کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دشمنی کا پس منظر رکھنے والی بھارتی حکومت بدستور پاکستان کیخلاف گھنائونی سازشوں کی روش اپنائے ہوئے ہے۔ اس حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد اسمبلی کے انتخابات کیلئے جس پروگرام کا اعلان کیا ہے‘ کشمیر کے حریت پسند عوام اسے مسترد کر چکے ہیں اور کشمیری عوام کی مسلمہ قیادت بھارتی فوج کی بندوقوں اور سنگینوں کے سائے میں ہونیوالے ان نام نہاد انتخابات کو محض ایک فوجی مشن قرار دے رہے ہیں۔ ان انتخابات کیخلاف عوامی سطح پر مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ ان انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کیلئے عوام میں بیداری پیدا کی جائے۔ اسی مہم کو روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے حریت رہنمائوں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ قائدین کو گھروں میں نظربند کیا جا رہا ہے۔ متعدد سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور کارکنوں سے حوالاتیں بھری جا رہی ہیں۔ اس حوالے سے ہونیوالی ریلیوں کے شرکاء اور پولیس کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ جہاں تک کشمیری لائن آف کنٹرول کا تعلق ہے‘ بھارتی فوج نے کافی دنوں سے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انکی ایسی کارروائیوں سے کئی شہری شہید ہو چکے ہیں۔باعث حیرت اور حکومت پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ اپنی جارحانہ حرکتوں پر عالمی رائے عامہ کی آنکھوں میں دھول جھونکے کیلئے الٹا پاکستان کو موردالزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ 31 اکتوبر کو بھارت کے وزیرخارجہ راجناتھ سنگھ نے بھوپال میں بی جے پی کے کارکنوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے سیز فائر کی خلاف ورزی پر بھرپور جواب دیا ہے۔ اب پاکستان بارڈر پر امن خراب کرنے کی کوشش نہیں کریگا۔ اس روز بھارتی اخبار نے آئی این پی کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے کہ بیجنگ میں منعقدہ استنبول پراسس کی چوتھی وزرائے خارجہ کانفرنس میں بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان چین کا اتحادی اور شراکت دار ہے‘ تاہم وہ خطے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ نریندر مودی کی ہندو انتہاپسند حکومت نے تو یوں لکھا ہے کہ اس نے پاکستان کیخلاف باقاعدہ محاذ کھول دیا ہے۔ 30 اکتوبر ہی کو یہ الزام لگایا گیا کہ پاکستان کی 3 کمرشل پروازوں نے بھارتی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ بات مسلسل آگے بڑھ رہی ہے اور پاکستان کی تضحیک کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جا رہا۔ یکم نومبر کو بھارتی وزیرخارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے نئی دہلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی آئندہ ماہ نیپال میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت کرینگے اور یہ بات یقینی ہے کہ نریندر مودی اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نوازشریف سے ملاقات نہیں کرینگے اور بھارت کی طرف سے بس چالاکی اور مکر و فریب کا ہتھیار استعمال کرکے عالمی رائے عامہ کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بھارتی وزیردفاع ’’ارون جیٹلی‘‘ نے ایک بھارتی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مناسب جواب ملنے پر پاکستان اقوام متحدہ کے پاس پہنچ گیا اور مطالبہ کیا کہ بھارت کو جنگ بندی کے معاملے پر مذاکرات کرنے چاہئیں۔ مودی سرکار نے پاکستان کو مناسب جواب دیکر بہادری کا مظاہرہ کیا۔
پاکستان کو بدنام کرنے کی بھارتی چالبازیوں سے پاکستان کے حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جو نریندر مودی حکومت کے بارے میں خوش فہمیوں میں مبتلا ہیں۔ ارباب حکومت کو یہ ازلی حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں پاکستان اور اسلام کی بیخ کنی کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان بھارت کی اقتصادی‘ معاشی‘ سماجی اور فوجی برتری قبول کرنے کیلئے معرض وجود میں نہیں آیا تھا۔ آبادی رقبے‘ وسائل اور دفاعی طاقت کے حوالے سے چار پانچ گنا بڑی مملکت ہونے کے باوجود بھارت نے پاکستان کو اپنے لئے ہمیشہ خطرہ سمجھا۔ درحقیقت یہ ہندو بنیا کا اندرونی خوف ہے جسے مسلمانوں نے اسے ہمیشہ لرزہ براندام رکھا۔ حقائق اس قسم کے ہوں تو اپنے ازلی دشمن بھارت سے تجارتی تعلقات قائم رکھنے میں کونسی مجبوری ہے؟ دشمن کو دوسرے ممالک تک راہداری کی اجازت دینا کہاں تک دانشمندی ہے؟ پنجاب کے وزیرداخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے ایک پریس کانفرنس میں واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ واہگہ بارڈر پر ہونیوالی دہشت گردی کی کارروائی میں غیرملکی ہاتھ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا مگر انہوں نے اسکی وضاحت نہیں کی کہ یہ غیرملکی ہاتھ کون ہو سکتا ہے؟ جہاں تک بھارت کو افغانستان کیلئے بھارت کو راہداری دینے کا تعلق ہے‘ پاکستان کے اہم ادارے اسکے حق میں نہیں ہیں۔ حال ہی میں ایک قومی اخبار میں شائع شدہ خبر کیمطابق متذکرہ اہم ادارے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ بھارت سے ممنوعہ اشیاء کے بھارت سے پاکستان آنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ واہگہ سے طورخم اور چمن تک ٹرکوں کی مکمل نگرانی ناممکن ہے۔ 30 اکتوبر کو کوئٹہ میں صوبائی وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ تحصیل گلستان سے بھاری مقدار میں اسلحہ و بارود برآمد کیا گیا۔ وہ افغانستان کے راستے بھارت سے لایا گیا تھا جو چار ہزار کلو وزنی تھا اور اس معاملے میں بھارت اور افغانستان دونوں ممالک کی ایجنسیاں ملوث ہیں۔ حقائق اسی قسم کے ہوں کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیرداخلہ برآمد ہونیوالے بھاری مقدار کے اسلحہ کو بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے بھیجا گیا بتا رہے ہیں تو پھر اس حقیقت کو عالمی رائے عامہ پر ظاہر نہ کرنے میں کونسی رکاوٹ ہے جبکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ بلوچستان میں تخریبی اور دہشت گرد کارروائیوں میں پوری طرح ملوث ہے اور یہ بات بھی وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ واہگہ بارڈر کے المیہ میں بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے میں بھارت کو تجارتی مقاصد کیلئے راہداری کی سہولتیں مہیا کرنا اور اس ازلی دشمن ملک سے کسی بھی نوعیت کی تجارت شروع کرنا ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
مخصوص مفادات کے تحت بھارت کی محبت میں نڈھال اس کے بعض گماشتوں کے اس استدلال میں کوئی وزن نہیں کہ ماضی کی تخلیاں بھول کر بھارت سے دوستی کر لی جائے اور تجارتی و اقتصادی روابط کو فروغ دیکر تعلقات بہتر بنائے جائیں۔ جب بھارت پاکستان کو کھلم کھلا دشمن قرا ردیکر عالمی سطح پر ہرزہ سرائی کر رہا ہے تو حاکمانِ وقت کو کسی غلط فہمی میں اپنے حاشیہ نشینوں کے کہنے پر کوئی حماقت نہ کر بیٹھنی چاہئے۔ ایسا اقدام تحریک پاکستان کے شہداء سے بے وفائی کے مترادف ہوگا۔