شہابیوں کے زمین سے ٹکرانے کے خطرات اندازہ سے کہیں زیادہ ہیں: سائنسدان

08 نومبر 2013

لندن (بی بی سی اردو) سائنس دانوں نے کہا ہے کہ اس سال کے اوائل میں روس میں جو شہابیہ گرا تھا اس قسم کے مزید شہابیوں کے زمین سے ٹکرانے کے امکانات پہلے سے قائم اندازوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ چیلیابنسک میں فروری میں گرنےوالے 19 میٹر لمبے شہابیے کے دھماکے سے جتنی توانائی پیدا ہوئی تھی وہ پانچ لاکھ ٹن ٹی این ٹی کے برابر تھی۔ اس کے گرنے سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی تھی اور 16 سو کے لگ بھگ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ یہ شہابیہ چیلیابنسک شہر سے ساڑھے 18 میل اوپر فضا ہی میں پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا اور شہر پر ان ٹکڑوں کی بارش ہوئی تھی۔ 67،700 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے خلا سے زمین کی طرف آنے والے اس پتھر کے دھماکے سے ہزاروں کھڑکیاں اور دروازے تباہ ہو گئے تھے۔ سائنسدانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس طرح کی بہت سی خلائی چٹانیں ایسے مداروں میں گھوم رہی ہیں۔ اس طرح کے زیادہ تر واقعات کی خبر اس لیے سامنے نہیں آ پاتی کیونکہ یہ دھماکے یا تو سمندر پر یا بہت دور دراز کے علاقوں میں ہوتے ہیں۔ گذشتہ بیس سال کے اعداد و شمار کا مطالعہ کرنے کے بعد محققین نے معلوم کیا ہے کہ اس دوران 20 میٹر کے سائز والے 60 شہابیے زمین سے ٹکرائے۔

کراچی سے نیو یارک

کراچی پہنچ کر وزیراعلیٰ پنجاب نے کراچی کو نیو یارک بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ...