روبوٹک ہاتھ کیلئے 2013 کا ٹیکنالوجی ایوارڈ

08 نومبر 2013

لندن (بی بی سی اردو) امریکی یونیورسٹی کے طلبہ کو بیٹری سے کام کرنےوالے مشینی ہاتھ کی تیاری پر 2013 کا جیمز ڈائسن ایوارڈ دیا گیا ہے۔ پنسلوینیا یونیورسٹی میں مکینیکل انجینئرنگ کے چار طلبہ نے ’ٹائٹن آرم‘ نامی یہ مشینی ہاتھ ڈیزائن کیا ہے۔ روبوٹک ہاتھ کمر کے درد کا شکار افراد کی تکلیف دور کرنے اور پٹھوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس ہاتھ کی مدد سے لوگ اپنے کام کے دوران بھاری اشیا کو آسانی سے اٹھا سکتے ہیں۔ اس روبوٹ ہاتھ کو آٹھ مہینوں میں بنانے والی ٹیم کے ارکان 48 ہزار امریکی ڈالر کے انعام میں حصہ دار ہوں گے۔ جیمز ڈائسن ایوارڈ کا دوسری پوزیشن کا انعام ایک جاپانی ٹیم کو دیا گیا جنہوں نے ایک ایسا ہاتھ بنایا تھا جو سنسرز کی مدد سے دماغ کے اشاروں کو پڑھ سکتا تھا۔ نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والی طلبہ کی ایک ٹیم کو ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کے لئے بنائے گئے پلاسٹک کور پر تیسرے انعام سے نوازا گیا۔
مشینی ہاتھ/ ایوارڈ