امریکہ پاکستان میں امن نہیں چاہتا، ڈرون نہ گرانے سے مایوسیاں پھیلیں گی: حافظ سعید

08 نومبر 2013

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں امن نہیں چاہتا، حکیم اللہ محسود پر ڈرون حملہ مذاکرات کو ناکام کرنے کی سازش تھی۔ حکومت پاکستان اور طالبان کو سازشوں کا شکار ہونے کی بجائے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ مرکزی حکومت ڈرون طیارے گرانے کا حکم دے اور نیٹو سپلائی بند کی جائے اگر ڈرون طیارے نہ گرائے تو قوم میں مایوسیاں پھیلیں گی۔ دفاع پاکستان کونسل کے پلیٹ فارم سے پورے ملک میں زبردست تحریک چلائیں گے اور اتحاد و یکجہتی کے ذریعہ پاکستان کے دفاع کا فریضہ سرانجام دیں گے۔ ڈرون حملوں کیخلاف آج ملک گیر احتجاج ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیصل آبادکے ایک مقامی شادی ہال میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر فلاح انسانیت فائونڈیشن کے چیئرمین حافظ عبدالرئوف، امیر جماعۃ الدعوۃ فیصل آباد مولانا محمد فیاض، مزمل اقبال ہاشمی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار میں مختلف مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ حافظ سعید نے کہاکہ امریکہ نہیں چاہتا کہ حکومت‘ تحریک طالبان کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کرے اور پاکستان میں امن و امان قائم ہو۔ بھارت اور امریکہ پاکستان کو دہشت گردی، تخریب کاری اور بم دھماکوں کی صورتحال سے ہی دوچار رکھنا چاہتے ہیں۔ایسے حالات میں حکومت اور قوم کا ایک موقف ہونا چاہئے۔ ہم سب کو متحد ہو کر اپنا گھر بچانا ہے۔ دشمن کی سازشیں ناکام بنانے کیلئے مضبوط اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت امریکہ سے صاف کہہ دے کہ اگر ڈرون طیارے آئندہ پاکستانی حدود میں گھستے ہیں تو انہیں گرا دیاجائے گا۔ ڈرون حملوں کے بعد حکومت کا امریکہ سے اب کوئی معاہدہ باقی نہیں رہا۔ بھارت کے مقاصد پورے کرنے کے لئے امریکہ کردار ادا کر رہا ہے۔ اوباما کے ڈرون حملے روکنے سے انکار کے بعد بھی اگر ڈرون نہیں گرائے جاتے تو یہ قومی سطح پر غفلت ہو گی۔ امریکہ پاکستان میں ڈرون حملے کر کے قبائلیوں کو پاکستان میں خودکش حملوں کیلئے اکسا رہا ہے۔ امریکہ، بھارت اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں چاہتی ہیں کہ ڈرون حملوں کے نتیجہ میں خودکش حملے ہوں اور پھر وہ تخریب کاری و دہشت گردی کا وسیع نیٹ ورک قائم کر سکیں۔ ڈرون حملوں کے ذریعے امریکہ پاکستان سے اپنی شکست کا انتقام لینا چاہتا ہے۔