گورنرپنجاب کا --- ” پلس پوائنٹ “

08 نومبر 2013

” یورپی پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی نے پاکستان کے لئے جی- ایس- پی-پلس سٹیٹس کی منظوری دے دی ہے“۔ یہ مختصر سی خبر قومی اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کی زینت بنی اور یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹر برسلز میں ” نوائے وقت“کے نمائندہ خصوصی وقار ملک سمیت مختلف خبر نگاروں نے پاکستان کو یہ "Status" (رتبہ یا مقام) دِلوانے میں ،گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی کوششوں کی تعریف بھی کی۔ پاکستان کو " TheGeneralised System Preferences Status" -(" G.S.P.Status ") مِلنا اِس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ہر معاملے میں پاکستان کی سفارت اور تجارت میں رکاوٹ ڈالنے والا رقیب بھارت پہلے ہی اِس سٹیٹس سے مستفید ہو رہا تھا۔ جی- ایس- پی- پلس ایک ایسا نظام ہے جِس کے تحت کسی ملک کو پسندیدہ مُلک قرار دے کر تجارت اور درآمدی ٹیکس میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے عمومی قواعد و ضوابط سے چُھوٹ دے دی جارتی ہے27 پورپی ممالک نے ابتدا میںمیکسیکو‘ تائیوان‘ ہانگ کانگ‘ سنگا پور اور ملائشیا کو پسندیدہ مُمالک کی حیثیت سے یہ چُھوٹ دی تھی اور اُس کے بعد برازیل اور بھارت کو دی گئی اور اب پاکستان کو یورپی پارلیمنٹ کے 75 منتخب ارکان میں سے 69 کا تعلق برطانیہ سے ہے جن میں سے دو ارکان جناب سجاد حیدر کریم اور سیّد کمال پاکستانی نژاد ہیں۔
چودھری محمد سرور نے 27 ستمبر سے 10 اکتوبر تک- اپنے دورہ¿ برطانیہ کے دُوران گلاسکو‘ ایڈمبرا‘ مانچسٹر‘ برمنگھم‘ شیفلڈ اور دوسرے شہروں میں نہ صِرف پاکستانی نژاد برطانوی شہریوںسے عام جلسوں میں خطاب اور اُن سے ملاقاتوں میں اُن پر پاکستان کومضبوط اور توانا بنانے ‘ سرمایہ کاری کرنے پر زور دیا بلکہ یورپی پارلیمنٹ سے پاکستان کو جی- ایس- پی- پلس سٹیٹس دِلوانے پر بھی آمادہ کرنے کے لئے دِن رات ایک کردیا۔ اِس دَوران بھارتی لابی کا پاکستان دشمن رویہّ بھی نُقطہ ءعروج پر رہا۔ گلاسکو کے "Amirates Arena" میں 5/4 ہزار لوگوں کے جلسہ¿ عام میں چودھری محمد سرور نے نہ صِرف برطانوی شہری فرزاندنِ پاکستان سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی درخواست کی بلکہ برطانیہ سمیت ترقی یافتہ ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کے شکار پاکستان کی تباہ حال معیشت کو سہارا دینے کے لئے اُس کے تمام قرضے بھی معاف کر دیں“۔
-8 اکتوبر کو لندن کے ایک بہت بڑے ہوٹل میں "The Community of London" کی طرف سے گورنر پنجاب کے اعزاز میں ترتیب دیئے گئے عشائیہ میں اعلیٰ سطح کے پاکستان نژاد تاجروں اور صنعت کاروں نے اپنی تقریروں میں چودھری محمد سرور کو یقین دِلایا کہ ” اگر حکومت ِ پاکستان انہیں اور اُن کی سرمایہ کاری کو تحفظ دے تو وہ پاکستان کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لئے جی جان سے کوشش کریں گے“ جس کے جواب میں گورنر پنجاب نے کہا کہ ” مَیں نہ صِرف پاکستان نژاد سرمایہ کاروں بلکہ غیر مسلم یورپی سرمایہ کاروں کو بھی یقین دِلاتا ہوں کہ وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی حکومت اُن کو اور اُن کی سرمایہ کاری کو پورا تحفظ دے گی“ حیرت کی بات تو یہ تھی کہ چودھری محمد سرور کے اعزاز میں منعقدہ ہر تقریب میں برطانیہ کی تینوں بڑی پارٹیوں‘ کنزرویٹو پارٹی‘ لیبر پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس کے ہاﺅس آف کامنز اور ہاﺅس آف لارڈز کے ارکان اُن میں شریک ہوتے رہے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا مختلف نظریات کے حامل ارکانِ پارلیمنٹ برطانوی شہریت چھوڑ کر وطن جانے والے اپنے ساتھی کی جُدائی کے باوجود اُسے کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔
-9 اکتوبر کو ہاﺅس آف کامنز میں لیبر پارٹی کی ایم- پی - اے- بیرسٹر یاسمین قریشی کی طرف سے چودھری محمد سرور کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کا منظر دیدنی تھا جب، سپیکر ہاﺅس آف کامنز منِسٹر John Bercow سمیت کنزر ویٹو پارٹی‘ لیبر پارٹی اور لبرل ڈیمو کریٹس کے کئی ایم پیز اور لارڈز چودھری سے یک جہتی کا اظہار کر رہے تھے اور یقین دہانی کرا رہے تھے کہ- ” برطانیہ میں حکومت کسی بھی پارٹی کی ہو ہم سب پاکستان کے دوست ہیں“۔ اِن تینوں پارٹیوں نے الگ الگ ” فرینڈز آف پاکستان“ کے نام سے تنظیمیں بنا رکھی ہیں جو بہت ہی متحرک اور فعال ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ سے جی- ایس- پی پلس بل منظور کروانے کے لئے یورپی پارلیمنٹ کے کئی منتخب ارکان کی طرف سے چودھری محمد سرور کو یقین دہانی کرائی جا چکی تھی۔ چودھری صاحب کو -10 اکتوبر کو وطن واپس پہنچنا تھا۔ -16 اکتوبر کو گورنر ہاﺅس میں عیدا لاضحیٰ یتیم بچوں کے ساتھ کے ساتھ منانے کے لئے۔ اِس سے قبل عیدالفطر کے دِن 300 یتیم بچے گورنر ہاﺅس میں مدعو تھے۔چودھری صاحب نے مجھے بتایا تھا کہ ”جی- ایس- پی- پلس کی منظوری کے لئے مجھے ایک بار پھر برطانوی اور دوسرے یورپی مُلکوں کے ارکانِ یورپی پارلیمنٹ سے ملاقات کے لئے آنا پڑے گا“۔-22 اکتوبر کو چودھری محمد سرور برسلز اور پھر سٹراسبرگ ( فرانس) میں تھے۔ وفاقی وزیرِ تجارت جناب خُرم دستگیر خان بھی فرانس پہنچے۔ پیرس اور برسلز میں پاکستان کے سفیروں جناب غالب اقبال اور جناب منور سعید بھٹی کے ساتھ ساتھ یورپی پارلیمنٹ کے رکن جناب سجاد حیدر کریم نے بھی جی- ایس- پی- پلس بل منظور کرانے میں بڑی گرم جوشی دکھائی۔
جی- ایس- پی- پلس کی منظوری کے بعد یورپی پارلیمنٹ میں پاکستانی مصنوعات کی ڈیوٹی فری رسائی ہو جائے گی۔ اِس سے پہلے 11 فیصد ہے۔ اِس طرح پاکستانی درآمدات کا حجم 13 بلین ڈالر سے 26 بلین ہو جائے گا اور پاکستان میں 10 لاکھ افراد کو روزگار مِلے گابرسلز میں-
” نوائے وقت“- کے نمائندہ خصوصی وقار ملک کے مطابق پاکستان کو جی- ایس- پی- پلس دیئے جانے کے بعدیورپی پارلیمنٹ کے ارکان نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ” گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی کوششیں رنگ لائیں“۔ میرے خیال میں اِس کا زیادہ کریڈیٹ وزیرِ اعظم میاں نواز شریف اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو جاتا ہے چودھری محمد سرور انہی کا انتخاب ہیں۔ اب وہ منفی پروپیگنڈا باطل ہو گیا ہے کہ پنجاب میں امپورٹڈ گورنر لگانے کی کِیا ضرورت تھی؟ اور محدود آئینی اختیارات کے حامل گورنر پنجاب کیا کر لیں گے؟۔مَیں نے-27 جولائی کے کالم میں لکِھا تھا کہ شریف برادران عوام کی خدمت کے لئے چودھری محمد سرور کو وطن واپس لائے ہیں۔ بے شک وہ آئینی گورنر ہوں گے لیکن محبت کی سیاست میں انہیں زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے۔35 سال تک برطانیہ میں اپنے مسلسل تین بار برطانوی دارالعوام کے رکن کی حیثیت سے چودھری محمد سرور نے جو تجربہ باطل کِیا اور تعلقات بنائے وہ پاکستان کے کام آئے۔ یہ گورنر پنجاب کا پلس پوائنٹ (اضافی خوبی) ہے۔ جو جی- ایس- پی- پی-ایس پلس منظور کرانے میں کام آیا۔