امریکہ کیخلاف جدوجہد کرتے مارا جانیوالا سب سے بڑا شہید ہے: منور حسن

08 نومبر 2013

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی  منور حسن نے کہا ہے کہ حکومت نے امریکی خواہش پر طالبان سے مذاکرات کیلئے دوبارہ اے پی سی بلانے کا ڈھونگ رچایا تو یہ وقت کا ضیاع اور قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کی مکروہ سازش ہوگی۔ حکومت کیلئے بہتر یہی ہے کہ وہ فوری طور پر سابقہ اے پی سی کے متفقہ فیصلوں پر عمل درآمد کا آغاز کرے۔  امریکی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کرنے والے طالبان اور طالبان کے حامی ایک ہی قوت ہیں۔ یہ سب پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور آزادی کی حفاظت کیلئے امریکی ظلم و بربریت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ طالبان سے بہت سی غلطیاں بھی ہوئی ہونگی مگر امریکہ کے خلاف ان کی قربانیوں کی تحسین اور حوصلہ افزائی نہ کرنا انصاف نہیں۔ اگر بلوچ نیشنلسٹس اور سندھی نیشنلسٹس سے مذاکرات ہو سکتے ہیں تو طالبان سے کیوں نہیں ۔طالبان کو میز پر بٹھا کرمتنبہ کیا جاسکتا ہے مگر امریکی خوف سے مذاکرات سے راہ فرار اختیار کرنا بزدلی ہے۔ ملک میں خواندگی کی شرح کو بڑھانے کیلئے طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ آڈیٹوریم میں منعقدہ غزالی ایجو کیشن ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلنے والے 325سکولزکی پرنسپلز اور وائس پرنسپلز کی تین روزہ تربیتی ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب اور ایک نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹریو میں کیا۔ منورحسن نے کہا کہ امریکی دہشت گردی سے نجات کیلئے قوم کو متحد کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن اور دہشت گردی کا موجدہے۔ امریکہ کے سامنے لیٹنے اور اس کے پائوں پڑنے سے امریکی دہشت گردی کو روکا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ہم ملک میں دعوت و تبلیغ کے ذریعے عوام کو اپنا ہمنوا بنانے اور اسلامی نظام کے غلبے کی کوشش کررہے ہیں،  طالبان ملک پرغیر ملکی تسلط اور ظلم و جبر کے خلاف برسرپیکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک تو امریکی چیرہ دستیوں کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے مارا جانے والا سب سے بڑا شہید ہے۔ شہید کیلئے یہ ضروری نہیں کہ اس نے کسی کا قتل نہ کیا ہویا اس سے کوئی خطا سرزد نہ ہوئی ہو۔ منورحسن نے کہا کہ ملک میں تعلیمی نظام کی بدحالی سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کو عام آدمی کی تعلیم صحت اور روزگار سے کوئی دلچسپی نہیں ۔غریب کے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند ہوچکے ہیں ،امراء کے بچے مہنگے اور ایئر کنڈیشنڈ سکولوں میں پڑھ رہے ہیں جبکہ غریبوں کے بچوں کیلئے ٹاٹ سکول بھی میسر نہیں۔