دہشت گردی سنگین صورتحال اختیار کر گئی، اطلاعات کے باوجود حملے ہوئے، روکا نہ جا سکا

08 نومبر 2013

لاہور (معین اظہر سے) ملک میں دہشت گردی، فرقہ وارانہ دہشت گردی انتہائی سنگین صورتحال اختیر کر گئی جس کی وجہ سے گذشتہ دس ماہ کے دوران پنجاب کو مختلف دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے دھمکیوں پر 255 ہائی الرٹ جاری ہوئے، سندھ کو 182 اور سرحد کو 146، بلوچستان کو 132 دھمکیوں پر ہائی الرٹ جاری ہوئے۔ پنجاب میں سیاست دانوں کو 21 دہشت گردی کے 74 جبکہ فرقہ وارانہ 58 دھمکیاں ملنے کے بعد اداروں کی طرف سے ہائی الرٹ جاری کئے گئے جبکہ سندھ سب سے زیادہ امن و امان کے حوالے سے 39 جبکہ سرحد میں خودکش حملوں کی سب سے زیادہ دھمکیوں کے بعد الرٹ جاری کئے گئے ہیں۔ پنجاب کے 22 اضلاع، سندھ کے 9 جبکہ سرحد کے 10 اضلاع، بلوچستان کے 5 اضلاع میں دہشت گردوں کی دھمکیوں کے بعد ہائی الرٹ جاری کئے جا چکے ہیں جبکہ بعض دہشت گردوں سے تعلق رکھنے والی تنظیموں، اداروں کی تعداد ملک میں 50 ہو گئی ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں اس وقت 431 دہشت گرد، سندھ میں 191، سرحد میں 88 اور بلوچستان میں 47 دہشت گرد بند ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں حساس اداروں کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی کی اطلاعات دی جا رہی ہیں۔ وزارت داخلہ کی جانب سے ایک بریفنگ تیار کی گئی ہے۔ اس کے مطابق دہشت گردی کی اطلاعات میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے تاہم دہشت گردی کو کنٹرول کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشانات اٹھائے گئے ہیں۔ اطلاعات کے باوجود متعدد حملے ہوئے، ان کو روکا نہیں گیا تھا۔ پنجاب کے 22 اضلاع دہشت گردوں کی لسٹ پر ہیں یا وہاں دہشت گردوں کے لئے سپورٹ موجود ہے۔ ان میں راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، لیہ، ملتان، میانوالی، جھنگ، تربیلا، لکی مروت، بھکر، اسلام آباد، گوجرانوالہ، رحیم یار خان، اوکاڑہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سرگودھا، اٹک، ڈی جی خان، بہاولنگر، چنیوٹ اور گجرات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب جنوری سے اکتوبر تک جو دہشت گرد حملوں کے متعلق خفیہ اداروں کے الرٹ ملے ہیں ان میں دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے 74، سیاسی شخصیات پر حملے کے 21، غیر ملکیوں پر حملے کے 3، فوجی تنصیبات پر حملے کی 4، مذہبی فرقہ وارانہ حملوں کی 58، مذہبی شخصیات پر حملے کی 5، خودکش حملوں کی 7 جبکہ امن و امان تاوان کی 25 جبکہ متفرق الرٹ کی 55 دھمکیاں ملی ہیں۔ اس طرح سندھ کو دہشت گرد حملوں کی 51، سیاست دانوں پر حملے کی 23، غیر ملکیوں پر حملوں کی 2، فوجی تنصیبات پر حملے کی 2، مذہبی فرقہ واریت کی 26، مذہبی شخصیات پر حملے کی 3، خودکش حملوں کی 7، امن و امان اور تاوان کی 39 اور متفرق الرٹ 29 جاری ہوئے ہیں۔ سرحد میں دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے دہشت گردی کے 62 الرٹ، سیاسی شخصیات پر حملے کی 24، غیر ملکیوں پر حملے کی ایک، فوجی تنصیبات پر حملے کی ایک، مذہبی فرقہ وارانہ حملوں کی 9، مذہبی شخصیات پر حملے کی 2 اور خودکش حملوں کی 18، امن و امان اور تاوان کی 9 اور متفرق حملوں کی 21 دھمکیاں ملی ہیں۔ وزارت دفاع کے ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردی کی اطلاعات کے علاوہ دہشت گرد گروپوں کی سپورٹ اور مالی تعاون میں ملک کے اندر مختلف اداروں کی طرف سے تعاون میں اضافہ ہوا، اس کے لئے ایک نئی پالیسی تیار کی جا رہی ہے جس میں تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں، شخصیات کو ملنے والے فنڈز کی ڈاکومنٹیشن کی جانے کی تجویز زیر غور ہے۔