خفیہ اداروں کے تحریری جواب کو عدالتیں نظرانداز نہیں کر سکتیں: لاہور ہائیکورٹ

08 نومبر 2013

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ خفیہ اداروں کے تحریری جواب کو عدالتیں نظر انداز نہیں کر سکتیں اور نہ ہی بغیر ثبوت کے کسی بھی ادارے کے خلاف کارروائی کر سکتی ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے لاپتہ ریٹائرڈ میجر ڈاکٹر مجاہد کی بازیابی کے لئے دائر درخواست کی سماعت کی۔ ملٹری انٹیلی جنس کی جانب سے جواب داخل کراتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ لاپتہ شخص انکی تحویل میں نہیں ہے جبکہ انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے جواب میں موقف اختیار کیا گیا کہ آئی بی کسی بھی شخص کو تحویل میں نہیں لیتی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ کی طرف سے قائم لاپتہ کمیشن سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کو ٹھوس شواہد پیش کرنے کی ہدائت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 22 نومبر تک ملتوی کر دی۔

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...