سپریم کورٹ کا مہنگی بجلی کا نوٹس اور حکومت سے فلاحی ریاست کی ذمہ داری نبھانے کا تقاضا....حکمران عدلیہ کو اپوزیشن سمجھنے کے بجائے اصلاح احوال کا سوچیں

08 نومبر 2013

چیف جسٹس سپریم کورٹ مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری نے قرار دیا ہے کہ بجلی کی قیمتوں پر آئین سے ماورا کوئی بھی ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا‘ ٹیکس صرف پارلیمنٹ ہی لاگو کر سکتی ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے اپنی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے بینچ میں بجلی کے نرخوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران گزشتہ روز ریمارکس دیئے کہ حکومت سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو سیاسی فائدے دے کر نیک پروین بن بیٹھی ہے اور اپنے ساتھ ہی ہمیں بھی بدنام کر رہی ہے۔ نیپرا حکومتی ہدایات پر کام کریگا تو اسکی غیرجانبداری کیا رہ جائیگی۔ فاضل چیف جسٹس نے باور کرایا کہ نیپرا کو غیرجانبدار رہ کر نرخوں کا تعین کرنا چاہیے۔ اگر اس نے حکومت کی ہدایت پر نرخوں میں ردوبدل کرنا ہے تو اسکی اپنی اتھارٹی کہاں ہے؟ دوران سماعت بینچ کے فاضل رکن مسٹر جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ جمہوری طرز حکمرانی میں عوام کی حکومت ہوتی ہے اور عوام کی حکومت عوام پر قیمتوں کا ایٹم بم کیوں گرائے گی جبکہ نیپرا کی تعین کردہ قیمتوں کا اطلاق عوام پر ایٹم بم گرانے کے ہی مترادف ہو گا۔ فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی وی پر سارا دن حکومت نامہ چلتا ہے‘ غریب نامہ بھی چلایا جائے۔ فاضل چیف جسٹس نے باور کرایا کہ ابھی مظفرگڑھ اور گدوبیراج کی بھی نجکاری ہو رہی ہے جس سے بجلی کے نرخ مزید بڑھیں گے۔ حکومت نے سرکلر ڈیٹ ختم کر دیا مگر عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ ڈیزل پر پلانٹ چلائے جائینگے تو عوام کو مہنگی بجلی ہی ملے گی۔ اتنا پیسہ خرچ کرنے کے بعد تو اب تک لوڈشیڈنگ ختم ہو جانی چاہیے تھی۔ فاضل چیف جسٹس نے باور کرایا کہ عوام کی روزمرہ زندگی کی ضروریات پوری کرنا اور بجلی کے بلوں میں رعایت دینا فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہے مگر حکومت اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہی۔
یقیناً حکومت کو اس امر کا احساس ہو گا کہ غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری اور گزشتہ پانچ سال سے جاری توانائی کے بحران سے عوام نہ صرف ذہنی اذیتوں سے دوچار ہو کر اپنے بچوں کو فروخت کرنے‘ انہیں دریا برد کرنے‘ خودکشی اور خودسوزی کا راستہ اختیار کرنے اور انکی نوجوان نسل بے راہروی کے راستے پر چلنے پر مجبور ہو چکی ہے بلکہ عوام عملاً زندہ درگور ہو کر رہ گئے ہیں۔ یقیناً حکومت کو اس امر کا بھی احساس ہو گا کہ روٹی روزگار کے گھمبیر مسائل نے ہی عوام کو سابقہ حکمرانوں سے متنفر کیا تھا جبکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ساتھ عوام نے اپنے گوناںگوں مسائل کے حل کی توقعات وابستہ کرکے انہیں انتخابات میں حکمرانی کا مینڈیٹ دیا۔ اس تناظر میں حکومت کو اس امر کا بھی احساس کرنا چاہیے کہ اسکی مسلط کردہ مہنگائی در مہنگائی کے بوجھ تلے پستے عوام اپنے اقتصادی حالات اور انکی بنیاد پر پیدا ہونیوالے گھریلو جھگڑوں سے عاجز آکر اس انقلاب کی نوبت بھی لا سکتے ہیں جس سے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اکثر اپنی تقاریر میں اشرافیہ طبقات کے علاوہ عوام کو بھی ڈراتے نظر آتے ہیں۔
اگر ان تمام تر حقائق کے باوجود حکومت کو عوام کے غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری سے متعلق مسائل سے کوئی سروکار نظر نہیں آرہا اور وہ آئی ایم ایف سے نئے قرضوں کے حصول کے معاہدے کی بنیاد پر عوام کی حالتِ زار کا اندازہ لگائے بغیر بجلی‘ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ہر ماہ اضافہ کرکے مہنگائی کے سونامی کا راستہ آسان بنا رہی ہے جس کے نتیجہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے اور خوردو نوش کی اشیاءسمیت روزمرہ استعمال کی تمام اشیاءکے نرخ عوام کی دسترس سے باہر نکل رہے ہیں تو بے نیازی پر مبنی حکومت کی یہ پالیسی اپنے اقتدار کے پاﺅں پر خود ہی کلہاڑا مارنے کے مترادف ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں چیف جسٹس سپریم کورٹ اور دوسرے فاضل جج مفادات عامہ کے مقدمات میں حکومتی بے ضابطگیوں‘ بدنظمیوں اور مہنگائی کی بنیاد پر عوام کیلئے پیدا ہونیوالے گھمبیر مسائل کا نوٹس لیتے ہیں تو حکمرانوں کی جبینِ نیاز پر شکنیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں‘ جیسے گزشتہ روز بلدیاتی انتخابات کے سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں متعین کردہ شیڈول کیخلاف قومی اسمبلی میں لائی گئی قرارداد پر بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن بینچوں کی جانب سے سپریم کورٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اسکے برعکس جب عدالت عظمیٰ کی جانب سے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے انکے روٹی روزگار سے متعلق مسائل کے حل کیلئے حکومت کو ہدایات جاری کی جاتی ہیں تو عوام کو بھی عدالت عظمیٰ کے ذریعے اپنے مسائل کے حل کے معاملہ میں امید کی کرن نظر آتی ہے اور اسی بنیاد پر حکمران عدلیہ کو بھی اپنی اپوزیشن سمجھ بیٹھتے ہیں۔
چاہیے تو یہ کہ مفاد عامہ کے کسی معاملہ پر عدالتی نوٹس سے حکمران اپنی غلطیوں‘ کوتاہیوں کی اصلاح کرکے سلطانی¿ جمہور پر جمہور کے اعتماد کی راہ ہموار کریں اور عدالتی ہدایات کی روشنی میں غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری اور توانائی کے بحران سے متعلق مسائل کے حل کا لائحہ عمل طے کریں جس سے منتخب جمہوری نظام کیخلاف غیرجمہوری عناصر کی سازشوں کے دروازے اور سوراخ ازخود بند ہو جائینگے اور منتخب جمہوری حکمران اداروں اور عوام سے حاصل شدہ اعتماد کی بنیاد پر بے خوف و خطر اپنے اقتدار کی آئینی میعاد بھی پوری کرتے رہیں گے اور سسٹم کے استحکام کی ضمانت بھی بن جائینگے۔ اس تناظر میں سلطانی¿ جمہور سے وابستہ حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کو عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی یا ٹکراﺅ کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے عوام کے مسائل کے حل کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنے کیلئے اسکی معاونت حاصل کرنی چاہیے مگر اسکے برعکس حکمران طبقات آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کی راہ پر گامزن عدلیہ کو اپنے مفادات کی راہ میں رکاوٹ سمجھ کر اسکے ساتھ محاذ آرائی کو فروغ دیتے نظر آتے ہیں جس کے سابقہ ادوار سے موجودہ دور تک عملی مظاہرے جاری ہیں۔
موجودہ حکومت نے جس طرح عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخ 20 ڈالر فی بیرل تک کم ہونے کے باوجود عوام پر ہر ماہ پٹرول اور گیس بم گرائے اور پھر بجلی کے نرخ کم کرنے کی اوگرا کی سمری کو نظرانداز کرتے ہوئے بجلی کے من مانے نرخ مقرر کرکے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کی پالیسی اختیار کی‘ جس میں بجلی چوروں کیلئے ریلیف اور مہنگائی کے ہاتھوں پہلے ہی نیم مردہ ہوئے عوام کیلئے نئے عذاب کی فضاءہموار ہوئی تو آخر کسی نے تو ایسی من مانیوں کا نوٹس لے کر عوام کیلئے سکون کا سانس لینے کی فضا بنانی ہے۔ موجودہ حکمرانوں کیلئے یہ لمحہ¿ فکریہ ہے یا اعزاز کی بات؟ کہ قومی زراعت پر تکیہ کرنیوالے اس ملک میں آلو‘ پیاز‘ ٹماٹر کے نرخ جستیں بھرتے ہوئے فی کلو سو روپے کا ہندسہ بھی عبور کر چکے ہیں۔ آج مارکیٹ میں آٹے کا بحران ہے‘ خوردنی تیل اور گھی بھی چھ روپے فی کلو مہنگائی ہو چکا ہے۔ چینی کے نرخ بھی آسمان تک پہنچتے نظر آرہے ہیں جبکہ 20 کلو آٹے کا تھیلا پسے پسماندہ عوام کو ساڑھے آٹھ سو سے 900 روپے تک مل رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر عام آدمی پر مہنگائی کے کوڑے مارنے اور ہر ماہ ان کوڑوں کی تعداد میں اضافہ کرنیوالے حکمرانوں کو کیا اس امر کا احساس ہے کہ انکی مسلط کردہ مہنگائی نے عوام کو غربت اور پستیوں کی کس انتہاءتک جا پہنچایا ہے جبکہ ان کیلئے بے روزگاری کے عذاب میں بھی بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ اس فضا میں کیا محض اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے آلو‘ پیاز‘ ٹماٹر کے نرخ کم کرنے کی سفارش سے مسائل میں گھرے عوام کی تشفی ہو سکتی ہے جبکہ یہ حقیقت بھی انکے پیش نظر ہے کہ حکومت عوامی ریلیف کی آس بندھانے والے عدالتی احکام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس سے مسائل میں گھرے عوام کو حکومت کی جانب سے یقیناً یہی پیغام جاتا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے والے عدالتی احکامات و اقدامات کو سخت ناپسند کرتی ہے۔
اس تناظر میں عدالت عظمیٰ نے بجلی کے نرخوں میں اضافہ سے متعلق کیس میں بجا طور پر حکمرانوں کو باور کرایا ہے کہ عوام کی روزمرہ زندگی کی ضروریات پوری کرنا اور بجلی کے بلوں میں رعایت دینا فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت یہ ذمہ داری ادا کرے تو بانیانِ پاکستان قائد و اقبال کے پاکستان کی صورت میں جدید اسلامی‘ جمہوری‘ فلاحی ریاست کے آدرشوں کی بھی تکمیل ہو جائیگی۔ کیا بانیانِ پاکستان کے تصورات کے مطابق وطن عزیز کو جدید اسلامی‘ جمہوری‘ فلاحی ریاست کے سانچے میں ڈھالنا مسلم لیگ سے وابستہ حکمرانوں کی ذمہ داری نہیں؟ اگر عوام کی طرح سپریم کورٹ بھی حکومت سے یہی تقاضا کر رہی ہے تو حکومت کو یہ تقاضا نبھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر اسے سابقہ حکمرانوں والے انجام سے دوچار ہونے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔