ماں باپ کے ہاتھوں اپنے بچوں کے قتل میں تشویشناک اضافہ

08 نومبر 2013

لاہور (احسان شوکت سے) ماں باپ کی طرف سے اپنے بچوں، جگر کے ٹکڑوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرنے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ تین ماہ میں مختلف وجوہات پر 48 بچے اپنے والدین کی انا کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جنہیں سوچ کر بھی دل دہل اور کلیجہ پسیج جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لوگ غربت، بیروز گاری ، مہنگائی،گھریلو جھگڑوں اورچھوٹی چھوٹی بات پر پر اپنے بچوں کو قتل کرنے لگے ہیں جبکہ کرب ناک صورتحال یہ ہے کہ ماؤںکے ہاتھوں بھی اپنے کمسن بچوں کے قتل کے بھی واقعات میں تیزی آ گئی ہے۔گزشتہ روز گھریلو حالات اورغربت سے تنگ آکر سنگدل ماں نے اپنی دو کمسن بیٹیوں اور ایک بیٹے کو بی آر بی نہر میں پھینک کر مارڈالا۔کچھ عرصہ قبل بی آر بی نہر میں ہی طاہر نامی شخص نے روٹھی بیوی کے نہ ماننے پر اپنے تین بچوں 6 سالہ عدنان، 5 سالہ علی رضا اور ساڑھے تین سالہ علیشا کو بی آر بی نہر میں دھکا دے کرموت کے گھاٹ اتارنے کے بعد خود بھی نہر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی تھی۔دو روز قبل شیخوپورہ میں باپ نے10 دن کی بیٹی کو پانی کے ٹب میں ڈبو کر مار ڈالاتھا۔ اسی طرح کچھ عرصہ میںمختلف علاقوں میں اپنے ماں باپ کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے کمسن بچوں میں 7 سالہ ہاشم، 4 سالہ سمیر،3 سالہ شماہم ،6 ماہ کا کاشف،7مہینے کی اقرائ، 4 سالہ قاسم، تین سالہ ماخیل، 4 سالہ قاس، 3 سالہ نائیل،میٹرک کی طالبہ طیبہ، 12 سالہ علی رضا، 9 سالہ حمزہ، 7 سالہ آمنہ، ڈیڑھ سالہ خرم، جواں سالہ نبیلہ، 12 سالہ ہنسہ، 8 سالہ زنیرہ ،6 سالہ زہرہ، فراست،مہوش، آ ٹھ ماہ کی منزہ، تین سالہ ربیعہ،پانچ سالہ ارم اور دیگر شامل ہیں۔ ایسے سفاکانہ واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔