چک ہیگل کا امریکہ کو سودمند مشورہ

08 نومبر 2013

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا ہے کہ امریکہ کو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فوج پر انحصار کم کر کے ویلینز کو بااختیار بنانے کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ امریکی عوام عراق، افغانستان جنگوں سے تنگ آ گئے ہیں۔ خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنا ہو گا۔
امریکہ نے دہشت گردی کے نام پر پوری دنیا میں اعلانیہ اور خفیہ جنگیں شروع کر رکھی ہیں۔ عراق پر ایٹمی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر دجلہ و فرات میں خون کی ندیاں بہائیں لیکن آخرکار اسے وہاں سے بھاگنا پڑا۔ عراق سے امریکی انخلاءکے بعد فرقہ وارانہ تصادم شروع ہو چکے ہیں جبکہ 2014ءمیں وہ افغانستان سے بھی کوچ کرنے کا اعلان کر چکا ہے اسکے انخلا کے بعد افغانستان کا منظرنامہ عراق سے بھی گھناﺅنا نظر آتا ہے لیکن امریکہ کو بہر صورت اپنی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ جنگیں بند کرنا ہوں گی۔ اس وقت امریکی عوام بھی اپنے پیاروں کے سرخ پرچم میں لپیٹے تابوت وصول کرتے عاجز آ چکے ہیں۔ ڈرون آپریٹ کرنیوالے فوجی مقتول معصوم بچوں کی سوشل میڈیا پر تصویریں دیکھ کر اپنی نوکریوں سے استعفیٰ دے چکے ہیں جبکہ امریکی فوجیوں میں ڈپریشن کا مرض عام ہو چکا ہے۔ اب خوف کے مارے امریکی فوجی بھی اپنے کیمپوں سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی حکومت کو اپنے وزیر دفاع چک ہیگل کی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ امریکی ظلم و ستم کی چکی میں پسنے والے بے گناہ افراد کو بھی سُکھ کا سانس لینے کا موقع مل سکے۔