بارش جاری ۔ آسمانی بجلی گرنے سے طالبعلم سمیت 3 افراد دم توڑ گئے

08 نومبر 2013

لاہور + اسلام آباد (سٹی رپورٹر + نامہ نگاران + ایجنسیاں) کئی شہروں  میں  گزشتہ  روز بارش کا سلسلہ  جاری رہا  جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا جبکہ  نشیبی  علاقے زیر آب آ گئے جبکہ  بچیکی،  حافظ آباد  اور  نارووال  میں  آسمانی  بجلی گرنے  سے  طالبعلم سمیت 3 افراد  دم توڑ گئے، لاہور  میں بھی گزشتہ روز بارش ہوئی  پہاڑوں  پر برفباری  بھی ہوئی۔ چترال میں برف باری کی وجہ سے لواری ٹنل بند ہوگئی، سردی میں اضافے سے  مونگ پھلی سمیت خشک میوہ جات کی ڈیمانڈ بڑھ گئی، عوام نے لحاف اوڑھ لئے۔ جمعرات کو محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ ایک دو روز میں ملک میں سردی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے۔ غذر اور گردونواح میں بارش، پہاڑوں پر برف باری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا۔ وادی سوات، ناران اور ملحقہ بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے ہونے والی ہلکی برفباری سے سردی کا زور بڑھ گیا۔ گلگت شہر میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری  رہا۔ چترال میں بارش اور پہاڑوں پر برف باری کے باعث لواری ٹنل بند ہوگئی جس سے مسافروں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا رہا۔ لاہور میں  بھی گزشتہ روز  بارش ہوتی رہی اور نشیبی علاقوں  اور سڑکوں  پر پانی کھڑا ہو گیا جس  کے باعث  شہریوں کو ٹریفک  کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بچیکی  سے نامہ نگار کے مطابق  نواحی گائوں چک نمبر 10 کے رہائشی محنت  کش  اللہ دتہ  کا 12 سالہ بیٹا  ندیم جو چھٹی جماعت کا طالب علم  تھا بڑا گھر سکول جا رہا تھا کہ موسلادھار بارش کے دوران اچانک  آسمانی  بجلی اس  پر گر گئی جس  کی وجہ سے وہ بری طرح جھلس گیا  اور موقع پر ہی زندگی کی بازی ہار گیا۔ حافظ  آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق  25 سالہ نوجوان کسوکی  کے قریب جٹانوالہ  میں اپنے ڈیرہ  پر موجود تھا کہ اچانک  گرج چمک  کے ساتھ وہاں  آسمانی  بجلی گری جس  سے شہباز کا جسم بری طرح  جھلس گیا اسے  ریسکیو 1122 کی گاڑی میں ڈسٹرکٹ  ہیڈ کوارٹر ہسپتال لایا گیا جہاں وہ زخموں  کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ نارووال سے نامہ نگار کے مطابق  موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک نواحی قصبہ بھیناں میں آسمانی بجلی گر گئی  جسکی زد میں آکر محمد یوسف کا جواں سالہ بیٹا ساجد شدید زخمی ہو گیا جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا،  ادھر لاہور  میں وقفہ وقفہ سے  ہلکی بارش کے باعث سڑکوں  پر پھسلن  ہو گئی جبکہ شہری اور دیہی  علاقوں میں لوگوں نے باقاعدہ  گرم کپڑوں  کا استعمال شروع کر دیا۔  محکمہ  موسمیات  کے مطابق مغربی  سرد ہوائیں  اس وقت ملک کے بالائی  علاقوں  میں موجود ہیں جن کی وجہ سے پہاڑوں  پر برف باری کا سلسلہ بھی شروع  ہو گیا ہے۔ رائے ونڈ  سے نامہ نگار کے مطابق  رائیونڈ میں منعقدہ سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع کا دوسرا مرحلہ آغاز سے قبل ہی بے رحم بارش کی نذر ہوگیا، جمعرات کو ہونے والی مختصر مگر طوفانی اور ژالہ باری کی بارش نے تبلیغی اجتماع کا سارا نظام تہس نہس کردیا اور انتظامات  شدید متاثر ہوئے۔ بارش کی وجہ سے وسیع و عریض پنڈال سمندر کا منظر پیش کرنے لگا اور علماء کے خطابات ملتوی کر دئیے گئے۔ پانی میں بجلی کا کرنٹ آنے کی وجہ سے سپلائی معطل کردی گئی، قبل ازیں شدید بارش کے پیش نظر امیر جماعت حاجی عبدالوہاب کی طرف سے اعلان کردیا گیا کہ شرکاء اپنی مدد آپ کے تحت اپنی حفاظت کا بندوبست کریں، دوسرے مرحلہ میں بہت زیادہ تعداد میں غیر ملکی مندوبین بھی شریک تھے جنہیں فوری طور پر تبلیغی مرکز میں ٹھہرانے کا بندوبست کیا گیا جبکہ تبلیغی جماعت کے بزرگوں کی ہدائت پرہزاروں شرکاء نے ریلوے سٹیشن، لاری اڈوں، قریبی دیہاتوں، سندر انڈسٹریل اسٹیٹ اور نزدیکی فیکٹریوں میں پناہ ڈھونڈ نی شروع کردی جو کہ رات گئے تک اسی کوششوں میں مصروف نظر آئے۔ اتوار کی اجتماعی دعا کیلئے پروگرام بنایا گیا ہے کہ اگر پنڈال خشک ہوگیا تو یہاں پر بصورت دیگر تبلیغی مرکز میں دعا مانگی جائے گی۔ لاہور (نیوز رپورٹر) موسم میں واضح بہتری کے باوجود لیسکو نے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند نہ کیا۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں 6 سے 8 گھنٹے تک بجلی بند ہوتی رہی جبکہ لاہور میں بارش کے باعث 81 فیڈرز بھی بند ہو گئے جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں کئی گھنٹے بجلی بند رہی۔ تفصیلات کے مطابق موسم ٹھنڈا ہونے کے بعد بھی بجلی کا خسارہ 1750 میگاواٹ رہا۔ جنریشن 10 ہزار 8 سو 50 میگاواٹ اور ڈیمانڈ 12 ہزار 600 میگاواٹ رہی۔ ایسی صورتحال میں لیسکو نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی۔ دوسری جانب بارش کی وجہ سے اقبال ٹاؤن، چوہنگ، کلمہ چوک، گارڈن ٹاؤن، مصری شاہ، کاچھو پورہ، بند روڈ، واہگہ، گلدشت ٹاؤن سمیت دیگر علاقوں میں بھی بجلی کئی گھنٹے بند رہی۔