یوم شہدائے جموں و کشمیر

08 نومبر 2013

6 نومبر 1947ءکو سانحہ جموں و کشمیر کی یاد میں کنٹرول لائن کے آر پار اور صوبائی دارالحکومت سمیت پاکستان بھر میں کشمیریوں نے یوم شہداءجموں و کشمیر جوش و جذبے سے منایا۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان اور بھارت کے مندوبین کے درمیان مسئلہ کشمیر پر زبردست جھڑپ ہوئی۔
6 نومبر 1947ءکے سانحہ میں 2 لاکھ کے قریب کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا جن کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ڈوگرہ فوج اور ہندو انتہا پسندوں کے گٹھ جوڑ نے جس بے رحمی کے ساتھ کشمیریوں کا قتل عام کیا اس نے ہٹلر کی قتل و غارت کو بھی مات دے دی تھی۔ کشمیری عوام نے کنٹرول لائن کے آر پار اور دنیا بھر میں یومِ شہدائے جموں و کشمیر منا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی صورت بھارت کے ساتھ یا اسکے زیر تسلط رہنے کو تیار نہیں۔
بھارت کے مقبوضہ وادی کو اٹوٹ انگ قرار دینے سے حقائق کو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی مندوب کے اٹوٹ انگ والے مو¿قف کو پاکستانی مندوب نے مسترد کر کے کشمیر میں بھارتی دہشت گردی سے پردہ اٹھا کر ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے بھارت کا خونخوار چہرہ واضح کردیا ہے۔ بھارت 65 سال سے کشمیر پر 10 لاکھ افواج کے ذریعے قابض ہے لیکن وہ آج تک کشمیریوں کو اپنا ہمنوا بنا سکا اور نہ ہی آئندہ بنا سکے گا۔ بندوق کے زور پر کسی کو اپنا بنایا جا سکتا ہے نہ ہی ظلم تادیر قائم رہ سکتا ہے لہٰذا بھارت اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی چھوڑ کر اقوام متحدہ میں موجود قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب بڑھے اور کشمیری عوام شہداءکے خون کی لاج رکھتے ہوئے اپنی جدوجہد مزید تیز کریں اور شہدائے 6 دسمبر کے خون سے اٹھنے والی اس آواز ”شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں لہو ہمارا بُھلا نہ دینا“ کو اپنا ماٹو بنائے رکھیں۔