......انسانم آرزوست

08 نومبر 2013

حضرت اسلم رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں ایک مرتبہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ہم مجلس لوگوں سے فرمایا:اپنی اپنی تمنا کا اظہار تو کرو،ایک صاحب نے کہا میری دلی تمنا یہ ہے کہ یہ گھر دراہم سے بھر جائے اور میں ان سب کواللہ تبارک وتعالیٰ کے راستے میں خرچ کردوں۔حضرت عمر نے پھر فرمایا:اپنی اپنی تمنا کا اظہار کرو،تو دوسرے صا حب نے کہا،میری دلی آرزو تو یہ ہے کہ یہ گھر سونے سے بھرا ہوا ہواورمیں وہ تمام اللہ کے راستے میں لٹا دوں۔حضرت عمر نے پھر ارشاد فرمایا: کہ اپنی اپنی تمنا کا اظہار کرو،اس پر تیسرے صاحب نے کہا کہ میری خواہش تو یہ ہے کہ یہ گھر جواہرت سے معمور ہوجائے اورمیں یہ تمام کے تمام اللہ کی خوشنودی کے لیے صرف کردوں لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر ارشاد فرمایا:اپنی اپنی تمنا کا (مزید)اظہار کرو،لوگوںنے استفسارکیا،اے امیر المومنین !اتنی بڑی تمناﺅںکے بعد اور کون سی تمنا ہوسکتی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشادفرمایا:میری دلی تمنا یہ ہے کہ یہ گھر ابوعبیدہ ابن جراح ،معاذ بن جبل اور حذیفہ بن یمان (رضی اللہ عنہم) جیسے انسانوںسے بھرجائے اورمیںانھیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت کے مختلف کا موں میں استعمال کروں ۔
پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ مال حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اورلے جانے والے سے فرمایا: دیکھنا وہ اس مال کو کس مصرف میں لاتے ہیں۔ حضرت حذیفہ نے وہ تمام مال لوگوں میں تقسیم کردیا ۔پھر حضرت عمر بن خطاب نے چارسو دینار ایک دوسری تھیلی میں ڈالے اوراپنے خادم سے کہا :یہ ابوعبیدہ ابن جراح کے پاس لے جاﺅاوران کے سپرد کرنے کے بعد گھر میں تھوڑی دیر کے لیے کسی کام میں مشغول ہوجانا اوردیکھنا کہ وہ ان دیناروں کا کیاکرتے ہیں۔ وہ غلام اُن کے پاس پہنچا اورکہا ،کہ امیر المومنین فرمارہے ہیں کہ انھیں اپنے استعمال میں لائیے ۔انھوںنے کہا:اللہ تعالیٰ انھیں صلہ عطافرمائے اوران پر رحم فرمائے پھر فرمایا :اے کنیز !ادھر آﺅ ،یہ سات دینار فلاں کو دے آﺅ ،یہ پانچ دینارفلاں کے پاس پہنچادو۔اسی طرح انھوںنے سارے دینار تقسیم کردیے ،خادم نے واپس آکر ساری روداد حضرت عمر سے کہہ سنائی انھوںنے فرمایا :اتنے ہی دینارمعاذ بن جبل کو دے آﺅاوردیکھوکہ وہ کیاکرتے ہیں،وہ غلام حضرت معاذبن جبل کے پاس پہنچااوردینار اُن کے حوالے کیے انھوںنے بھی دعاکے بعد وہ دینار لوگوں کے پاس ہدیةً پہنچانے شروع کردیے ۔اتنے میں اُنکی اہلیہ آگئیں ،انھوںنے کہا :اللہ کی قسم!اس وقت ہمارے پاس بھی کچھ نہیں ،ہمیں بھی کچھ دیں ۔تھیلی میں صرف دودینار بچے ہوئے تھے وہ آپ نے اہلیہ کی طرف لڑھکادیے ۔حضرت عمر تک یہ خبر پہنچی تو بہت خوش ہوئے ،فرمایا:یہ سب آپس میں بھائی بھائی ہیںاورایک جیسے مزاج کے حامل ہیں،جیسا کہ میںنے تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا ۔انکی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ مال دوسروں پرخرچ کرتے ہیں۔(طبرانی،بخاری فی التاریخ الصغیر)