جمعة المبارک ‘ 3محرم الحرام ‘ 1435ھ ‘ 8 نومبر2013ئ

08 نومبر 2013

امداد نہ ملی تو پیٹ پر پتھر باندھ کر بھاشا ڈیم بنائیں گے : احسن اقبال !
کالا باغ ڈیم کے نام سے خدا جانے کیوں ہمارے حکمرانوں اور بعض سیاسی جماعتوں کو موت پڑتی ہے کہ جیسے ہی کہیں سے کالا باغ ڈیم کا تذکرہ ہوتا ہے انکے ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں، زبانیں تالو سے لگ جاتی ہیں، سانس اکھڑنے لگتی ہے، آنکھیں پتھرا جاتی ہیں اور جی چاہتا ہے کہ انکے سرہانے بیٹھ کر سورة یٰسین پڑھی جائے۔ اگر یہی جذبہ ایمانی‘ قومی غیرت کا مظاہرہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے کیا گیا ہوتا تو یہ چند زر خرید مخالفین کب کے دم توڑ چکے ہوتے اور یہ ڈیم بن چکا ہوتا اور آج جو ہم پانی، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں ادھ موئے ہو چکے ہیں یہ سب کچھ نہ ہوتا مگر لالٹین اور ہتھوڑا گروپ سے ڈر کر ہمارے حکمرانوں نے 16 کروڑ عوام کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں، یہ دونوں نشان والے واقعی ہمیں اس دور میں لے گئے جب ہمارے آباﺅ اجداد ہتھوڑے سے لکڑیاں کاٹ کر رات کو لالٹین جلا کر زندگی گزارتے تھے، اب بھی وقت ہے ....
اُٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
ہمیں کمر باندھ کر کالا باغ ڈیم تعمیر کرنا چاہئے جس کے بعد کسی کو پیٹ پر پتھر نہیں باندھنا پڑے گا، کھیتوں کو پانی ملے گا، عوام کو بجلی ملے گی، مزدور کو روزگار ملے گا اور ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہو گا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
نریندر مودی فاشٹ ہندو قوم پرست مسلم کش فسادات میں ملوث تھا : بھارتی وزیر !
لگتا ہے جے رام رمیش کی زبان میں بھگوان بول رہا ہے تبھی تو اتنا کھرا سچ انکے منہ سے نکل رہا ہے۔ نریندر مودی کو انہوں نے ہٹلر اور اسکے جرائم کو نازی جرائم قرار دیا ہے۔ انکے الزام میں ذرا بھر بھی شک نہیں کیونکہ گجرات میں جو کچھ ہُوا اس نے تو واقعی نازی دور کی یاد تازہ کر دی تھی۔ مسلم کش اقدامات میں گرچہ کانگرس کا ریکارڈ بھی خاصا خراب ہے مگر بی جے پی کا تو بالکل ہی ”خانہ خراب“ لگتا ہے۔
کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہندی مسلمان یکجان ہو کر اپنا نفع و نقصان سامنے رکھ کر اپنی نئی جماعت بنا لیں یا پہلے سے قائم کسی پارٹی کو اپنی نمائندگی کا حق دیکر اسکے ساتھ ہو جائیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو پھر 22 کروڑ مسلم ووٹر بھارت کے اندر ایک نئے دور کا آغاز کریگا جس کے بعد کسی کو مسلمانوں کو زندہ جلانے یا گاجر مولی کی طرح کاٹنے کی ہمت نہیں ہو گی بلکہ ووٹوں کے اس بھاری خزانے کو حاصل کرنے کیلئے کیا کانگریس کیا بی جے پی سب ترلے منتیں کرینگے اور اگر دیگر دلت اور چھوٹی جماعتیں بھی ساتھ مل گئیں تو ہر آنیوالی حکومت میں اس اتحاد کا حصہ بھی بقدرِ جُثہ ہو گا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
شیخوپورہ میں چھٹی بچی پیدا ہونے پر شوہر نے بیوی کو 10 دن کی بیٹی سمیت قتل کر دیا !
لوگ قیامت سے ڈرتے بھی ہیں اس کا انتظار بھی کرتے ہیں مگر ہمارے ملک میں قیامت کا کوئی ایک روز معین نہیں رہا، آئے روز طرح طرح کی قیامتیں گزر جاتی ہیں اور ہم سخت جان پتھر دل لوگ خاموشی سے یہ قیامتیں سہہ جاتے ہیں۔ کبھی یہ قیامت کسی ماں کی اپنی 3 بیٹیوں کے ساتھ نہر میں کودنے کی شکل میں، کہیں کسی ماں کی اپنے بچوں کے ساتھ ٹرین کے آگے کودنے اور کہیں باپ کے ہاتھوں بیٹی کے پیدا ہونے پر ماں بیٹی کے قتل کی شکل میں آئے روز برپا ہوتی ہیں۔ اب ”روئیے کس کس کو اور کس کس کا ماتم کیجئے“ والی کیفیت چارسُو چھائی ہوئی ہے۔ حکمران عوام کے اُن مسائل سے لاتعلق ہیں جن کی وجہ سے یہ سانحات آئے روز ہمارے قلب و نظر کو چھلنی کرتے رہتے ہیں کیونکہ انہیں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی نامی بلاﺅں سے کبھی پالا نہیں پڑا، یہ وہ بلائیں ہیں جو صرف اور صرف غریب عوام کے گھروں کو تاکتی ہیں اور انہیں چُن چُن کر نشانہ بناتی ہیں، جن کی مثال پہلے ہی سلطان باہوؒ کے اس شعر کی طرح ہے ....
اڈی مار اُڈا نہ باہو
اسی آپے اُڈن والے ہُو
کوئی ماں یا باپ اتنے سنگدل نہیں مگر حالات و واقعات انہیں اتنا مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ خود اپنے خرمن ہستی کو جلا دیتے ہیں اور اسکے ذمہ دار صرف اور صرف ہمارے یہ صاحبِ حیثیت اور ذی جاہ صاحبان اقتدار ہیں جو فرعون بنے والدین کے ہاتھوں بچوں کے اس قتل عام پر خاموش ہیں اور بے شرمی کی حد تک ڈھٹائی کے ساتھ اپنے منہ سے ملک کو اسلامی اور فلاحی مملکت بنانے کے دعوے کرتے پھرتے ہیں جبکہ اسلام میں تو دریا کے کنارے بھوکے کتے کی موت کا ذمہ دار بھی حاکم وقت ہوتا ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
نقلی بالوں کی وجہ سے میرے دوست کا دماغ خراب رہتا ہے : سعید غنی !
اگر یہ بات درست ہے تو پھر نقلی دانتوں کی وجہ سے کئی دوستوں کی زبان، خضاب لگانے سے کئی لوگوں کی نیت اور چشمہ لگانے سے کئی لوگوں کی نظر خراب ہوتی ہو گی اور سٹنٹ ڈالنے سے کئی دوستوں کے دل بھی بے ایمان ہو سکتے ہیں۔ بڑے کہتے ہیں کہ مذاق اور بدتہذیبی میں تھوڑا سا ہی فرق ہوتا ہے جہاں لائن کراس ہوئی معنی بدل جاتے ہیں اور اگر جواب بھی ویسا ہی آ جائے تو پھر بدمزگی اختلافات میں بدل جاتی ہے، اس لئے کسی نے کہا ہے ....
شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر ہیں پھینکتے
دیوار آہنی پہ‘ حماقت تو دیکھئے
سیاستدانوں میں طنز و مزاح چلتا رہتا ہے اور اس پر اُلجھنے جھگڑنے والی یہ مخلوق اکثر سرشام محافل خاص میں ہم پیالہ و ہم نوالہ نظر آتی ہے اور تمام تلخیاں ہنسی میں اڑائی جا رہی ہوتی ہیں۔ یہ مخلوق بیچارے عوام کے غم میں بڑے بڑے ہوٹلوں میں پُرتکلف مہنگے ڈنر نوش فرماتی ہے اور صبح اخبارات، ٹی وی میں عوام کی حالت زار پر آنسو بہاتی نظر آتی ہے۔ یہ بظاہر چپقلش تو سیاسی میدان گرم رکھنے اور اخبارات و میڈیا میں اِن ہونے کیلئے ہوتی ہے ورنہ اس وقت ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت ”فارغ البال“ ہے۔ رہی بات عقل کی اور دماغ کی تو انکے پاس ہے ہی کہاں اگر ذرا سی بھی ہوتی تو عوام آج اس بُرے حال میں نہ ہوتے اور نہ ملک کی یہ حالت ہوتی۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭