ریاست یا سیاست

08 نومبر 2013

حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں ایک عجیب مناظرہ شروع ہو چکا ہے۔ طالبان کی ساری درندگیوں کے باوجود بدقسمتی سے پاکستان میں ایک خاص طبقہ ان دہشت گردوں کی سوچ سے حیران کن ہمدردی رکھتا نظر آتا ہے۔ وہ طالبان کی قتل و غارت کی کھل کر مذمت کرنے کو تیار نہیں اور انسانیت کے ان قاتلوں کی ہلاکتوں کو شہادت کہنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ صرف اس لئے کہ ان کی ہلاکت امریکہ جیسی پاکستان دشمن طاقت کے ہاتھوں ہوئی اور ان کے خیال میں اگر امریکہ کے ہاتھوں کتا بھی ہلاک ہو جائے تو اس کو شہید کہنا جائز ہے۔ یہ تو ایک طرف کی کہانی ہے۔
دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ طالبان کے ہاتھ بے گناہ پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ان کے قائد حکیم اللہ کو اگر امریکہ نے ڈرون مار کر ہلاک کر دیا تو ہمیں امریکہ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ اس میں ناراضگی کی کون سی بات ہے۔ اپنی قبائلی پٹی پر چونکہ ہمارا کوئی کنٹرول نہیں اس لئے امریکہ کو یہ حق حاصل ہے کہ بے شک ہمارے قبائلی علاقے میں گھس کر ان لوگوں کو ہلاک کر ڈالے جن پر اس کو شک ہے کہ وہ امریکی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں نے اس کی اجازت بھی دے رکھی تھی۔ یہ دونوں انتہائی نقطہ نظر ہیں جو درست نہیں۔ دانشمندی بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں حقائق کی طرف اشارہ کرتی ہے وہ کچھ یوں ہیں۔
پاکستانی طالبان نے بے گناہ بوڑھوںاور خواتین کو بے رحمی سے ہلاک کرکے اور افواج پاکستان کے سپاہیوں کے گلے کاٹ کر ایسے انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں جن کی حالیہ انسانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ بقول وزیر داخلہ ان طالبان کے 50 سے 70 کے درمیان مختلف گروپ ہیں جن میں صرف تقریباً 16دھڑے موثر ہیں۔ ان میں مذہبی انتہا پسند، جرائم پیشہ افراد اور بیرونی طاقتوں سے ڈالرز حاصل کرکے پراکسی جنگ لڑنے والے سارے لوگ شامل ہیں۔ ان لوگوں کی ہلاکت کو شہادت کا رتبہ دینا شہید کے جلیل القدر مقام کی توہین ہے۔ ان لوگوں نے مسجدوں، مزاروں، جنازہ گاہوں، گرجا گھروں اور ریاستی اداروں پر حملے کرکے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کو تہہ تیغ کیا۔ بینظیر بھٹو، لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ، میجر جنرل نیازی اور بہت سارے معصوم شہری اور بے گناہ ارکان پارلیمنٹ ان کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ انہوں نے ہمارے اربوں ڈالرز کے اواکس جہاز گھات لگا کر بیرونی طاقتوں کی GPS سے رہنمائی اور سراغ رسانی سے زمین پر تباہ کر دئیے۔ مختصراً یہ کہ پاکستان کی ریاست سے نبرد آزما ان بیرونی ایجنٹوں کے جرائم تو بالکل ناقابل معافی ہیں۔
لیکن اس ساری صورتحال کے باوجود امریکی ڈرون حملے سے ان کی ہلاکت پر حکومت پاکستان کو اعتراض ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ نیوزی لینڈ سے لیکر کینیڈا تک کوئی ملک اس کی اجازت نہیں دیتا۔
اس کی چند بہت ہی اہم وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ میرے کنبے میں اگر کوئی فرد باغی ہو جائے تو اس کو بہترین حکمت عملی سے راہ راست پر لایا جا سکتا ہے۔ اگر میرا پڑوسی یا محلے یا کوئی اور فرد میرے گھر کی چار دیواری پھلانگ کر اس کو قتل کر ڈالے تو میں ضرور احتجاج کروں گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ دوسرا یہ کہ دنیا کا کوئی قانون مشتبہ یا مشکوک شخص کو مارنے کی یا قتل کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایک قاتل کو بھی مقدمہ چلائے بغیر پولیس اگر قتل کر دے تو یہ ماورائے قانون حرکت ہو گی جس کی وجہ سے ہلاک کرنے والے پولیس آفیسر پر قتل کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ کچھ عشرے پہلے پاک فوج کے ایک میجر کومشکوک افراد کے قتل پر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔ ڈرون حملے کے خلاف تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر آٹھ یا دس ہزار بھٹکے ہوئے درندوں میں سے آپ ایک لیڈر کو ہلاک بھی کر دیتے ہیں تو دوسرا اس کی جگہ لے لے گا۔ بیت اللہ محسود کی ہلاکت نے ہمارے مسائل میں کمی کرنے کی بجائے اضافہ کیا ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ امریکی ڈرون حملے نے حکیم اللہ محسود کو قتل نہیں کیا بلکہ اس حملے نے امن کے لئے مذاکرات پر بم مارا ہے۔ اس لئے جہاں ریاست کے خلاف اعلان جنگ کرنے والوں کو آہنی ہاتھوں، لیکن حکمت اور بصیرت سے handle کرنا ضروری ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ بیرونی طاقتوں کو ہماری سرزمین پر پاکستانی ملزمان کو عدالتی کارروائی کے بغیر ماورائے قانون قتل کرنے کی اجازت دینا کسی لحاظ سے بھی ملکی مفاد میں نہیں۔ یہ کام ہم نے ملکی قوانین کی روشنی میں خود کرنا ہے۔ دہشت گرد ضرور دہشت گردی کرے گا لیکن اس کے جواب میں مہذب ریاستیں دہشت گردی نہیں کرتیں۔ یہ بات امریکہ نہیں سمجھ رہا اور ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ مغربی مصنف Jerrmy Scahill کی bestseller کتاب کا عنوان ہے:
"Dirty Wars. The World is a battle field
”یعنی دنیا گندی جنگوں کا میدان بن چکا ہے“
اس کتاب میں یہ کہا گیا ہے کہ امریکہ نے ایک گلوبل سرویلینس سٹیٹ بنا رکھی ہے جس میں تقریباً 35 بین الاقوامی چوٹی کے قائدین کے ٹیلی فون ٹیپ ہو رہے ہیں جن میں امریکہ کے اتحادی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کہا گیا کہ امریکہ کے پاس ایک Kill List ہے اور بین الاقوامی قتل و غارت کے لئے احکامات صادر کرنے والا ہیڈ کواٹر وائٹ ہاﺅس میں قائم ہے۔ امریکی صدر نے سی آئی اے کی معاونت سے ڈرون جہازوں کی ایک الگ فورس بنا رکھی ہے جس کا کمانڈر انچیف سی آئی اے کا سویلین سربراہ ہے جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک آفیسر Ban نے کہا” ڈرون حملوں کی وجہ سے نئی نسل بے راہ روی کا اور انتہا پسندی کا شکار ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے آفیسر کے مطابق ایک ڈرون حملہ تقریباً 40 سے 60 نئے امریکہ کے دشمن پیدا کرتا ہے۔ کتاب کا مصنف کہتا ہے کہ 9/11 سے قبل امریکہ کی چند Rogue states پر توجہ مرکوز تھی لیکن اب 9/11 کے بعد امریکہ خود روگ سپر پاور بن گیا ہے.
قارئین پاکستان کی اس مشکل ترین گھڑی میں حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم بکھر یا بٹ جانے کی بجائے اکٹھے اور یکجا ہو جائیں اور اندرونی اور بیرونی خطرات کے خلاف یکسوئی کے ساتھ بحیثیت ایک مضبوط قوم کے کھڑے ہوں۔ حکومت اور سارے اہل پاکستان کا مدعا ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ اس بڑے مقصد کے حصول کے لئے راستے یا حکمت عملیاں مختلف ہو سکتی ہیں لیکن مدعا ایک ہی ہے۔ جس پر کسی کو شک نہیں۔ اس لئے حکمت عملی پر جھگڑنے کی بجائے ہماری نگاہیں مقصد یا مدعا پر مرکوز رہنی چاہئیں اور منتخب عوامی حکومت کو اپنی بصیرت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہئے۔ ریاست کو خطرات سے بچانے کے لئے سیاست کو بالائے طاق رکھنا ہی دانشمندی ہے کیونکہ ریاست کے وجود کے بغیر سیاست کا کوئی تصور نہیں۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...