نیپرا کی جادو گری اور بے بس عوام

08 نومبر 2013

قانون کی حکمرانی کا مقصد ایک ایسے معاشرے کا قیام ہے جس میں ہر انسان کو ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوں لیکن پاکستان میں پہلی بار جمہوری عمل کو بلڈوز کرنے کی روایت نے ایسی انارکی کو جنم دیا جس سے قانون کی حکمرانی خواب بن کر رہ گئی۔اقتدار پرست حکمرانوں نے نا اہل خوشامدی ٹولہ کی سرپرستی کی۔ چنانچہ ادارے تباہ ہوتے گئے، جی بھر کر ملکی وسائل کو لوٹا گیا۔توقیر صادق تو اوگرا کا صرف ایک کردار تھا جس نے 84ارب روپے کی کرپشن کی۔اگر تحقیق کی جائے تو درجنوں نہیں سینکڑوں توقیر صادق برآمد ہوں گے جو ملک کی اساس کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ پی آئی اے،ریلوے،کراچی سٹیل ملز اور کراچی پورٹ جیسے اداروں میں نیپرا بھی ہے جو بطاہر اتھارٹی کہلاتی ہے لیکن اس کے ذریعے قوم کو تگنی کا ناچ ہی نہیں چھٹی کا دودھ بھی یاد دلایاجارہا ہے۔حکمرانوں کی عیاشیوں کی قیمت قوم کو چکانا پڑتی ہے۔ گذشتہ ماہ حکومت کی طرف سے بجلی کے نرخوں میں بے پناہ اضافے کا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے از خود نوٹس لیا کہ کیا 2روپے یونٹ کی بجلی 16 روپے میں کیسے بیچی جا رہی ہے ۔ نیپرا بتائے بجلی کے ریٹس کس طرح بڑھائے گئے۔عدالت نے نیپرا کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ” دیکھیں گے قیمتوں کا تعین یکطرہ طورپر تو نہیں کیا گیا اور کیا عوام کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا۔جبکہ 6نومبر کو ہی اپنی کارروائی کے دوران نیپرا کا نوٹیفکیشن مشکوک قرار دیدیا۔مقتدر اداروں اور سپریم کورٹ کے درمیان رسہ کشی عدلیہ کی بحالی کے بعد سے جاری ہے۔ کرپٹ مافیا حیلے بہانوں سے انصاف کے تراز و کو ڈانوا ڈول کرنے کے فن سے آشنا ہے۔توقیر صادق اور آصف زرداری ،رینٹل پاور کے کیسز میں جو حربے استعمال کئے گئے وہ سب کے سامنے ہیں اگر نیپرا کے 5سالہ ریکارڈ کا مطالعہ کیاجائے تو سر پیٹنے کو دل چاہتا ہے۔عوام کو تو بیوقوف سمجھاجاتا ہے عدلیہ کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی جاتی ہے۔
 پیپلز پارٹی کا دور کرپشن کا بد ترین دور کہلاتا ہے۔اس عرصہ میں لوڈشیڈنگ بڑھی، بجلی کے ریٹس میں بھی زبردست اضافہ کیا گیا۔یہ سب نیپرا کے تعاون سے ہوا جس سے صنعتی پہیہ جام ہوا۔کاروبار تباہ ہوئے بیروزگاری بڑھی، خودکشیوں میں اضافہ ہوا۔ سارا ملبہ پرویزمشرف کے سر منڈھ دیا گیا۔نیپرا کے ریکار ڈ کے مطابق 2008-9ءمیں 94.647 ارب یونٹ پیدا کئے گئے۔اس کے مقابلہ میں 2009 -10ءمیں 99.766 ارب،2010-11اءمیں 100.582 ارب اور 2011-12ءمیں 99.664 ارب یونٹ پیدا کیے گئے۔ یعنی 2008ئ کے مقابلہ میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔ لیکن اس کے باوجود عوام کو شدید لوڈشیڈنگ کا عذاب سہنا پڑا کیوں؟ یہ سوال سپریم کورٹ کو ضرور کرناچاہئے۔
KESC کے ساتھ پچھلی حکومت کا ہی نہیں موجودہ حکومت کا پیار بھی کچھ گہرا نظر آرہا ہے۔ 2007-8ءکے مقابلہ میں 2011-12ءمیں KESC کی پیداواری صلاحیت میں 750 میگاواٹ کا اضافہ ہوا یعنی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اس کے باوجود 577 ملین یونٹ کم پیدا ہوئے یہ بد ترین کارکردگی تھی اس کے باوجود نیشنل گرڈ سے 650 میگا واٹ یعنی تقریباً5.5 ارب یونٹ سالانہ مہیا کیے گئے۔
 اس طرح NGPS ملتان سے 37.82 روپے GTPS کوٹری سے 50.44 روپے پسنی اور پنجگور کے پاور ہاﺅسز سے تقریباً 40 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی لی گئی۔ GENCOs سے بجلی کے حصول کا ریٹ ڈیزل پاور ہاﺅسز سے 24.47 روپے اور فرنس آئل سے 18.54 روپے فی یونٹ تھا۔ DESCOs کے HSD اور FOکے بجلی گھروں سے بالترتیب 18.89 روپے اور 15.94 روپے فی یونٹ کے حسا ب سے بجلی لی گئی۔ اس کے مقابلہ میں ہائیڈل پاور کے ذرائع سے بجلی کی قیمت 2010-11ءمیں 27 پیسے فی یونٹ اور 2011-12ءمیں 16پیسے فی یونٹ تھی۔اندازہ کریں آج بھی ہائیڈل ذرائع سے تمام ٹیکسز سمیت بجلی 50پیسے سے بھی کم ریٹ میں دستیاب ہے۔ پھر کیا ہمیں پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ دیگر ذرائع سے بجلی حاصل کریں ۔ ہائیڈل کے بعد کوئلہ سے تقریباً 3.50 روپے فی یونٹ بجلی مہیا ہورہی ہے ۔سندھ اور بلوچستان میں کوئلہ کے وسیع ذخائر ہیں لیکن اس کی طرف توجہ دینے کے بجائے تیل کے مہنگے بجلی گھروں سے بجلی حاصل کی گئی۔اب بھی ڈاکٹر ثمر مند مبارک تھر کے کوئلہ سے 4روپے فی یونٹ سے کم لاگت میں بجلی اور 40 ڈالر فی بیرل ڈیزل مہیا کرنے کی نوید دے رہے ہیں لیکن افسوس امپورٹڈ کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کی بات کی جارہی ہے۔
سپریم کورٹ نے مزید کہا جہاں بجلی چوری ہوتی ہے اور جو بل ادا کرتے ہیں، دونوں جگہ قیمت برابر ہے جبکہ حکومت بجلی کے بقایا جات کی وصولی کرنے کے بجائے سبسڈی کے نام سے اپنی جیب سے ادائیگی کرتی ہے۔ صوبوں اور KESC میں بجلی کے Losses کا تناسب اس طرح ہے ؛پنجاب میں 12.97% سندھ میں 33.45% خیبر پی کے 35.97%، بلوچستان میں 20.87% اور KESCتقریباً33% اگر 10% لائن لاسز تصور کئے جائیں تو بقایا بجلی چوری کے زمرے میں آتے ہیں۔
 اگر بقایا جات کی بات کی جائے تو وفاقی حکومت کے اداروں کے ذمہ 5.266 ارب روپے فاٹا 23.788 ارب، آزاد کشمیر15.934 ارب اور KESCکے ذمہ 54.67 ارب روپے ہیں۔صوبائی محکموں کے ذمہ پنجاب میں 5.84 ارب، سندھ 19.79 ارب، خیبر پی کے 52.7 ارب اور بلوچستان کے صوبائی محکموں کے ذمے 6.2 ارب روپے ہیں اس طرح اداروں کے ذمہ کل رقم 194 ارب سے زائد بنتی ہے۔نیپرا بجلی کی ریگولیٹری اتھارٹی ہے۔اس سے انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بل وصول کرنے چاہئیں۔الیکٹرک سپلائی کمپنیوں سے میگا واٹ کے حساب سے بلنگ کی جائے۔اگر KESC اپنے نصف پاور ہاﺅسز بھی چلائے تو ڈیمانڈ سے زائد بجلی پیدا کرسکتی ہے۔بجلی چوری کرنے والوں اور بل نہ دینے والوں سے پوری وصولی کی جائے۔سبسڈی کی لعنت از خود ختم ہوجائے گی۔