َََََ” لولی لنگڑی جمہوریت ہی کیوں ؟“

08 نومبر 2013

علم سیاسیات کی کتابوں میں جمہوریت کی لا تعداد تعریفیں پڑھیں مگر جسے سب سے زیادہ پذیرائی ملی وہ ابراہام لنکن سے منسوب ہے:
 ”The Government of the people,By the people and For the people“ ۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے وقت ہمارے قائدین نے بھی اسی طرزِ حکومت کا انتخاب کیا اور نوزائیدہ مملکت میں اسے ترمیم شدہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے ذریعے رائج کر دیا گیا۔ مارچ 1949میں قرارداد مقاصد ہماری آئینی تاریخ کا سنگِ میل بنی اور ہم جمہوریت کے سفر پر روانہ ہو گئے۔     
چھیاسٹھ سال کا سفر عجیب اور کٹھن رہا۔ ہر قدم پر جمہوریت کی تمنّا کی مگر گوہر مقصود کیسا ہوگا سمجھ ہی نہ سکے۔ جب بھی قریب پایا تو خودہم نے ہی اس کا حلیہ بگاڑ دیا۔ سوچیںہم نے جمہوریت کے کتنے ماڈل آزمائے ہیں ِ؟آغاز میںفیوڈل جمہوریت‘ پھر بیوروکریٹک جمہوریت‘ ایوب کی بنیادی جمہوریت ‘ بھٹو کی بے قابو جمہوریت‘ ضیا ؑکی مذہبی جمہوریت‘ گیارہ سال کیلئے ٹاس جمہوریت‘ مشرف اور چوہدریوں کی رنگیلا جمہوریت اور پھر مفاہمت کے نام پر بندر بانٹ جمہوریت۔ کسی دور میں بھی کوئی ڈکٹیٹر دکھائی نہیں دیتا کیونکہ سب کے سب جمہوریت کے شیدائی ہونے کے دعوے دار تھے۔اصل میں کیا تھا؟ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اگر عملاّ ان ادوار کی جمہوریت کے خدوخال کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہماری جمہوریت ہو بہو پنجابی جُگنی لگتی ہے جسے آج تک کسی نے نہیں دیکھا مگر یہ صدیوں سے قائم ہے۔ ہر گانے والا اپنی Suitability کیمطابق کبھی اسکی ٹانگیں لگا لیتا ہے کبھی اسکے دھاگے نکال لیتا ہے‘ کبھی اسے برق رفتاری سے دور دراز پہنچا دیتا ہے اور کبھی وہ اللہ اللہ میں مصروف پائی جاتی ہے۔ اس کا عدمِ وجود جاننے کے باوجود لوگ اسکے ذکر پر جھوم رہے ہوتے ہیں۔با لکل اسی طرح جمہوریت کی ہر بگڑی شکل بھی انہیں مسحور کرتی آئی ہے۔
آج کل پاکستان میں لولی لنگڑی جمہوریت کو تسلیم کئے جانے کا نظریہ غالب ہے حالانکہ نئی نسل میں صرف سالم اور مضبوط جمہوریت کو لانے اور اس کا تحفظ کرنے کا جذبہ بھرنا چاہیے۔لنگڑی توایک ٹانگ والی کو کہتے ہیں اورلولی جس کے ہاتھ پاﺅں نہ ہوں صرف زبان چلتی ہو۔ آخر ہم اس ہئیت والے نظریے کو کیوں تسلیم کریں؟۔ ذہن میں کئی سوال اٹھتے ہیں جس کا میں نے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی اور اب قارئین سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
لنکن کے مندرجہ بالا قول کی لمبی چوڑی تشریح کرنے کی بجائے ایک عام فہم مثال پیش کرتا ہوں جو کہ واٹر سپلائی سسٹم کی ہے۔جس طرح پہلے مرحلے میں زمین سے پانی کھینچا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں اسے ٹینکی میں بھرا جاتا ہے اور تیسرے مرحلے میں حسبِ ضرورت اسی زمین پر لوگوں اورکھیتوں کو سیراب کرنے کیلئے دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جمہوریت میں بھی پہلے مرحلے میں عوام سے انکی طاقت جو ووٹ اور ٹیکس ہیں‘ کو حاصل کیا جاتا ہے۔ یعنی حکومت کو عوام نے بنا دیا (Government of the people) ۔ دوسرے مرحلے میں عوامی نمائندوں کے ہاتھوں حکومتی ٹینکی کو بھرکر کچھ اس سسٹم کو چلانے کیلئے رکھ لیا جاتا ہے اور باقی سارا آئینی واداراتی ذریعوں سے عوام کو اپنی فلاح کیلئے حسبِ دستور لوٹا دیا جاتا ہے (Government by the people) ۔ تیسرے مرحلے میں عوام اپنے ہاتھوں سے اپنے فلاح کا کام کرتے ہیںGovernment for the people) ( ۔ ہمارے ہاں کیا ہوتا آیا ہے‘ اسے سمجھنے کیلئے ہمیں فوجی حکمرانوں اور سیاستدانوں کی حکومتوں کو علیحدہ علیحدہ دیکھنا پڑیگا۔ فوجی حکمران اپنی غیر آئینی سیڑھی لگا کر ٹینکی پر چڑھ جاتے ہیں جسے نامراد عاشقان ِسیاسی قیادت نے مضبوطی سے تھام رکھا ہوتا ہے پھر انکے نقشِ قدم پریہ لوگ بھی اوپر جا کر آئینی والو کنٹرول کرتے مگر جمہوریت کی اذانیں دیتے ہیں۔ یہ گروہ اپنے آپ کو قائم رکھنے کیلئے بلدیاتی نظام کے ذریعے عوام کی حِس خود حکمرانی کو سیراب رکھتے ہیں جس سے کئی سال پر سکون گذر جاتے ہیں۔ اوپر جانے کے عمل کومعطل اور نیچے فائدہ پہنچانے کے عمل کو قائم رکھ کر یہ جس جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اسے ہم آسانی سے ”لنگڑی جمہوریت“ کہہ سکتے ہیں۔
سیاستدانوں کی حکومت میں ہم نے دیکھا ہے کہ اوپر جانے کا عمل بہرحال قائم کیا جاتا ہے بے شک کتنا ہی دھاندلی زدہ کیوں نہ ہو۔ اوپر جا کر وہ سیڑھی بھی پانچ سال کیلئے اٹھا لیتے ہیں اور نیچے فلاح پہنچانے والے پائپ (بلدیاتی ادارے و نظام) بھی بند کر دیتے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے حکومتی ٹینکی کے وسائل کچھ اس طرح اوور فلو کر وائے جاتے ہیں کہ سب کچھ انکے اپنے Local Scoundrals کی جھولی میں جا گرے۔ گویا ان کو غیر قانونی طریقے سے قانونی وسائل اور طاقت پر قبضہ دیا جاتا ہے اور عوام کو پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ان گماشتوں کے پاس جانا پڑتا ہے۔ایک طرف بلدیاتی اداروں کے ذریعے سے حکومت میں شمولیت سے محرومی اور دوسری طرف نمائندگان کا پہنچ سے باہر رہنا دونوں ٹانگوں سے مفلوج ہونے کے مترادف ہوتا ہے یعنی ” لولی جمہوریت“ جہاںاستحصالی گروہ وسائل کو اپنی مرضی سے استعمال کر کے عوام کی زندگی اجیرن کر دیتا ہے۔ ہاتھ پاﺅں سے محروم جمہوریت کی فقط زبان زندہ ہوتی ہے جو بھاشن دینے اورعالمی گداگری کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ لوگ اس صورتحال سے گھبرا کرباہم ٹکرانے‘ بے حسی کے روّیوں اور جرائم میں ملوث ہونے سے ایک ایسا معاشرہ قائم کر دیتے ہیں جس پر ہر قسم کی یلغار آسان ہوجاتی ہے۔ آج کل ہم اسی طرح کی کیفیت سے گذر رہے ہیں۔وطنِ عزیز فوجی حکمرانوں کی لنگڑی اور سیاستدانوں کی لولی جمہوریت سے زخم زخم منزلوں کی جانب تو بڑھ رہا ہے مگر معاشرتی نقاہت غالب آ رہی ہے۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے جب اسکے بیٹوں کو بے جھجک آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھامنا ہی ہوگا۔ لولی لنگڑی جمہوریت کے نظریہ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے لنگڑی کی بجائے تگڑی اور لولی کی بجائے لوّلی (Lovely) جمہوریت سے کم کچھ قبول نہیں ہوگا۔ اگر ہر زبان موجودہ لیڈرز‘ سسٹمز اور موجودہ اداروں وغیرہ سے اس دلدل سے نکلوانے کی امید نہیں رکھتی تو کیوں نہیں سوچا جاتا کہ مطلوبہ طاقت اب بھی اگر کہیں ہے تو وہ عوام ہیں۔عوام کو حکومت میں شریک کرنے کا پہلا قدم بلدیاتی نظام کا موثر کیا جانا ہے۔ جسے حکمران بحال کرنے کو تیار نہیں۔ کس طرح عدالت عظمیٰ اس کار خیر کے پیچھے پڑی ہوئی ہے اور کس طرح ہمارے سیاستدان حیلے بہانے کر کے‘ پانچ چھ سال تک معطل رکھ کر‘ آج بھی اس سے بدک رہے ہیں ۔یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ حالانکہ بلدیاتی ادارے دہشت گردی کی جنگ اور بڑھتے ہوئے جرائم میں بھی لا اینڈ آرڈر فورسز کیلئے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔چونکہ ان کی تر جیحات میں لولی جمہوریت ہی سرِ فہرست ہے لہذا جب تک کوئی عوامی پریشر نہ آیا یہ صاحبان ِاِقتدار چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ تک لیت و لعل سے کام لے کر آئندہ کیلئے اسے ٹھپ کرنے کا کوئی راستہ نکال لیں گے۔
دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ عوام کی حکومت میں شمولیت کے بغیر جمہوریت کا وجود ہی نہیں ہوتا مگر ہم عوام کے رول کو صرف طاقتوروں کیلئے ووٹ ڈالنے کی حد تک محدود کر کے اسے جمہوریت کہنے پر بضد ہیں۔ ہم نے جب بھی تبدیلی کا سوچا سکہ بند لیڈروں کے چہرے ذہن میں منڈلانے لگتے ہیں جس احساس سے ہمیں جان چھڑانی ہے جب عوام از خود اٹھیں گے تو لیڈر بھی انہیں سے ہی ابھر آئینگے ۔اگر ہم نے رہنمائی کیلئے جانے پہچانے استحصالی یا ناکام چہروں کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا تو ایک PUBLIC SUOMOTO سے ہی آئندہ کئی نسلوں کی کامرانی یقینی ہے۔
عشق کی اک جست نے طے کردیا قصّہ تمام
اس زمین و آسمان کو بے کراں سمجھا تھا میں