گیلانی، رحمن ملک، بابر اعوان دبائو ڈالتے رہے، قمر زمان نے تحفظ دیا: ظفر قریشی

08 نومبر 2013

اسلام آباد (نوائے  وقت رپورٹ + آن لائن) وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے ) کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل  اور این آئی سی ایل سکینڈل کی تحقیقات کے سابق انچارج ظفرقریشی نے کہا ہے  چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نہ ہوتے تو شاید میں آج زندہ بھی نہ ہوتا، رحمان ملک گھر بلا کر مجھ پر دبائو ڈالتے رہے، سابق حکومت میں واحد سابق سیکرٹری داخلہ قمر زمان چوہدری تھے جو کھل کر میرا ساتھ اور مجھے تحفظ دیتے رہے، سابق وزیراعظم گیلانی اور بابر اعوان نے بھی دبائو ڈالا۔ جمعرات کو ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے  انہوں  نے کہا  جب این آئی سی ایل سکینڈل کی تحقیقات شروع کیں تو ان پر شدید دباؤ تھا، ساری سابق حکومت ان کے پیچھے پڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایاجب وہ حج سے واپس آئے  تو انہیں پتہ چلا این آئی سی ایل سکینڈل اور میرے تبادلے کا معاملہ ایک بار پھر عدالت میں زیر غور ہے تو میں نے ضروری سمجھا اس پر بات کروں۔ انہوں  نے کہا سابق حکومت کے لوگ اوپر سے لیکر نیچے تک میرے خلاف تھے۔ رحمن ملک جو رول آف لاکی باتیں کرتے رہے وہ اپنے گھر پر بلا کر دبائو ڈالتے رہے۔انہوںنے انکشاف کیا سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے سابق ڈی جی ایف آئی اے ملک اقبال کوکہا آپ تفتیش مکمل کرنے کی رپورٹ میں لکھ کرجمع کرا دیں جس کے بعد ڈی جی ایف آئی اے نے تحقیقات مکمل ہونے کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تو اس پر سپریم کورٹ نے جب مجھ  سے پوچھا تو میں نے بتایا تفتیش مکمل نہیں ہوئی ، اس کے بعد ڈی جی ایف آئی اے ملک اقبال سپریم کورٹ میں معافیاں مانگتے رہے۔انہوں نے کہا  قمر زمان چوہدری نے اس کے دوران بھرپور تعاون کیااور مدد فراہم کی۔ انہوں نے کہا رحمن ملک نے انہیں گھر پر بلایا اورکہا تین آپشن ہیں ایک یہ  عمرے کیلئے ملک سے باہرچلے جاؤ اور ریٹائرمنٹ کے بعد واپس آؤ، دوسرا مونس الٰہی کے حق میں لکھو اور تیسرا  لکھ کر دے دو  تفتیش سے الگ ہوناچاہتے ہو۔ انہوں نے کہا سابق سیکرٹری داخلہ صدیق اکبرنے ایک ڈپٹی سیکرٹری سے کہہ کر ان کی معطلی کے احکامات جاری کرا دیئے حالانکہ اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کا اختیارتھا۔