جاوید ہاشمی کی توہین رسالت قانون سے متعلق بیان کی وضاحت

08 نومبر 2013

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جاوید ہاشمی نے ملی یکجہتی کونسل اور جمعیت علماء پاکستان کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کو ان کے خط کے جواب میں ٹیلیفون کر کے پارلیمنٹ میںتوہین رسالت قانون کے متعلق دئیے گئے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا میرے نزدیک حضور سرور دوجہاںؐ کی توہین کرنے والے کی سزا صرف اور صرف قتل ہے اس پر میرا ایمان ہے البتہ بعض لوگ اس قانون کو غلط استعمال کر کے اس کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کا ضرور تدارک ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا میرا تو عقیدہ ہے حج یا عمرہ پر جاؤں تو پہلے روضۂ رسولؐ پر حاضری دوں اور پھر حضورؐ کا وسیلہ لیکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری دوں تاکہ اس کے خاص لطف و کرم کا مستحق بن سکوں۔ پارلیمنٹ کے فلور پر بھی میں اسکی وضاحت کر چکا ہوں۔ صاحبزادہ زبیر نے کہا کہ آپکی وضاحت اور جذبات سے ملی یکجہتی کونسل کے آئندہ اجلاس میں شرکاء کو آگاہ کردوں گا مجھے یقین ہے کہ آپ کی اس وضاحت سے وہ ضرور مطمئن ہو جائینگے۔