بھتیجوں اور بھانجوں کی بھرتیاں بند کی جائیں، پورے ملک میں قائم مقام لگے ہوئے ہیں، چیف جسٹس

08 نومبر 2013

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) ملک بھر میں ہونے والی لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ ملک ایڈہاک ازم کے تحت نہیں چلایا جا سکتا۔ پورے ملک میں قائم مقام لگے ہوئے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا ایسا کیوں ہے۔ ہرممکن کوشش کی ہے کہ سرکار اپنے امور آئین و قانون کے تحت چلائے۔ ہر ادارے کا سربراہ قائم مقام ہونا انکشاف سے کم نہیں۔ کیا کل کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس بھی قائم مقام ہو گا۔ عدالت غیر قانونی اقدامات کو فروغ نہیں دے گی۔ اقرباپروری، بھتیجوں اور بھانجوں کی بھرتیاں بند کی جائیں، سینئر لوگوں کو باہر بٹھا کر جونیئر افسروں کو سیکرٹری لگایا ہوا ہے۔ حکومت کو فری ہینڈ شفافیت لانے کے لئے دیا، عدالت کے سامنے اور بھی آپشنز ہیں جوڈیشل آرڈر بھی جاری کر سکتے ہیں۔ چیئرمین نیپرا کی عدم تعیناتی میں وائس چیئرمین کام نہیں کر سکتا۔ نیپرا کے گذشتہ پانچ چھ ماہ کے اقدامات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ایڈہاک ازم کب ختم ہو گا؟ بجلی کے پرانے پلانٹس لگانے کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ پی ٹی اے، ایس ای سی پی، نیپرا، پی آئی اے و دیگر محکموں میں قائم مقام چیئرمین تعینات ہیں۔ قائم مقام چیئرمین کو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ وہ کل رہے گا کہ نہیں اس لئے وہ پائیدار پالیسی کے بارے میں سوچتا بھی نہیں۔ نیپرا صارفین کے حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے اگر میرٹ کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ صارفین کی جیب پر ہاتھ ڈالا جا رہا ہے۔ اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے کہا کہ چیئرمین نیپرا کی تعیناتی کے لئے حکام کو آگاہ کر دیا ہے اس حوالے سے کمیٹی کام کر رہی ہے۔ تعیناتی جلد عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ چیئرمین کے اختیارات قائم مقام چیئرمین استعمال نہیں کر سکتا اس کے اختیارات بطور ممبر تک محدود ہوتے ہیں۔ عدالت نے 1997ء سے لے کر 2013ء تک نیپرا میں تعینات ہونے والے چیئرمین کی تفصیلات طلب کر لیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس امیر مسلم ہانی پر مشتمل تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی تو درخواست گذار کے وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ نیپرا رول کے سیکشن 3 کے تحت چیئرمین نیپرا کی تعیناتی کے لئے متعلقہ شعبہ میں بیس سال کا وسیع تجربہ درکار ہوتا ہے جبکہ موجودہ چیئرمین نیپرا خواجہ نعیم قائم مقام چیئرمین ہیں۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز ایل تعینات کئے جائیں۔ کسی اہل شخص کو بطور چیئرمین تعینات کیا جا سکتا ہے۔ اس پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ چوکیدار پر چوکیدار نہیں بٹھایا جا سکتا اگر کوئی ڈھونڈے والا ہو تو ملک کی ہر گلی میں ایک قابل شخص موجود ہے، حکومت تحفظ پاکستان آرڈیننس راتوں رات لا سکتی ہے لیکن فیڈرل سروس ٹربیونل 2012ء سے تاحال غیر فعال ہے۔ اظہر صدیق نے کہا کہ یہ جوڈیشل ایکٹوزم ہے۔ حکومت بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے سبسڈی دینے کی مجاز ہے۔ اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ 7 اکتوبر کو چیئرمین نیپرا کو جوڈیشل ایکٹوزم کو ممبر نیپرا شوکت علی کنڈی نے خط لکھا کہ ایکٹوپاور پلانٹ کو اس طرح نہیں چلایا جاتا جس طرح سے نان ایکٹو پاور پلانٹ کو چلایا جاتا ہے۔ دوسری جانب مینٹیننس بروقت نہ ہونے کی وجہ سے فیول میں اضافہ ہوتا ہے۔ خراب شدہ پرزوں کو بروقت تبدیل نہ کرنے سے جنکوز کے اخراجات میں واضح اضافہ ہوتا ہے پانی والا تیل استعمال کرنے سے پلانٹ کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ جنکوز کی دیکھ بھال اس طرح سے نہیں کی جاتی جس طرح آئی پی پیز کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ عدالتی استفسار پر ایم ڈی پیپکو ضرغام اسحاق نے عدالت کو بتایا کہ کیپکو کی کارکردگی 39 فیصد، مظفرگڑھ کی کارکردگی 32 فیصد ہے۔ دوران سماعت عدالت نے 1997ء سے لے کر 2013ء تک نیپرا میں تعینات ہونے والے چیئرمین کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت مختصر وقفے کے لئے ملتوی کر دی۔ نیپرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 2 جون 2013ء میں خان لاشاری کو ایک ماہ کے لئے مستقل چیئرمین تعینات کیا گیا۔ بعدازاں وہ عہدے سے مستعفی ہو گئے جبکہ 2008ء سے 2012ء تک خالد سعید کو چیئرمین نیپرا مقرر کیا گیا اور اس کے بعد پانچ ماہ تک بغیر چیئرمین کے ادارہ چلتا رہا۔ اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ مستقل چیئرمین نیپرا کی جلد تعیناتی کے لئے حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔ اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ آئی پی پیز کو 2013ء میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 480 بلین ادا کئے گئے۔ لینڈ لاسز کو پورا کرنے کے لئے ٹیرف کو بڑھا دیا جاتا ہے۔ جنکوز 29 بلین روپے اور حکومتی ادارے 35 بلین روپے کے نادہندہ ہیں۔ پاک عرب اور فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی کی جانب سے ایڈووکیٹ خالد انور عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حکومت کی کوئی توانائی پالیسی ہے تو اس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 1989ء میں کھاد بنانے والی کمپنیوں کو گیس کی فراہمی کے بارے میں ایک پالیسی بنائی گئی لیکن ایس این جی پی ایل معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے، کھاد کمپنیوں کو صرف 12 فیصد گیس مل رہی ہے جبکہ فوجی فرٹیلائزر کو اس ماہ گیس فراہم ہی نہیں کی گئی جبکہ سی انی جی سیکٹر کو زیادہ مقدار میں گیس فراہم کی ج اتی ہے۔ سی این جی سیکٹر میں اکیس فیصد گیس ضائع ہو رہی ہے جبکہ کھاد سیکٹر میں یہ شرح صرف 0.5 فیصد ہے۔ دوسری جانب ترجیحات میں سی این جی پانچویں نمبر پر ہے جبکہ حکومت کی ترجیحات میں دوسرے نمبر پر ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ دور میں کھاد کی قیمت دبئی کے مقابلے میں پاکستان میں کم ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ 80ء کی دہائی میں پی آئی اے کا د نیا میں نام تھا لیکن اب سنا جا رہا ہے کہ حکومت اس کی نجکاری کے لئے سوچ رہی ہے۔ اخبارات میں روز چھپتا ہے کہ آج ایک اور جہاز اندر گراؤنڈ ہو گیا۔ اس پر خالد انور نے کہا کہ پی آئی اے کے پہلے چیئرمین ایئر مارشل (ر) نور خان تھے، یہ وہ دور تھا جس وقت پی آئی اے سب سے زیادہ کامیاب تھا۔ اس کے بعد طویل عرصے تک یہ ادارہ منافع بخش رہا، فری مارکیٹ ہر ایک کے لئے ہر جگہ ہونی چاہئے تخصیص کی بنیاد پر سپلائی نہیں ہونا چاہئے۔ چیف جسٹس نے کہا ہمیں بیوروکریسی کو الزام نہیں دینا چاہئے، ملک میں تبدیلی آ رہی ہے لیکن حکومت خود ایڈہاک ازم کو فروغ دے رہی ہے۔ بعدازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے چیئرمین نیپرا کا عہدہ خالی ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ پی ٹی اے، ایس ای سی پی اور نیپرا میں قائم مقام چیئرمین تعینات ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے استفسار کیا چیئرمین نیپرا کا عہدہ کب سے خالی ہے؟۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا آپ جواب دیں ایڈہاک ازم کب ختم ہو گا؟ تقرریاں اور بھرتیاں قابلیت کی بنیاد پر کیوں نہیں کی جاتیں؟ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ نسیم قائم مقام چیئرمین نیپرا ہیں اور وہ خواجہ آصف کے رشتہ دار بھی ہیں چیف جسٹس نے خواجہ نعیم سے استفسار کیا کہ کیا آپ قائم مقام چیئرمین نیپرا ہیں تو اس پر خواجہ نعیم نے کہا کہ جی ہاں میں قائم مقام چیئرمین نیپرا ہوں۔ جسٹس جواد خواجہ کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں خواجہ نعیم مستقل چیئرمین نیپرا ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی کہ آخر ملک بھر میں اداروں کو ایڈہاک ازم پر کیوں چلایا جا رہا ہے۔ کیوں مستقل تقرری نہیں کی جا سکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کے کام اگر عدالت نے کرنے ہیں تو پھر حکومت نے کیا کرنا ہے حکومت کس کام کی ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کی پٹیشن میں سپریم کورٹ نے تمام اہم اداروں کی تقرریاں کمشن کے ذریعے کرنے کا حکم دیا تھا، کمشن کے ذریعے تقرریاں کی جاری ہیں۔ اظہر صدیق کاکہنا تھا کہ لیسکو کا سربراہ میٹرک پاس، پیشے کے اعتبار سے وہ دکاندار ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اہل افراد کی کمی نہیں تقرریاں شفاف انداز میں کی جائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رشتہ داروں کو نوازنے کی روایت اب بھی چل رہی ہے۔ آئی این پی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ اہم ترین اداروں میں کل وقتی چیئرمین مقرر نہ کرنا آئین سے انحراف ہے۔ اسی طرح ادارے چلانے ہیں تو پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کی ضرورت پڑے گی۔ خواجہ آصف کیس میں قرار دیا تھا کہ رشتہ داروں کو نہ لگایا جائے۔ تقرری کا معیار صرف میرٹ پر ہونا چاہئے۔ حکومت نے عوام پر جتنے پہاڑ گرانے ہیں ایک بار گرا دے مگر اس کے نتائج سے آگاہ ہونا چاہئے۔ این این آئی کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے 1997ء سے اب تک کا نیپرا کا تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ نیپرا میں کب کب قائم مقام چیئرمین اور کب کب چیئرمین رہا اس بارے بھی مفصل رپورٹ پیش کی جائے۔ سرکاری اداروں کے اہم عہدوں پر بیٹوں، بھتیجوں اور بھانجوں کی تعیناتیاں کب تک چلیں گی؟ سینئرز کو باہر بٹھا کر جونیئر افسروں کو سیکرٹری لگایا ہوا ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے نیپرا کے مستقل چیئرمین کی بجائے قائم مقام چیئرمین کی تعیناتی پر برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ پی ٹی اے، ایس ای سی پی اور نیپرا میں قائم مقام چیئرمین تعینات ہے۔ قائم مقام چیئرمین کو یہ نہیں پتہ کہ وہ کل رہے گا یا نہیں۔ قائم مقام چیئرمین اہم فیصلہ بھی نہیں کر سکتا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے استفسار کیا چیئرمین نیپرا کا عہدہ کب سے خالی ہے؟ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا آپ جواب دیں ایڈہاک ازم کب ختم ہو گا؟ تقرریاں اور بھرتیاں قابلیت کی بنیاد پر کیوں نہیں کی جاتیں؟ بھرتیوں اور تقرریوں کو شفاف بنایا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کے کام عدالت نے کرنے ہیں تو پھر حکومت کس کام کی ہے، جتنے پہاڑ گرانے ہیں عوام پر گرا دیں۔ اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ آصف کیس کے فیصلہ کے بعد بہت سے اداروں کے سربراہ نہیں رہے، کمشن بن گیا ہے جلد تعیناتیاں ہوں گی۔ چیف جسٹس نے کہا اقربا پروری اور سفارش کا نظام کب ختم ہو گا، حکومت کو خواجہ آصف کیس کا فیصلہ پسند نہیں تو نظرثانی کی درخواست لے آئے، ہم غور کر لیں گے۔