جنیوا مذاکرات: ایٹمی پروگرام پر معادہ ہو سکتا ہے‘ یورینیم افزودگی ترک نہیں کرینگے: ایرانی وزیر خارجہ

08 نومبر 2013

جنیوا + واشنگٹن + تہران (نوائے وقت رپورٹ + اے ایف پی + نیوز ایجنسیاں)  ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ سے مذاکرات کے دوران ایٹمی پروگرام پر معاہدہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ سے مذاکرات آج جمعہ کے روز تک جاری رہیں گے۔ ہم یورینیم کی افزودگی ترک نہیں کریں گے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ جنیوا میں ایرانی جوہری پروگرام پر سنجیدہ اور ٹھوس بات چیت ہوئی۔ یہ بات وائٹ ہائوس کے ترجمان نے کہی۔  ایران نے جوہری پروگرام پر خدشات دور کرنے کے لئے قابل قدر اقدامات کئے تو عالمی طاقتیں کچھ محدود پابندیاں  واپس لینے پر غور کریں گی۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد امریکی سینٹ کی بنکنگ  کمیٹی نئی سخت پابندیوں پر غور کرے گی۔ قبل ازیں  ترجمان وائٹ ہائوس نے دھمکی دی تھی اگر ایران مذاکرات میں پیشرفت کرنے میں ناکام رہا تو درمیانے درجے کی پابندیاں  ہٹانے کا اقدام واپس ہو جائے گا اور سخت پابندیاں عائد کر دیں گے۔  اسرائیل نے بھی عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایرانی تجاویز  کو تسلیم نہ کریں۔ ایک گھنٹہ مذاکرات جاری رہے۔ امریکی انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ وینڈی شرمین  اور  ایرانی ڈپٹی وزیر خارجہ عباس ارکچی نے ملاقات کی۔ ادھر ایرانی وزیر خارجہ جاوید ظریف نے بتایا کہ مذاکرات میں پیشرفت کر رہے ہیں لیکن یہ دور کٹھن ہے۔ نائب وزیر خارجہ نے کہا امید ہے معاہدہ ہو جائے گا لیکن اختلافات بڑے پرانے ہیں، یورپی یونین خارجہ پالیسی کی ترجمان کیتھرین  آسٹن  نے بھی پہلے  روز کے مذاکرات کو مثبت قرار دیا اور تبصرہ نہیں کیا، مذاکرات آج بھی جاری رہیں گے۔ ادھر ذرائع کے مطابق ایران نے عالمی پابندیوں میں نرمی کیلئے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ایران نے پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایٹمی پروگرام محدود کرنے کی تجاویز پیش کر دیں۔ ایرانی چیف مذاکرات کار کا کہنا ہے کہ 6 عالمی طاقتوں نے ایرانی تجاویز منظور کر لی ہیں۔