امریکی فوجیوں نے افغانستان میں سنگین جرائم کا ارتکاب کیا‘ سویلین ہلاکتوں کی تحقیقات کرائی جائے: ہیومن رائٹس واچ

08 نومبر 2013

واشنگٹن (آن لائن) انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ اپنی سپیشل فورسز کے افغان سویلین باشندوں کی ایذا رسانی اور ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی مکمل اور غیر جانبدارانہ چھان بین کرائے۔ فرا نسیسی خبر رسا ں ادارے انسانی حقوق کی امریکی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ’رولنگ سٹون‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات میں امریکی فوج کے خصوصی دستوں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے سے متعلق نئے سوالات اٹھائے ہیں۔ جریدے ’رولنگ سٹون‘ نے اپنی اشاعت میں لکھا کہ کابل سے باہر صوبے وردک کے ضلع نرخ میں 2012ء  اور 2013ء کے دوران اب تک 18 افغان مردوں کی ہلاکت کے سلسلے میں امریکی فوج کے گر ین بیرٹس کہلانے والے خصوصی دستوں کے مبینہ کردار کے بارے میں کئی باتیں جواب طلب ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ نرخ میں ان سویلین ہلاکتوں کی ’بھرپور، شفاف اور غیر جانبدارانہ چھان بین‘ کرائی جانا چاہئے۔ ہیومن رائٹس واچ کی انسداد دہشت گردی سے متعلقہ امور کی سینئر مشیر آندریا پراسَو نے کہا کہ یہ امر واضح ہے کہ سویلین باشندوں کی ہلاکتوں سے متعلق سنگین جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے، اس لئے اب یہ امریکی حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ چھان بین کے ذریعے یہ طے کرنے میں اپنا کردار ادا کریں کہ اصل حقائق کیا ہیں اور ان کا ذمہ دار کون ہے۔آندریا پراسَو کے مطابق اس بارے میں امریکی ریکارڈ بہت خراب ہے کہ افغانستان کی 12 سالہ جنگ کے دوران امریکی دستوں کی طرف سے جرائم کے مبینہ ارتکاب اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ داران کو باقاعدہ سزائیں سنائی جائیں۔