لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کاحکم دیا

08 نومبر 2013

لاہور (وقائع نگار خصوصی +  خصوصی رپورٹر) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال اور مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کے حکومتی فیصلے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے صوبے میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کاحکم  دیا ہے۔  فاضل عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا ہے کہ پنجاب  اسمبلی  سے منظور  کئے گئے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کا سیکشن 18 بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ تاہم بلدیاتی اداروں کیلئے حلقہ بندیوں کی تشکیل صوبائی حکومت کا اختیار ہے۔  عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ غیر جماعتی انتخابات آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہیں۔ آئین میں سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں حصہ لینے کا حق دیا گیا ہے جسے ختم نہیں کیا جا سکتا  عدالت اس سیکشن کو آئین سے متصادم اور غیرقانونی قرار دیتی ہے اور حکم دیتی ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیںدرخواست گزار پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، (ق)  لیگ اور مجلس وحدت المسلمین، جماعت اسلامی اور دیگر  نے غیرجماعتی بلدیاتی انتخابات کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا  تھا کہ غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات آئین اور جمہوریت کی نفی ہے اس سے جمہوریت کمزور ہو گی  لوٹا کریسی کو بھی فروغ ملے گا۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ بورڈ کے وکیل نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 260کے تحت بلدیاتی اداروں کے منتخب نمائندے سرکاری ملازم تصور کئے جاتے ہیں۔ آئین کی رو سے کوئی بھی سرکاری ملازم سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے بلدیاتی ادارے قانون ساز نہیں اور نہ وہ بجٹ بناتے ہیں اور پالیسی بناتے ہیں ان پر جماعتی بنیادوں پر الیکشن کرانے کی پابندی نہیں۔ عدالتی معاون  نے بھی جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کی حمائت کی۔ جس پر عدالت نے  یکم نومبر کو تاریخ سماعت پر فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ جسے عدالت نے جاری کرتے ہوئے پنجاب میںبلدیاتی انتخاب جماعتی بنیادوں پر کرانے کاحکم دے دیا۔ عدالت نے درخواست گزار  سیاسی  جماعتوں  کا یہ اعتراض  مسترد کردیا جس میں انہوں نے بلدیاتی انتخابات کیلئے  صوبائی حکومت کی طرف سے  حلقہ بندیوں کی تشکیل کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ صوبائی حکومت کو مکمل اختیار ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیوں کی تشکیل کرے۔ فیصلہ سناتے وقت تحریک انصاف کے صوبائی صدر اعجاز چودھری  اور سیاسی جماعتوں کے وکلاء کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ دریں اثنا پاکستان تحریک انصاف پنجاب کے اعجاز احمد چودھری  نے پریس کانفرنس میں  کہا ہے کہ پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہوں، بیرسٹر بختیار قصوری نے تحریک انصاف کی طرف سے دائر کردہ رٹ پٹیشن میں عدالت میں بھرپور دلائل پیش کئے اورکامیابی حاصل کی ، تمام پینل کا میں شکریہ ادا کرتا ہوں اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔  پنجاب اسمبلی میں اکثریت کی بنیاد  پر عوامی رائے کو بلڈوز کر کے دبا دیا گیا ، پاکستان میں دو مائنڈ سیٹ ہیں ایک جمہوری اور دوسرا مارشل لاء کا حامی، مسلم لیگ (ن) کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ  جمہوریت اور سیاسی سوچ کو آگے لے کر چلنے والے لوگ بھی موجود ہیں اور مارشل لاء کے گملوں میں اگلنے والا ٹولہ صوبے میں غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات کرانے کا ان کا فیصلہ جمہوریت اور عوام کے ساتھ کھلا مذاق تھا۔ تحریک انصاف کے شاہ سوارتیار ہیں عدالتی فیصلے کو چیلنج کیا گیا تو بھرپور لڑیںگے۔  آج سے پورے پنجاب کی تمام تنظیموں کو ڈویژن وائز تقسیم کر کے بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے ضلع تحصیل اور ٹائون کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں  جو  بلدیاتی انتخابات کی تیاری کریںگی اور مشاورت سے ہر سطح پر امیدواران کو فائنل کیا جائے گا۔ صوبے میں جماعتی بنیادوں پر ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں تحریک انصاف بھرپور کامیابی حاصل کرے گی  مسلم لیگ (ن) کو اپنی اوقات کا پتہ چل جائے گا۔  عدالتی فیصلے سے مسلم لیگ (ن)  پر لرزہ طاری ہو گیا ہے۔ 11 مئی کے انتخابات میں الیکشن کمشن اپنا رول ادا نہیں کر سکا  مزید بہتری کی ان سے کوئی امید نہیں ۔ 7 دسمبر کو پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا چیلنج تحریک انصاف قبول کرتی ہے مسلم لیگ  (ن) کا تحریک انصاف ڈٹ کر مقابلہ کرے گا اور بلدیاتی انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔  اپوزیشن کی جماعتوں کوغیر جماعتی نظام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے سے پہلے اعتماد میں لیا یہ تحریک انصاف کی کامیابی نہیں بلکہ تمام جمہوری قوتوںکی کامیابی ہے۔  انہوں نے کہا کہ  حلقہ بندیوں  کے بارے میں فیصلہ  کے خلاف اپیل کرینگے۔  میاں محمودالرشید نے کہاکہ پنجاب میں حلقہ بندیوں کی تشکیل میں بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی۔ اے سی  اور ڈسی سی او نے مسلم لیگ (ن) کے متوقع امیدواروں کو نوازنے کے لئے  من  پسند لوگوں کو نوازنے کے لئے علاقے تقسیم کئے جو پری پول دھاندلی کا آغاز ہے ۔ پنجاب حکومت کی کوآرڈی نیشن کمیٹیوں کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ۔ پنجاب بھر میں تحریک انصاف جن حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے وہاں سے ہارنے والے مسلم لیگ (ن)  کے امیدواران کو ان کوآرڈی نیشن کمیٹیوں کا ممبر بنا دیا گیا ۔ کروڑوں کا فنڈ مقرر کر دیا ہے۔ پنجاب حکومت کی غیر قانونی حلقہ بندیوں کی رٹ پٹیشن کی سماعت آج  ہائیکورٹ  میں ہو گی  ہمیں انصاف کی توقع ہے۔