مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے ۔ اجلاس میں قرارداد منظور

08 نومبر 2013

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) سینٹ میں متحدہ اپوزیشن نے سابق صدر مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرنے کی قرارداد منظور کر لی۔ نجی ٹی وی کے مطابق اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے سبزہ زار میں جاری متوازی اجلاس میں قرارداد منظور کی۔ رضا ربانی نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ فوری درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا ایف آئی اے آرٹیکل 6 پر تحقیقات نہیں کر سکی۔ تحقیقات کی ضرورت نہیں سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ پرویز مشرف نے ذاتی طور پر ایمرجنسی لگائی اور آئین کو پامال کیا۔ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے، حکومت امریکی دباؤ میں آ کر پرویز مشرف کے خلاف تمام مقدمات ختم کر کے اسے راہ فرار دے رہی ہے۔ اپوزیشن کے اجلاس میں ڈرون حملوں کی مذمت‘ فوری بندش اور بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی چودھری نثار کے رویہ کے خلاف کیلئے قراردادوں کی بھی متفقہ منظوری دی گئی، اپوزیشن ارکان کی قراردادوں پر بحث کے دوران حکومت پر شدید تنقید کی گئی‘ آئی ایم ایف کی شرائط پر بجلی، تیل اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کو عوام پر ڈرون حملہ قرار دیا گیا۔ سخت سردی اور بارش کے باوجود درجنوں اپوزیشن ارکان اجلاس میں شریک ہوئے۔ سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، اس ایوان کی جانب سے مطالبہ کرتا ہوں کہ لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔ سینیٹر سعید غنی نے گذشتہ روز قومی اسمبلی میں وزیر داخلہ چودھری نثار نے اپوزیشن پر تنقید کر تے ہوئے کہا کہ سینٹ میں خواہ مخواہ اپوزیشن شور کر رہی ہے یہ اعداد و شمار صوبائی حکومت اور وزیر دفاع کی طرف سے آئے ہیں سارے حکومتی وزرا کہتے ہیں کہ جواب غلط ہے۔ وزیر داخلہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ یہاں سے پانچ کلومیٹر دور ایک سیانا ڈکٹیٹر بیٹھا ہے اس نے میاں صاحب کی طرح کسی معاہدے پر دستخط نہیں کئے بلکہ کہتا ہے کہ سپریم کورٹ سے رہا ہو کر جائوں گا۔ آج سارے مقدمے ختم ہو گئے کوئی آرٹیکل 6 بھی نہیں لگا (ن) لیگ کی انہی حرکتوں کی وجہ سے 1999ء میں حکومت گئی تھی۔ سینیٹر نسیمہ احسان نے کہا کہ ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے۔ خارجہ پالیسی اپنے بجائے غیروں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ اپنے حلقے کے مسترد شدہ وزیر اعلیٰ ہیں۔ چیف سیکرٹری بلوچستان کو پنجاب کا وائسرائے قرار دیا جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ میاں شہباز شریف صرف پنجاب کے ہی نہیں بلوچستان کے بھی وزیر اعلیٰ ہیں۔ شاہی سید نے کہا کہ حکومت کی دوغلی پالیسی ہے ایک طرف امریکہ سے ڈالر لیتی ہے دوسری جانب طالبان سے ہمدردی بھی کرتی ہے۔ انتخابات میں چیف الیکشن کمشنر فخرو بھائی نہیں بلکہ حکیم اللہ محسود تھا جس نے تحریک انصاف، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ (ن) کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی اور اے این پی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ سیف اللہ مگسی نے کہا  بلوچستان کے حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ زلزلہ متاثرین پاکستانی امداد لینے سے انکار کر رہے ہیں۔ رضا ربانی نے 11 نکات پر مشتمل ورکنگ پیپر دیتے ہوئے کہا  وزیر داخلہ کی امریکہ پر ناراضگی معمولی ہے ان کے اعداد و شمار تو امریکہ کی حمایت کر رہے ہیں میں حکومت نے امریکی دبائو پر پرویز مشرف کو رہا کیا جبکہ مشرف محترمہ شہید، اکبر بگٹی شہید، لال مسجد اور عدلیہ کا مجرم ہے۔ امریکی دبائو میں آکر حکومت پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے سے دستبردار ہو رہی ہے۔ دبائو ہماری حکومت پر بھی تھا ہم نے حکومت کی قربانی دے دی دبائو قبول نہیں کیا۔ قومی سلامتی کے حامل 68 اداروں کی نجکاری آئی ایم ایف کے دبائو میں کی جا رہی ہے جس کے خلاف ہم بھرپور مزاحمت کریں گے۔