غربت ۔ ماں نے دو کمسن بیٹیوں اور ایک بیٹے کو بی آر بی نہر میں پھینک دیا

08 نومبر 2013

لاہور (نامہ نگار) ہیئر کے علاقہ میں گھریلو حالات اور غربت سے تنگ آکر سنگدل ماں نے اپنی دو کمسن بیٹیوں اور ایک بیٹے کو بی آر بی نہر میں پھینک دیا جس سے چار سالہ بصیرت، پانچ سالہ غلام حسین اورآٹھ سالہ ایمن جاں بحق ہو گئے۔ پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کر لیا۔ جبکہ ریسکیو ٹیموںکے غوطہ خوروں نے نہر سے تینوں نعشیں نکال لی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بی آر بی نہر کے قریبی گاؤںگوروکے آصل کا رہائشی چار بچوں کا باپ محمد شریف ایک مقامی فارم ہاؤس میں مالی ہے۔ اس کی بیوی 38سالہ رضیہ بی بی گزشتہ روز اپنے تین بچوں چار سالہ بیٹی بصیرت، پانچ سالہ بیٹے غلام حسین اورآٹھ سالہ بیٹی ایمن کو دم کرانے کے بہانے لے کر گھر سے نکلی اور تینوں بچوں کو لے کر بی آر بی نہر پر ہیڈ ہیئر کے قریب آگئی اور تینوں کو نہر میں دھکا دے دیا۔ موقع پر موجود لوگوں نے سنگدل ماں کو پکڑ لیا جبکہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ پولیس نے ملزمہ رضیہ کو حراست میں لے لیا جبکہ امدادی ٹیموں نے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد تینوں بچوں کی نعشیں باہر نکال لیں اور ملزمہ رضیہ کے خلاف اس کے خاوند شریف کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اپنے بچے نہر میں پھینکنے والی عورت انتہائی غریب اور اس کی دماغی حالت درست نہیں لگ رہی۔ ایس پی کینٹ عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ خاتون کا ذہنی توازن درست نہیں ہے تاہم معاملے کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ اہل علاقہ کے مطابق خاتون کا ذہنی توازن ٹھیک ہے اور اس نے گھریلو حالات اور غربت سے تنگ آکر اپنے بچوں کو نہر میں پھینکا ہے۔ سنگدل ماں رضیہ کی جانب سے بچوں کو نہر میں دھکا دے کر قتل کرنے کے دلخراش واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد موقع پر اکٹھی ہو گئی جبکہ بچوں کے رشتے دار بھی روتے پیٹتے وہاں پہنچ گئے۔ موقع پر موجود لوگ ماں کی بے حسی پر انتہائی پریشان اور کرب میں مبتلا دکھائی دئیے اور وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے و توبہ کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ واقعہ پر پورے گائوں میں سوگ کا سماں تھا۔ ماں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے تین بچوں کا چوتھا بھائی سکول جانے کی وجہ سے بچ گیا۔ 12 سالہ نعیم عباس سکول گیا ہوا تھا۔