طالبان سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں ۔ وفاقی وزراء کی فضل الرحمان کو یقین دہانی

08 نومبر 2013

اسلام آباد (نوائے وقت؍ آن لائن ؍ثناء نیوز) وفاقی حکومت نے طالبان کے ساتھ  مذاکرات کی بحالی کیلئے  تمام ممکنہ اثر ورسوخ کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کرلیا۔ امریکہ کے ساتھ تعاون کی پالیسی پر نظر ثانی کیلئے مختلف آپشنز پر مشاورت شروع کر دی گئی۔ اس بارے میں حکومتی اتحادی جمعیت علماء اسلام (ف)کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ثناء نیوز کے مطابق  وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈاراور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے  اسلام آباد میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی  اور مذاکرات کی بحالی کیلئے ان سے مشاورت کی ملکی سیاسی صورتحال اور  حکیم اللہ محسود کی ہلاکت  کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حکمت عملی پر بھی بات چیت ہوئی دونوں اطراف سے اس بات پر اتفاق کیا گیا  امریکہ نے پاکستان میں قیام امن کیلئے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا ہے  وزراء نے مولانا فضل الرحمن  کو بتایا  حکومت نے فیصلہ کیا ہے  طالبان سے مذاکرات  کیلئے قومی اتفاق رائے کو آگے بڑھایا جائیگا مولانا فضل الرحمن نے  کہا  وہ پہلے ہی  چکے ہیں کہ حکومت کو مذاکرات سے قدم پیچھے نہیں ہٹانے چاہیں انہوں نے مطالبہ کیا  مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے پر جس کا اعتراف خود حکومت نے بھی کیا ہے امریکہ سے ہر سطح پر سخت ترین احتجاج کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاکستان امریکہ تعاون پر نظرثانی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا  اس بارے میں قومی مشاورتی اجلاس ہونا چاہیے۔آن لائن کے مطابق  مولانا فضل الرحمان نے کہا  حالیہ ڈرون حملہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے  اب  حکومت اور طالبان دونوں پر واضح ہوچکا ہے  مذاکرات کا مخالف کون ہے ، حکومت کو برد باری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا جبکہ وفاقی وزراء نے  یقین دلایا  حکومت مذاکرات کیلئے  امن کی خواہاں ہے البتہ سیاسی جماعتوں کو نیٹو سپلائی  سمیت دیگر معاملات پر جذبات کی بجائے  تدبر سے کام لینا چاہیے ۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد کے مطابق  مولانا فضل الرحمان سے   اسحاق ڈار اور  پرویز رشید نے ملاقات کی ۔   باوثوق ذرائع نے بتایا وفاقی وزراء نے جمعیت علمائے اسلام (ف) سے استدعا کی  حالیہ ڈرون حملے کے بعد مذاکرات میں کیونکہ تعطل آچکا ہے اس لئے تمام سیاسی جماعتوں کو برد باری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا ایک طرف ملک دہشتگردی ، انتہا پسندی ، بدامنی اور معاشی عدم استحکام سے دو چار ہے تو دوسری جانب صورتحال یہ ہے چند قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہے ایسی صورتحال میں ہمیں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا اور جذباتی ہونے کی بجائے معاملات کو تحمل سے حل کرنے بارے سوچنا ہوگا ۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا  ڈرون حملے میں ثابت ہوگیا  امریکہ ملک میں امن نہیں چاہتا  انہوں نے حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا  حکومت طالبان سے مذاکرات کیلئے تحمل کا مظاہرہ کرے اور کسی بھی قسم کی جلد بازی سے گریز کیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کیلئے حکومت ایک مرتبہ پھر اپنے عزم کا مظاہرہ کرے تاکہ مذاکرات کو وہیں سے شروع کیاجاسکے یہاں سے  یہ تعطل کا شکار ہوئے  اس سلسلے میں حکومت سے بھرپور معاونت کی جائے گی۔ اسحاق ڈار نے  یقین دلایا حکومت طالبان سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے اور چاہتی ہے  بات چیت سے ملک میں امن قائم کیا جاسکے۔ اسحاق ڈار نے کہا  پہلے ہی پاکستان کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اس لئے نیٹو سپلائی کی بندش کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کو اپنا ردعمل سوچ سمجھ کر دینا چاہیے جس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا  حکومت کو چاہیے  ڈرون حملوں کی بندش کے حوالے سے امریکہ کو سخت پیغام بھجوایا جائے کیونکہ ڈرون حملے ملک کی خود مختاری اور سالمیت پر حملہ ہیں ۔