شہادت اور کُتے کی موت؟

08 نومبر 2013

آجکل شہید کے لفظ کو خواہ مخواہ متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں ہمارے میڈیا کا کردار دو ایک چینل کو چھوڑ کر اچھا نہیں ہے۔ میں اس حوالے سے آگے چل کر بات کروں گا۔ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت اتنی اہم نہیں ہے۔ اگر اب سے کچھ پہلے یا کچھ بعد اُسے قتل کیا جاتا تو قابل ذکر بھی نہ ہوتا۔ بیت اللہ محسود قتل ہوا تو کوئی شور نہ اٹھا۔ ولی الرحمن قتل ہوا تو ایسی کوئی بحث نہ ہوئی۔ بیت اللہ محسود نے پاکستان میں قتل و غارت کا بازار گرم کیا۔ پاکستان کی نشاندہی کے باوجود کوئی توجہ نہ کی گئی۔ جب امریکہ نے خود اپنے مفاد میں سمجھا تو اُسے قتل کر دیا گیا۔ اس میں پاکستان کی نااہلی اور امریکہ کی صلاحیت کا بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ہم احتجاج کرتے ہیں مگر اپنی طاقت بڑھانے کی کوشش نہیں کرتے۔ احتجاج کمزور افراد اور قومیں کرتی ہیں۔ مطالبے اور طلب میں فرق نہیں ہوتا۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کا الزام بھی بیت اللہ محسود پر تھا۔ تو کس نے ایک قتل کو مشکوک بنانے کے لئے ایک اور قتل کرا دیا۔ قتل و غارت کی افراتفری میں یہ بحث بے معنی ہے کہ شہادت کیا ہوتی ہے؟
اس حوالے سے مولانا سمیع الحق نے شاندار بات کی۔ ’’یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ وہ شہید ہے یا نہیں ہے۔ مگر اس وقت اُسے مارنا ظلم ہے کہ امن کے ڈائیلاگ کا آغاز ہو چکا تھا‘‘ مذاکرات تو ہوتے ہی دشمنوں سے ہیں۔ رسول کریمؐ رحمت اللعالمین حضرت محمدؐ نے یہودیوں سے بات کی۔ صلح حدیبیہ میں وہ شخص بات کرنے آیا، جس نے مسلمانوں کے ساتھ جنگوں میں سب سے زیادہ صحابیوں کو شہید کیا تھا۔ جنرل حمید گل نے کہا کہ شہادت کے حوالے سے کسی عالم دین سے رجوع کرنا چاہئے۔ شہادت کا فتویٰ دینے کا حق منور حسن کا نہ تھا۔ یہ غیر ضروری بات ہے۔ محسود کے ساتھ ڈائیلاگ اہم تھا۔ امریکہ نے اس موقع پر اُسے قتل کر کے پاکستان کی توہین کی ہے۔ چودھری نثار نے کتنی بے بسی سے کہا ہے کہ امریکہ ہمیں ایٹمی ملک ہونے کے باوجود خاطر میں نہیں لاتا۔ اب تو امریکہ اور بھارت کے لئے پاکستانی حکمرانوں کی بے بسی دیکھ کر وہم پیدا ہو گیا ہے کہ ہمارا ایٹم بم کہاں ہے؟ کہیں وہ ایسی جگہ تو نہیں چھپا کے رکھا ہوا کہ ہمیں بھول گیا ہے۔ ایٹم بم کے ساتھ ہماری خارجہ پالیسی بھی ہوتی تو امریکہ ہماری خاطر تواضح کرتا۔ پھر نوازشریف کو ’’ملاقات‘‘ کرنے کے لئے کاغذوں کا سہارا نہ لینا پڑتا۔ کیا صدر اوبامہ نے ایک بات بھی نوازشریف کی مانی ہے۔
شاید امریکہ کے تھنک ٹینک تھک گئے ہیں۔ ورنہ وہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات ہونے دیتے۔ یہ مذاکرات کسی صورت کامیاب نہ ہوتے۔ تو امریکہ کے لئے زیادہ سازگار ہوتا۔ دوسروں کو کمزور سمجھ کر جلد بازی میں فیصلے کرنا عالمی طاقت کو زیب نہیں دیتا۔ طاقت کا استعمال بروقت اور برمحل ہو تو اس کے نتائج خوش آئند ہونگے۔ مگر ظالم کبھی طاقت کے استعمال کو مثبت نہیں رکھ سکتے۔ امریکہ نے حکمرانوں سیاستدانوں اور لوگوں کو دوست بنا کے استعمال کیا۔ پھر دشمن بنا کے بھی فائدہ اٹھایا۔ پہلے کسی سے کام لیا۔ پھر کام تمام کر دیا۔ پہلے اپنے لئے کارروائیاں کرائیں۔ پھر اس کے خلاف کارروائی کر دی۔ حکیم اللہ محسود ایک متنازعہ آدمی تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے شہید کے لفظ کی توہین کی ہے۔ یہ بات پاکستان کے بہت سے علمائے کرام نے کی ہے۔ مولانا نے کہا ہے کہ امریکہ کے ہاتھوں جو مرے گا۔ میں اُسے شہید کہوں گا خواہ وہ کتا ہی کیوں نہ ہو۔ اس خبر پر ایک کارٹون شائع ہوا ہے، جس میں حکیم اللہ محسود مولانا فضل الرحمن سے غصے میں کہہ رہا ہے۔ اوئے مولوی میں کتے کا بچہ نہیں ہوں، ہماری ایک کالم نگار نے لکھا ہے کہ مولانا کی تلاشی لی جائے تو ان کے پاس امریکہ میں بنی ہوئی دوائیں اور وٹامن ہوں گے۔ امریکہ کی زبانی کلامی اور سیاسی مخالفت کرنے والوں کو امریکہ کا ویزہ نہ ملے تو وہ اس کے لئے غیر قانونی طریقے اختیار کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔ امریکی ائرپورٹ پر تلاشی کے بہانے اُن کی بے عزتیاں کی جاتی ہیں اور وہ خوشی سے یہ توہین قبول کرتے ہیں۔ مولانا کئی بار بڑی خوشی سے امریکی سفیر سے مل چکے ہیں۔ ان کے ساتھ جو باتیں ہوئیں وہ امریکی سفیر بھی نہیں بتائیں گے۔ امریکہ کے دوست صدر مشرف کی حکومت بچانے کے لئے ساتویں ترمیم مولانا نے منظور کرائی۔ ان کے سامنے لال مسجد میں بچوں بچیوں کو شہید کیا جاتا رہا اور انہوں نے کچھ نہ کیا۔ امریکہ دشمنی میں اتنا جذباتی نہیں ہو جانا چاہئے کہ ہم اپنے عقیدے اور عقیدت کی توہین کریں۔
شہید کا منصب بہت بلند و بالا ہے۔ کتے کی موت مرنے والے کے لئے اس لفظ کا استعمال انتہائی سفاکی ہے۔ حضرت مولانا کو اس کا حق نہیں ہے جبکہ وہ باقاعدہ عالم دین بھی نہیں ہیں۔ صرف سیاستدان ہیں۔ اچھے خاصے کامیاب سیاستدان ہیں۔ اس حوالے سے اُن کے آئیڈیل ’’صدر‘‘ زرداری صاحب ہیں مگر وہ اب صدر نہیں رہے۔
میڈیا کے بہت اینکر پرسن شہید کے لفظ کا مذاق بنا رہے ہیں۔ ایک اینکر صاحب کئی دنوں سے ہر آدمی سے یہ سوال ضرور پوچھتے ہیں حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ کے خیال میں حکیم اللہ محسود شہید ہیں یا شہید نہیں ہیں۔ پروگرام میں شریک کسی آدمی نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔ تو اینکر صاحب کو مایوسی نہیں ہوئی کہ بحث ایک تنازعے میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ بالواسطہ، حکیم اللہ محسود کے قاتل کی حمایت ہے۔ وقت نیوز کے مطیع اللہ جان نے ایسے کئی صحافیوں کو گھیرا تھا تو اُن کی بے حسی دیکھنے والی تھی۔ بیرونی ملکوں سے امداد کے سکینڈل اب عام ہیں۔ شہید کے لفظ کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ خدا کی راہ میں اور حق کے لئے کوئی اپنی جان قربان کرتا ہے تو وہ پوری قوم کا محسن ہے۔ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ علامہ اقبال نے کہا ہے کہ
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
محرم کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ سیدالشہداء امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ نے جو بے مثال قربانی پیش کی وہ امت مسلمہ اور عالم انسانیت کے لئے ایک پیغام ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جو سیرت رسولؐ سے باخبر ہو جائے تو وہ غیر مسلم ہو تو بھی ہم سے زیادہ عاشق رسولؐ ہو جائے۔ شہادت حسینؑ کے فلسفے کے حوالے سے جوش ملیح آبادی کا شعر کافی ہے۔
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ
شہید کے لفظ کی مقبولیت دیکھیں کہ اب دوسری قومیں بھی اپنے مرنے والوں کو اسی نام سے یاد کرتی ہیں۔ صرف سیاسی مفادات کے لئے شہید کے لفظ کو کراہت آمیز طریقے سے بیان کرنا اچھا نہیں ہے۔ میڈیا نے بھی شہید کے لفظ کو متنازعہ بنانے اور بدنام کرنے کی مہم شروع کر دی ہے۔
پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے کئی بامعنی اور بڑے الفاظ کو بے احتیاطی سے خراب کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے ایک لفظ دوست ہے۔ ہر کسی کو دوست کہہ دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی دوست کی ذمہ داریاں جان لے تو کثرت سے اس لفظ کے استعمال سے پرہیز کرے۔ ایک محفل میں ہر کسی کو دوست کا خطاب دیا جاتا تھا تو نعیمہ ذوالقرنین نے احمد فراز کا مصرعہ پڑھ کر سب کو چپ کرا دیا۔
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
یہی حال لفظ دانشور کا ہے۔ ہم لوگ تو دانشمند بھی نہیں ہیں۔ ہمیں تو دانش اور لوک دانش میں فرق کرنا نہیں آتا۔ لفظ عظیم کا بھی استحصال کیا جا رہا ہے۔ علامہ کے لفظ کو ’’اُلامہ‘‘ بنا کے رکھ دیا گیا ہے۔ میں ایک بار بھارت گیا تھا۔ میرا سفرنامہ شائع ہوا تو انہوں نے مجھ پر پابندی لگا دی وہاں دہلی میں انڈیا گیٹ ہے۔ اس سیرگاہ میں ایک بڑے سے علامتی دروازے پر ہندی میں کچھ لکھا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا تو بتایا گیا کہ پاکستان کے ساتھ 65 کی جنگ میں مرنے والے شہیدوں کے نام ہیں۔ ان میں ہندو سکھ مسلمان سب لوگ ہیں۔ مجھے اسلام کی حقانیت پر فخر محسوس ہوا۔ جہاد اور شہید کا لفظ دوسری قوموں نے اختیار کر لیا ہے۔ دشمنوں اور ان کے ایجنٹوں نے جہاد کے لفظ کو متنازعہ بنایا ہے اب شہید کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اپنے مفادات اور مباحثوں میں اپنی روایات کو پامال نہ کیا جائے۔ شہادت ایک قربانی ہے۔ اس کہانی کا کوئی کردار بن جانا چاہئے۔
جب بھی کبھی ضمیر کا سودا ہو دوستو
ڈٹ جائو تم حسینؑ کے انکار کی طرح