پنجاب میں گندم کا ایک کروڑ 90 لاکھ ٹن پیداوار کا ہدف مقرر

08 نومبر 2013

لاہور (نیوز رپورٹر) صوبہ پنجاب میں گزشتہ سال گندم کی 1 کروڑ 86 لاکھ 27 ہزار ٹن پیداوار حاصل  ہوئی جبکہ اس سال 1 کروڑ 56 لاکھ ایکڑ رقبہ کی کاشت کے ساتھ 1 کروڑ 90 لاکھ ٹن کا پیداواری ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ جس کے حصول کیلئے گندم کی بروقت کاشت، کھادوں کا متناسب استعمال جڑی بوٹیوں کی تلفی اور پانی کے باکفایت استعمال کی جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ مزید برآں سیڈ گریڈنگ کے ذریعے زیادہ مقدار میں صحت مند بیج کے حصول کو ممکن بنانا ہوگا۔ محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق کاشتکار گندم کی منظور شدہ ترقی  دادہ اقسام سفارش کردہ وقت کے مطابق کاشت کریں نیز بیج کے اگاؤ کی شرح 85 فیصد سے کم نہ ہو بصورت دیگر شرح بیج میں اضافہ کر لیں ترجمان نے مزید بتایا  ہے کہ گندم کی فصل سے بہتر پیداوار لینے کیلئے اس کی کاشت کا موزوں ترین وقت یکم تا 15 نومبر ہے محکمہ زراعت (توسیع اور اڈاپٹیوریسرچ) کی تحقیق کے مطابق 15 نومبر کے بعد کاشت کی گئی فصل میں ہر روز تقریباً ایک فیصد کے حساب سے (15 تا 20 کلو گرام فی ایکڑ) پیداوار میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے  ترجمان نے مزید بتایا ہے کہ گندم کی اقسام چکوال 50، لاثانی 2008ء ، آری 2011ء فیصل آباد 2008ء زیادہ شگوفے بناتی ہیں اس لئے ان کی بروقت کاشت کی صورت میں 85% سے زیادہ اگائو رکھنے والے بیج کی فی ایکڑ شرح کو مناسب و تر اور کھیت کی تیاری کی صورت میں 5 کلو گرام تک کم کر دیں ترجمان نے بتایا کہ پچھیتی کاشت کی صورت میں شرح بیج میں اضافہ اس لئے ضروری ہے کہ درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے بیج کے اگاؤ میں تاخیر ہو جاتی ہے پودا شگوفے کم بناتا ہے اور سٹے چھوٹے رہ جاتے ہیں جبکہ پیداوار میں بنیادی شاخوں کا حصہ زیادہ ہوتا ہے لہذا بیج کی مقدار ایک حد تک بڑھانے سے بنیادی شاخوں میں اضافہ ہوگا جو پیداوار میں اضافے کا سبب بنے گا مزید برآں شرح بیج میں مذکورہ اضافہ جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کیلئے بھی معاون ثابت ہوگا کیونکہ گندم کے  پودے زیادہ ہونے کی وجہ سے جڑی بوٹیوں کو پھلنے پھولنے کا موقعہ نہیں ملے گا۔