ڈرائیور پر پولیس تشدد ثابت، ڈی ایس پی ٹریفک مظفرگڑھ معطل

08 نومبر 2013

لاہور (نامہ نگار) آئی جی پنجاب پولیس خان بیگ نے انکوائری میں شہری پر پولیس تشدد ثابت ہونے پر ڈی ایس پی ٹریفک مظفر گڑھ اسد اللہ خان کو معطل کرتے ہوئے سی پی او رپورٹ کرنے جبکہ واقعہ میں ملوث سب انسپکٹر محمد اسلم دستی، کانسٹیبل محمد اشتیاق، کانسٹیبل عبدالجبار اور ڈرائیور کانسٹیبل اعجاز حسین کے خلاف مقدمہ درج کر کے گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور کا ایک شہری نور محمد (ٹرک ڈرائیور) چند ہفتے قبل سندھ سے پشاور جاتے ہوئے جب ضلع مظفر گڑھ کی حدود میں گرجا چوک کے قریب پہنچا تو ٹریفک پولیس مظفر گڑھ کے مندرجہ بالا اہلکاروں نے نور محمد سے ایک ہزار روپے کا مطالبہ کیا۔ رقم نہ دینے پر متعلقہ اہلکاروں نے نور محمد پر تشدد شروع کر دیا جس کے نتیجہ میں اس کی ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ آئی۔ جس کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب نے اے آئی جی ڈسپلن کیپٹن (ر) رومیل اکرم کو انکوائری آفیسر مقرر کیا۔ رومیل اکرم 28 اکتوبر کو پشاور پہنچے جہاں انہوں نے نور محمد جومتنی سے ملاقات کی، ڈاکٹروں اور اہل محلہ سے اس معاملے کے حقائق اکٹھے کئے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق متعلقہ اہلکار اس میں قصوروار ٹھہرائے گئے۔ آئی جی پنجاب نے کہا ہے کہ پنجاب پولیس میں اختیارات کے ناجائز استعمال، معصوم شہریوں پر تشدد اور قانون کو ہاتھ میں لینے والے افسروں اور اہلکاروں کی محکمہ میں کوئی گنجائش نہیں اور نہ ایسی کالی بھیڑوں کو ادارے میں برداشت کیا جائے گا۔