شہید بازار

08 نومبر 2013

سوشل میڈیا بڑا ستم ظریف ہے، ایک صاحب کا کہنا ہے کہ حکیم اللہ محسود نے عالم بالا سے فضل الرحمن سے احتجاج کیا ہے کہ انہوں نے کتے کو شہید کہہ کر انہیں گالی دی ہے۔
ادھر بھگت سنگھ کے حامیوں نے مٹھائی بانٹنے کا ارادہ ظاہرکیا ہے، ان کا خیال ہے کہ اب ا ن کے ممدوح کو بھی شہید تسلیم کر لیا جائے گا اور شادمان چوک کانام بدلنے کی اجازت دے دی جائے گی۔
شہید کی تعریف پر اختلاف نیا نہیں، مشرف دور میں فوج کی تحقیر کے لئے راشد منہاس نشان حیدر کی شہادت کی برسی پر قومی اخبارات میں جید کالم نویسوںنے ایکا کر کے یہ سوال کھڑا کیا تھا کہ راشد منہاس نہیں، اصل ہیرو تو وہ بنگلہ دیشی پائلٹ مطیع الرحمن تھا جو پاک فضائیہ کا جہاز اغوا کر کے لے جا رہا تھا، بنگلہ دیش نے اسے بعد از مرگ شجاعت کا سب سے بڑا اعزاز دیا تھا۔
بنگلہ دیش نے تو غداری کی تعریف بھی بدل دی ہے، 1971 میں پاکستان کی بقا کی جنگ لڑنے والوں کو پھانسی کی سزائیں سُنائی جا رہی ہیں۔ اب پاکستان کی جماعت اسلامی نے حکیم اللہ محسود کو شہید کہہ دیا تو دوسرے معنوں میں انہوں نے مکتی باہنی کے دہشت گردوں کو ہیرو کے درجے پر فائز کر دیا ہے۔ یہی جماعت اسلامی تھی جس نے کشمیر کے جہاد کے خلاف فتویٰ دیا تھا۔ مولانا مودودی کی دلیل دل کو لگتی تھی کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کر سکتی ہے، اس دلیل کی روشنی میں منور حسن نے طالبان کو مجاہدین کیسے تسلیم کر لیا۔ جماعت اسلامی نے ایک زمانے میں قائداعظم کو بھی خدانخواستہ کافرِ اعظم کہہ ڈالا تھا۔ اس کی پردہ پوشی کے لئے جماعت کا کہنا ہے کہ جب ہم نے قائد اور ان کے بنائے ہوئے پاکستان کو تسلیم کر لیا تو ماضی کی ان باتوں کا طعنہ کیوں۔ لیکن جماعت کی فطرت بدلتی نہیں، وہ اپنی مذمت کروانے کا راستہ خود نکال لیتی ہے۔
بنگلہ دیش نے ا س سال اپنے یوم آزادی پر ہمارے بعض زندہ اور مُردہ دانشوروں کو تمغے عطا کئے ہیں۔
فضل الرحمن کا ماضی بھی کچھ الجھا ہوا ہے۔ علامہ اقبال نے تو کھلے عام ان کا پردہ فاش کر دیا کہ دیوبند حسین احمد، ایں چہ بوالعجبیست۔ چند سال قبل فضل الرحمن لاہور آئے، انہوں نے کالم نویسوں کو یاد کیا، میں اور نذیر ناجی ان کی خدمت میںحاضر تھے، انہوںنے دعویٰ کیا کہ بھارت میں کلیات اقبال سے یہ رُباعی خارج کر دی گئی ہے، میںنے اپنے کالم میں یہ بات لکھ دی تو امریکہ کی شکاگو یونیورسٹی سے شعبہ اردو کے سربراہ نے ای میل کے ذریعے اس دعوے کو چیلنج کیا ، ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس بھارت سے شائع ہونیو الا کلیات اقبال کا تازہ تریں مجموعہ اس رُباعی کے ساتھ موجود ہے۔ وہ دن اور آج کا دن۔ فضل الرحمن مجھے پکڑائی نہیں دے رہے کہ بھائی، مجھے وہ کلیات دکھائو جس کا آپ نے دعویٰ کیا تھا۔
طالبان وہ نوجوان ہیں جو خیبر پی کے، کے مدرسوں میں پڑھے۔ مدرسہ اکوڑہ خٹک میں، میں نے وہ کمرہ دیکھا ہے جس میں فضل الرحمن دوران تعلیم مقیم رہے، گویا وہ بھی طالبان تھے۔ اور ظاہر ہو گیا کہ ہیں بھی۔ وہ طالبان کی بولی نہیں بولیںگے تو کس کی بولیں گے، انہیں کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا مگر میں نے ان کے منہ سے بھارت کی مذمت اور کشمیری شہدا کے لئے کلمہ خیر نہیں سُنا، انہوںنے کہیں کچھ کہا بھی ہو تو مجھ تک نہیں پہنچا۔ مگر کتے کو شہید کہنے والی بات انہوںنے ڈنکے کی چوٹ کی ہے۔
 نیویارک ایئر پورٹ پر ایک سرکاری وفد کا سامان کتے کے ذریعے چیک کروایا گیا، یہ پچانوے کی بات ہے۔ میرے ہینڈ بیگ کے سوا کتے نے سبھی کا سامان کلیئر کر دیا۔ میں نے سب کے سامنے سامان کھول کر دکھایا، فائلوں کے ڈھیر پر شیونگ فوم کی ایک بوتل تھی جسے کتے نے بم سمجھ لیا، میں نے برجستگی سے کہا کہ کتا، امریکی فوج میں بھی بھرتی ہو جائے تو کتا ہی رہتا ہے۔ اس پر سب سے کھنک دار قہقہہ موقع پر موجود محترمہ بے نظیر بھٹو کا تھا جو ان دنوں وزیراعظم تھیں۔
فضل الرحمن  کے نئے فتوے پر پتہ نہیں، کتوں کا ردعمل کیا ہوگا، وہی جانتے ہیں جو ان کی زبان جانتے ہیں ، فضل الرحمن اس زبان کے ماہر لگتے ہیں۔اس لئے ان کی بات پر آمنا و صدقنا کہنا پڑے گا۔
اس موقع پر اصحاب کہف کا کتا ہر ایک کو یاد آیا ہے لیکن اس کتے کو بھی ذہن میں رکھئے جس کا ذکر خلیفہ دوم حضرت عمرؓ نے کیا تھا کہ دریائے نیل کے کنارے بھوک اور پیاس سے مر جانے والے کتے کی بازپُرس بھی روز قیامت ان سے ہو گی۔
فضل الرحمن نے تو کتے کو شہید کا درجہ دیا، مگر ان سے بہت پہلے کچھ لوگ کتے کو جنتی بھی کہتے رہے۔ مارک ٹوین نے کہا تھا، جنت میں اگر کوئی میرٹ پر گیا تو وہ کتا ہو گا، آپ باہر کھڑے رہ جائیں گے۔ امریکی کارٹونسٹ اور ادیب جیمز تھربر کا کہنا ہے کہ میںاگر ابدیت پر ایمان رکھتا تو یقین سے کہہ سکتا تھا کہ جنت کتوں سے بھری ہو گی، انسان وہاں بہت تھوڑے ہوں گے۔ جارج ایلیٹ نے کہا کہ کتے آپ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، وہ کوئی سوال نہیں پوچھتے، آپ پر کبھی تنقید نہیں کرتے۔ فرائڈ کا قول ہے کہ کتے اپنے دوستوں سے محبت کرتے ہیں اور اپنے دشمنوں سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں، یہ انسان ہے جسے دوستی دشمنی، محبت اورنفرت کی کوئی تمیز نہیں۔
ہمارے جاگیر دار ،انگریز سرکار کے کتے نہلاتے رہے اور جاگیریں اور ذیل داریاں انعام میں حاصل کرتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ پچھلے چھیاسٹھ برسوں سے انہی جاگیر داروں کی اولادوں کی اولادوں نے عام پاکستانی کو کتے کی حیثیت بھی نہیں دی۔
ایک کتا تازہ تازہ جیل سے رہا ہونے والے جنرل مشرف کا بھی تھا جسے انہوںنے مارشل لا لگانے کے فوری بعد سینے سے لگا کر تصویر بنوائی اور امریکہ اور اہل مغرب سے لبرل ہونے کی سند پائی۔ان کے دور میں روشن خیالی اور آزاد روی کو مذہب کا درجہ دے دیا گیا۔یہ سب اس کتے کا فیض تھا۔
فوج میں ہاتھی، گھوڑے، اونٹ اور خچر توا ستعمال ہوتے رہے، کبوتر کو پیغام رسانی کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ، اب پیغام رسانی کا ایک ذریعہ موبائل فون ہے جسے ریموٹ کنٹرول دھماکے کا ہتھیار بنا لیا گیا ہے۔ کتے بھی فوج میں بھرتی کئے جا تے ہیں لیکن صرف جاسوسی کے لئے۔ مگر فضل الرحمن کے فتوے کے بعد کتوں کو خودکش حملوں کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جنت کی بشارت تو مولانا نے دے دی۔ اس کام کے لئے اسے سدھانا کوئی مشکل کام نہیں۔ آوارہ کتے ہر جگہ آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں، کوئی ان پر خودکش بمبار ہونے کا شک بھی نہیں کر سکتا۔ ہماری سیکورٹی ایجنسیوںکو اس نئے خطرے سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ لیکن ڈرون سے انہیں کون بچائے گا، مولانا نے شہادت کا بازار لگا دیا۔
انسان ہونے کے باوجود ہماری ایک عادت ہے کت پنا۔ اللہ اس سے بچائے۔