کویت میں محفل مشاعرہ

08 نومبر 2013

پاکستان مسلم لیگ(ن) لیبرونگ اوورسیز کویت کے بینر تلے محفلِ مشاعرہ منعقد کیا ،جس کی صدارت تنظیم کے صدر محمد زبیر شرفی نے کی ،مہمانِ خصوصی کویت میں مقیم معروف سماجی شخصیت احسان الحق تھے،حافظ محمد شبیر (نمائندہ )اوورسیزپاکستائینزمشاورتی کونسل (OPAC)میاں محمد ارشد صدر PMLNکویت،سیکرٹری جنرل محمد عرفان ناگرہ ،غلام حیدر شیخ صدر pppبھٹوشہید گروپ کویت، صفدر علی صفدرؔ صدر ارباب ِ فکر و فن کویت،رانا منیر احمد صدر پاکستان نیشنل آرگنائزیشن کویت،نائب امیر صاحبزادہ قاری محمد عرفان عارف نے مہمانانِ خاص شرکت کی۔  نظامت کے فرائض صفدر علی صفدرؔ نے ادا کیے۔محفل کا آغاز تلاوت قران پاک سے ہوا قرآنی آیات کی تلاوت حافظ محمد شبیر نے کی،نعت رسول مقبولؐ غلام سرور نقشبندی نے یہ نعت صفدر علی صفدرؔ کی مجموعہ کتاب سے لی گئی بہت ہی خوبصورت انداز و آواز میں پیش کی گئی جس سے حاضرین محفل محظوظ ہوئے۔
 بس ذکرمصطفٰی ہی با تکرار کیجئے ۔۔ ہو جس قدر بھی مدحتِ سرکار کیجئے
 ذکر رسولؐ پاک کی کثرت سے دوستو۔۔ سوئے ہوئے نصیب کو بیدار کیجئے
نوجوان شاعرسید صداقت علی نے محبت کی بات کرتے ہوے کہا ،   
خود دید کی خاطر بلا لیتا ہے عرش باری پر وصل کی چاہ  اور عشق کے اداب تودیکھیں
  میرے عشق کی صداقت کے ہاں شاید میری قبر پر سجے ہوے گلاب تو دیکھیں   صدا حسین صدا  ،عجب وہشتوں میں مسلسل رہا ہوں
تماشہ ہوا یہ تماشہ ہوا ہوں
خضر حیات نے پنجابی میں اپنے کلام کو پیش کیا  خوب داد وصول کی،
عشق دا پیچا اوہ ساڈے پاندا نہ۔۔ چنگا سی جے گل نال سانوں لاندا نہ
سُکھاں دی چھاں لکھ واری اوہ نہ دیندا۔۔  غماں دی دھپے وی تے سانوں بھاندا نہ
مسعود حساس 
ہر ایک بات کو تسلیم ہم نہیں کرتے۔۔ ہر ایک بات پر اڑنا کوئی اصول نہیں
ہماری ذات پر حملے قبول مگر۔۔ نبیؐکی ذات پر حملہ تیرا قبول نہیں
صفدر علی صفدرؔ 
ہماری نیند کے  خیموں پہ شب خوں مارنے والو
ابھی آنکھوں میںخوابوں کی بڑی تعداد زندہ ہے   
کما ل اظہرؔنے ترنم کے ساتھ اپنے اشعار پیش کیے۔
 تو مری جان کا  روگ بنی ہے جاناں اے مری جان تری جان کی ایسی تیسی
 عشق کرتے ہیں تجارت نہیں کرتے ہم لوگ 
عشق میں نفع و نقصان کی ایسی تیسی
طارق اقبال  قُرب ہو گا تو جدائی بھی یقیناً ہو گی
اب یہ سوچاہے نئی دنیا بسا لی جائے
 وقت کے پاؤں میں آؤ بیڑیاں ہم ڈال دیں
قربتوں کا ایسا لمحہ بار بار آتا نہیں
عماد بخاری 
 وہ جب محفل میں جلوہ ریز ہوگی 
زباں اُس کی چھری سے تیز ہوگی
اُٹھا گھونگٹ تو نکلی ساٹھ سالہ
وہ کہتا  تھا  گُل نو خیز ہوگی
زبیر شرفی نے ایک مزاحیہ نظم سنائی محفل قہقوں سے گونج اٹھی۔
آج کل جو میرے دل کی رانی ہے
میری اہلیہ اُس کی دشمن پرانی ہے
عید سے قبل  دیکھنا  ہے  اگر جان  ِ جگر کو  جی  بھر کر  آفس سے چھٹی چاہیے بیگم کو خالد سجاد 
 بو ریئے میں فقیری نہ سمائی میری۔۔ میں نے خود کوکئی بار مٹا کر لکھا
ہم نے درویش اُسی شخص کو مانا خالد۔۔ جس نے بہتے ہوے کوزے کو سمندر لکھا
کاشف کمال 
گھر سے پھر آیا ہے اک خط درد بھرا ۔۔ تم نہیں آتے پیسے آتے رہتے ہیں 
اصغر اعجاز چشتی  
کہہ دو کرے غرور نہ اوُنچی اڑان پر۔۔ ورنہ گِرے گا آکے وہ تپتی چٹان پر
کھائے ہیں جس نے زخم کئی جسم و جان پر۔۔ میں تو کروں گا  فیصلہ اُس کے بیان پر
فیاض وردگؔ  
 ضروری ہوگیا ہے تم سے دل کا راز کہنا بھی۔۔ بہت دشوار ہے میرے لئے خاموش رہنا بھی
محبت ہو گئی ہے کیا کرؤں کچھ مشورہ دیجئے۔۔ بھٹکنا ہے مشکل اور غم ہجراں کا سہنا بھی  
 اس محفل کے مہمان خصوصی احسان الحق تھے ۔جنہوں نے مشاعرے کے اختتام میں اس محفل کے ادبی حلقوں کے لیے خوش آئین قرار دیا مہمان خصوصی نے اس مشاعرے کے شاندار انعقاد اور کامیابی پرپاکستان مسلم لیگ لیبرونگ کویت کے صدرزبیر شرفی کو مبارک باد دی۔موقع کی مناسبت سے اپنی ایک نظم پڑھی خوب داد وصول کی۔
اَج نیں تے کدی تے کویتوں کڈے جانواں گے۔۔ دیس اپنے وچ جاکے کسی پِنڈ وِچ گھر بناواں گے
 حکیم طارق محمودصدیقی چیئرمین پاکستان مسلم لیگ(ن)لیبرونگ کویت نے کہا خوشیوں کو بانٹنے کیلئے ہم نے اس مشاعرہ کا اہتمام کیا جس میں علم و دانش کے ستارے جگمگا رہے ہیں۔اُفق ادب کی اِن شخصیات کے ساتھ آج کی شام لوح تاریخ پر رقم ہو گئی ہے۔ہم آئندہ بھی ایسی پُروقار تقریبات کا اہتمام کرتے رہیں گے۔محمدسلیم غلام نبی جنرل سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ(ن) لیبرونگ کویت مشاعرے کی تیاریوں میں پیش پیش رہے انہوں نے جس انداز کے ساتھ سب تیاریوں اہم کردار ادا کیا حاضرین انہیں داد دیئے بِنا نہ رہ سکے ۔ میاں محمد ارشد،حافظ محمد شبیر،رانا منیراحمد،غلام حیدر شیخ،نے اس محفل مشاعرہ  سے خوشی کا اظہار کرتے ہوکہا کہ یہ عیدکی خوشیوں کو دوبالا کیا گیا ہے،جس سے ہم سب پُر مسرت ہیں۔پاکستان مسلم لیگ (ن)لیبر ونگ اوورسیز کویت کے صدرمحمدزبیر شرفی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ شاعر ہمارے معاشرے کے معتبر شخصیت ہوتے ہیں یہ حساس ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے گردونواع میں ہونے والی تبدیلیوں کوسنجیدگی سے محسوس کرتے ہیںاپنے مختصر الفاظ میں خوبصورتی سے معاشرے کو اگاہ کرتے ہیں۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے ایک اسلامی ریاست کی سوچ دی جو حقیقت بن کر پاکستان کی صورت میں ہمارے سامنے ہے اور ہم اس کے باسی ہیں۔شاعر ،ادیب اور مفکر معاشرے کو ایک سوچ اور راستہ دیکھانے  میں مدد دیتے ہیں ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔اس محفل مشاعرہ کے آخر میں پاکستان اور کویت میں امن ،ترقی اور خوشحالی کے لیے صاحبزادہ قاری رضوان عارف نے خصوصی دعا کی ۔محفل مشاعرہ میں محمد عمر،میاں عرفان،صوفی طارق،حاجی جاوید،عبدالحمید بٹ،محمد ریاض،ملک منیر ،ارشد بٹ ، چوہدری آفتاب گجرکے علاوہ کثیر تعداد میں کیمونیٹی کے سرکردہ افراد نے خصوصی شرکت کی ، یہ مشاعرہ رات گئے تک جاری رہا ، محفل کے اختتام پر شرکاء کی تو ضع کا بند و بست بھی کیا گیا۔