حضرت امام ابو حنیفہؒ کے مزار پر

08 نومبر 2013

مفتی محمد تقی عثمانی ۔۔۔
حضرت امام ابو یوسف کے مزار سے نکلے تو سورج ڈھلنے کے قریب تھا اور اب دل میں شدید اشتیاق حضرت امام ابو حنیفہ  کے مزار پر حاضری کا تھا۔  لہٰذا  مہمان نوازڈرائیور نے  مغرب کے وقت جامع الام الاعظمؒ  میں پہنچا دیا۔ حضرت امام ابو حنیفہ  کے مزار مبارک  کی وجہ سے یہ پورا علاقہ ’’اعظمیہ‘‘  کے نام سے مشہور ہے۔  اب تو یہ شہر  کا خاصا بارونق علاقہ ہے لیکن حضرت امام ابو حنیفہ کے عہد مبارک میں یہ ایک قبرستان تھا‘ چونکہ  خلیفہ  کی کنیز ’’خیز ران‘‘ یہاں دفن ہوئی تھی‘ اس لئے یہ  ’’مقبرۃ الخیزران‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔ خطیب نے تاریخ بغداد  میں لکھا  ہے کہ آنحضرت ؐ  کی سیرت  کے مشہور راوی محمد بن اسحاق بھی اسی قبرستان میں  میں مدفون ہیں‘  لیکن اب دوسری قبریں  بے نشان ہو چکی ہیں  اور ان کی جگہ آبادی نے لے لی ہے۔ البتہ  حضرت امام اعظم کا مزار ابھی بھی باقی ہے اور اس کے قریب ایک شاندار مسجد ’’جامع الامام ابی حنیفہؒ‘‘  کے نام سے تعمیر کر دی گئی ہے۔ 
ہم مسجد کے دروازے پر پہنچے تو اذان مغرب کی دلکش صدا گونج رہی تھی۔ مزار پر حاضری سے پہلے مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی پھر شوق و ذوق کے جذبات  دل میں لئے مزار پر حاضری ہوئی‘ ایسا محسوس ہوا کہ سرور و سکون اور نورانیت نے مجسم  ہو کر اس مبارک مزار کے گرد  ایک ہالہ بنا لیا ہے۔ سامنے وہ محبوب شخصیت آسودہ تھی جس کے ساتھ بچپن ہی سے تعلق  خاطر کی کیفیت یہ رہی ہے کہ ان کا اسم گرامی آتے ہی دل میں عقیدت و محبت  کی پھواریں پھوٹتی محسوس ہوتی ہیں۔ 
حضرت امام ابو حنیفہ اس دور میں کوفہ میں پیدا ہوئے جب یہ شہر علم و فضل کا مرکز بنا ہوا تھا۔  اس کے چپہ چپہ  پر بڑے بڑے محدثین  اور فقہا کے حلقہ ہائے درس  آراستہ تھے۔ اور علم حدیث کا کوئی بھی طالب کوفہ کے علماء سے بے نیاز نہیں ہو سکتا تھا۔ حضرت امام صاحب کے والد ماجد کا نام  ثابت تھا اور ان کا انتقال امام صاحب کے بچپن  ہی میں ہو گیا تھا۔ بلکہ  ایک روایت یہ ہے کہ آپ کی والدہ نے بعد میں حضرت جعفر  صادق سے نکاح کر لیا تھا‘ اور آپ ان کی آغوش تربیت  میں پروان چڑھے۔ (حدائق الحنفیہ ص 43 بحوالہ مفتاح السعادہ)شروع میں حضرت امام صاحب تجارت میں زیادہ مشغول رہے ‘ لیکن  ساتھ ساتھ علم عقائد و کلام سے بھی شغف تھا۔  آپ  اپنے عہد کے بیشتر جلیل القدر مشائخ سے علم حاصل کیا۔
شروع میں حضرت امام صاحب کوفہ میں ہی مقیم رہے‘ لیکن کوفہ کے امیر ابن ہبیرہ نے بعض  سیاسی وجوہ کی بناء پر آپ کو نہ صرف قید کیا‘ بلکہ اذیتیں بھی دیں‘ بالآخر جب آپ قید سے رہا ہوئے تو اس کے ظلم وستم سے بچنے کیلئے مکہ  مکرمہ کا رخ کیا اور کئی سال وہاں مقیم رہے‘ بعد میں جب عراق کے حالات سازگار ہوئے تو دوبارہ عراق تشریف لائے‘ اس وقت عباسی خلافت  کا آغاز  ہو رہا تھا۔ شروع میں آپ نے اس امید پر عباسی خلافت کا خیر مقدم  کیا کہ و ہ دینی اعتبار سے  بنو امیہ سے بہتر ثابت ہوں گے۔  لیکن جب یہ امید  بر نہ آئی تو عباسی خلفاء سے بھی آپ کا اختلاف شروع ہوگیا۔ خلیفہ  منصور اپنے عہد حکومت  میں یہ چاہتا تھا کہ امام صاحب کوئی سرکاری منصب قبول فرمالیں‘  تاکہ لوگوں کو ان کی حمایت کا تاثر دیا جا سکے۔ لیکن حضرت امام صاحب  اس لئے کوئی منصب قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے  کہ اس میں بعض خلاف شرع امور  میں سرکاری احکام کی تعمیل کرنی پڑے گی۔ بالآخر جب اصرار زیادہ بڑھا تو آپ نے بغداد کے معماروں کی نگرانی اور اینٹیں شمار کرنے کی ذمہ داری قبول فرما لی۔  بعد میں منصور کی طرف سے عہدہ قضا قبول کرنے پر اصرار  کیا گیا‘ لیکن حضرت امام صاحب  اس پر کسی طرح راضی نہ ہوئے  جس کی پاداش میں منصور نے آپ کو قید بھی کیا‘ اور ایک سو دس کوڑے  بھی لگوائے پھر بعض  روایات  سے تویہ معلوم ہوتا ہے کہ اسی قید کی حالت میں آپ کی  وفات ہوئی‘ اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ رہائی تو ہو چکی تھی‘ لیکن حکومت کی طرف سے فتویٰ دینا اور گھر سے باہر لوگوں  سے میل جول رکھنا ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ اسی حالت میں وقت موعود آ پہنچا‘  اور آپ دنیا سے رخصت ہو گئے اور اس طرح بغداد  کے اس حصے کو آپ کی آرام گاہ بننے کی سعادت حاصل ہوئی۔ 
جیسا کہ پہلے  عرض کیا جا چکا ہے ‘ یہ جگہ جہاں امام اعظم کا مزار ہے ایک قبرستان تھا۔  جو مقبرۃ الخیزان‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔ لیکن  حضرت امام صاحب  کی تدفین کے بعد یہ ’’اعظمیہ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ حضرت امام ابو حنیفہ  کے معتقدین نے یہاں ایک مسجد تعمیر کر لی‘ اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع  کر دیا‘ یہی مسجد وسیع ہوتے ہوتے ایک شاندار جامع  مسجد بن گئی اور اس کی ایک مستقل تاریخ  ہے جس پر مسجد کے موجودہ امام  صاحب نے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ 
حضرت امام ابو حنیفہ کا مزار ہمیشہ مرجع خاص و عام رہا۔  بلکہ خطیب بغدادی  اپنی پسند سے امام شافعی کا یہ قول روایت کیا ہے کہ: انی لا تبرک بآبی حنیفۃ‘ واجیئی الی قبرہ فی کل یوم۔ یعنی زائرا ۔ فاذا عرضت علی حاجۃ صلیت رکعتین‘ وجئت الی قبرہ وسالت اللہ تعالیٰ الحاجۃ عندہ فما تبعد عنی حتی تقضی۔ (تاریخ بغداد ص 123‘ ج ا)
’’میں امام ابو حنیفہ سے برکت حاصل کرنے کے لئے روزانہ ان کی قبر پر جاتا ہوں‘ اور جب کبھی مجھے کوئی ضرورت لاحق ہوتی ہے میں دو رکعتیں پڑھ کر ان کی قبر پر حاضر ہوتا ہوں‘ اور وہاں اللہ تعالی سے اپنی حاجت کا سوال کرتا ہوں‘ اللہ تعالیٰ میری حاجت جلد پوری فرما دیتے ہیں۔‘‘ اور یہ بات تو بہت مشہور ہے کہ ایک مرتبہ امام شافعی حضرت امام ابو حنیفہ کے مزار پر حاضر ہوئے تو وہاں اپنے مسلک کے خلاف نماز فجر میں قنوت نہیں پڑھا‘ کیونکہ امام ابو حنیفہ اس کے قائل نہیں تھے۔
حضرت امام صاحب کے  مزار پر بیٹھ کر ایسا سرور و سکون محسوس ہوا جیسے کوئی بچہ ماں کی آغوش میں  پہنچ کر سکون محسوس کرتا ہے۔ دل چاہتا تھا  کہ یہ کیفیت  طویل سے طویل تر ہوتی چلی جائے۔ لیکن کافی دیر  ہو چکی تھی‘ اٹھے بغیر چارہ نہیں تھا۔  بادل ناخواستہ یہاں سے رخصت ہوئے۔