محرم الحرام میں اتحاد اور رواداری کی ضرورت

08 نومبر 2013

سید عدنان فاروق ۔۔۔
مختلف مسالک کے علماء کرام و مذہبی شخصیات نے محرم الحرام میں اہل اسلام کورواداری، برداشت و تحمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماہ محرم الحرام اسلامی سال کاپہلا مہینہ ہے،جس کااحترام کرنے کاحکم اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدمیں دیا ہے۔ موجودہ دگرگوں ملکی حالات کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آپس میں اختلافات کوپس پشت ڈال کراتحادویکجہتی کامظاہرہ کریںبالخصوص ان ایام میں جب دین اوراسلام کے دشمن فرقہ واریت کی آڑ میں وطن عزیز کے اندرقتل وغارت کابازارگرم کرناچاہتے ہیں۔ اتحاد امت اور ملی یکجہتی کا مظاہرے کرتے ہوئے ہر قسم کی دہشت گردی ، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کر دیں۔  جن کی وجہ سے ہمارا ملک پاکستان آئے دن کمزور سے کمزور تر ہوتا جارہا ہے۔   
ممتاز عالم دین و محقق پرنسپل جامعہ نعیمیہ علامہ محمد راغب حسین نعیمی نے کہا کہ اسلام ہمیں قربانیوں کا درس دیتا ہے اسلام کی تاریخ کا آغازبھی قربانی سے ہوتا ہے اور اختتام بھی قربانی پر۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی ایک عظیم داستان ہے جبکہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قربانی محبت دین کی ایک لازوال مثال ہے جور ہتی دنیا تک قائم رہے گی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے ،اللہ کے رسول کریم ؐ کی شریعت کی پاسداری اور دین اسلام کی بقاء کے لیے ناصرف اپنی بلکہ تمام گھرانے کی قربانی پیش کر دی۔ماہ محرم ہر سال آتا ہے اور اس بات کا  درس دیتا ہے کہ ہم نے محبت،رواداری اور ایک دوسرے کومحبت کا درس سننا اور سنانا ہے۔وہ لوگ جو ایک دوسرے کو مرنے مارنے کی باتیں کرتے ہیں اس پر یقین کر لینا کہ وہ ہم سے نہیں ہیں۔اور ہم نے ان سے علیحدگی کا بھی اعلان کرنا ہے تاکہ ہماری صفوں میں کوئی اور شامل ہوکر انتشار کا سبب نہ بنے  ۔اگرچہ یہ راستہ حق کا راستہ ہے بڑا مشکل ہے لیکن یقین محکم اور عمل پہیم سے اسے ہم عبور کرسکتے ہیں ۔
جماعت اہلحدیث پاکستان کے سربراہ حافظ عبدالغفار روپڑی  نے کہا کہ ماہ محرم الحرام اسلامی سال کاپہلا مہینہ ہے،جس کااحترام کرنے کاحکم اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدمیں دیا ہے۔ سرورکائنات ؐنے اور صحابہ کرامؓحتیٰ کہ کفاربھی اس ماہ مقدس کااحترام کیاکرتے تھے۔لیکن آج سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اسلام کے پیروکار دوسروںکے ہاتھوںیرغمال ہوکراسلامی تعلیمات سے غافل ہوچکے ہیں۔ انہوںنے اس احترام والے ماہ کودہشت زدہ اورقتل وغارت کاماہ متعارف کرایا ہے۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آپس میں اختلافات کوپس پشت ڈال کراتحادویکجہتی کامظاہرہ کریں۔بالخصوص ان ایام میں جب دین اوراسلام کے دشمن فرقہ واریت کی آڑ میں وطن عزیز کے اندرقتل وغارت کابازارگرم کرناچاہتے ہیں۔اسلامی تعلیمات میںیہ چیزعیاں ہے کہ اسلام ہمیں آپس میںعزت،مال وجان اورآبرو کے احترام کادرس دیتا ہے۔
نبی کریمؐ نے عفودرگزرکاایساشا ندارولازوال مظاہرہ کیاکہ اپنے ذاتی وجان دشمنوںکے لیے بھی عام معافی کااعلان فرماکرانسانیت کے لیے بہترین اسوئہ حسنہ کی مثال قائم کی ہے۔ ان کے رفقاء وجانثار صحابہ کرامؓ کی جماعت نے باہمی طورپراخوت ومحبت کاایسامظاہرہ کیاکہ رب العالمین نے اس کاتذکرہ قرآن مجید میںکیااور فرمایا کہ وہ آپس میں رحم دل اورایثارومحبت کامظاہرہ کرنے والے تھے۔ اس لیے خلیفہ ثانی عمرفاروقؓ کی شہادت ہویاسیدعثمانؓ کی شہادت یاسیدناعلیؓ کی شہادت کے المناک ودردناک واقعات کے وقوع پذیرہونے پر بھی اسلامی ریاست میںامن وامان رہا۔ انہی اسلامی تعلیمات کو مدنظررکھتے ہوئے سیدناحسین ؓ نے اپنی شہادت سے چندایام قبل اپنے خاندان والوںکوصبروتحمل کادرس دیا۔کہیںبھی ان کی تعلیمات سے انتقام ونفرت وتشددانہ کاروائیوںکااظہارنہیں ہوتابلکہ رواداری، صبروتحمل کاسنہری درس ان کی عملی زندگی اورتعلیمات کاروشن باب ہے۔
مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ محرم الحرام  قربانی و ایثار کا مہینہ ہے، یہ مہینہ تلوار پر خون کی فتح کا مہینہ ہے جو پوری انسانیت کو صبر و تحمل کے ساتھ جینے کا درس دیتا ہے امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے میدان میں 72اصحاب کے ہمراہ جانوں کا نذرانہ دیکر ظالم کے آگے اپنا سرنگوں نہیں کیا اور رہتی دنیا تک کے لئے اسلام کا پرچم سربلند کیا۔ آج کے دور میں بھی مسلمانوںکو چاہئے کہ کربلا سے درس لیتے ہوئے اتحاد اور وحدت کیساتھ عصرحاضر کے یزید کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اگر دنیا بھر کے مسلمان کٹھ پتلی حکمرانوں سے نجات حاصل کر کے ظالموں کے خلاف متحدہو جائیں تو دہشت گردی ظلم و ستم اور ڈرون حملوں سے نجات مل سکتی ہے۔ آج ہمارے دشمن اپنے ایجنٹوں کے ذریعے مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے درمیان نام نہاد فرقہ واریت کے نام پر فسادات کرانے کی سازش کر رہے ہیں جو کہ مسلمانوں نے اتحاد د و وحدت سے ناکام بنایا ہے پاکستان کے مسلمان بھی محرم سے درس لیتے ہوئے برداشت صبر و تحمل اتحاد و وحدت اور بھائی چارہ کے پیغام عام کریں ۔
خطیب و امام بادشاہی مسجد مولانا سید عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ وطن عزیز جس نازک دور سے گذر رہا ہے اور ملک کو بہت سے خطرات لاحق ہیں ان حالات میں محرم الحرام کی آمد پر ملک میں امن و امان کا قیام مزید انتہائی ناگزیر ہے۔ انتظامیہ کے ساتھ ساتھ امت کے  علماء کرام ، مذہبی رہنمائوں سمیت ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ متحد ہوکر اسلام اور پاکستان کے دشمنوں، تخریب کاروں پر کڑی نظر رکھیں اور اپنے اتحاد و اتفاق سے ان کے عزائم خاک میں ملا دیں۔ اتحاد بین المسلمین وقت کی اہم ضرورت ہے علماء ، ذاکرین محرم الحرام میں مذہبی اجتماعات میں تمام مسالک کے عقائد و نظریات کا احترام کریں اور اس زریں اصول کہ اپنے مسلک کو چھوڑو نہ اور کسی کے مسلک کو چھیڑو نہ پر عمل پیرا ہوں۔ مولاناآزاد نے مزید کہا کہ ملک میں امن کے فروغ میں کیلئے ہمیں چاہئے کہ تمام فروعی اختلافات کو چھوڑ کر اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ اور لوگوں تک اسلام کا صحیح پیغام پہنچائیں جس کا قرآن و حدیث ہمیں درس دیتا ہے۔  جو نبی اکرمؐ کی ذات اقدس اور صحا بہ کرام و اہلبیت اطہار سے ہمیں ملتے ہیں۔ 
ممتاز عالم دین و جامعہ رحمامیہ کے مہتمم مولانا محمد امجد خان نے کہا کہ وطن عزیز اس وقت شدید اندرونی اور بیرو نی دبائو کا شکار ہے مو جو دہ حا لات میں اتحاد امت کی سب سے زیا دہ ضرورت ہے اتحاد امت کے حوالے سے اہم کردار تمام مسالک کو ادا کر نا ہو گا ۔ایک طرف بین الاقوامی سازشیں ہیں اور دوسری طرف وطن عزیز میں نئے سے نیا بحران مو جود ہے۔اس نازک گھڑی میں قر آن مجید کے پیغام اتحاد اور اختلافات سے دور رہنے کی اشد ضرورت ہے حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت حسین ؓ اور دیگر شہدائے اسلام نے امت مسلمہ کو ایک ہی پیغام دیا ہے کہ دین حق کے لیئے بڑی سے بڑی قر بانی دینے کی ضرورت پڑے تو دریغ نہیں کرنا اور دشمن کے مقابلے کے لیئے اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھنا ہے دین اسلام سلامتی سے ہے ہر مسلمان کو اس پیغام کی اشاعت بھی کر نی چاہیے اور اس پر عمل بھی کر نا چاہیے رسول خدا ؐنے ارشاد فرما یا  تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا محفوظ رہے اس پیغام نبوی ؐ پر اگر آج ہر     پاکستانی اور ہر مسلک کا فرد عمل شروع کر دے تو پاکستان میں امن بھی ہو گا اور فرقہ واریت کی آگ بھی نہیں چل سکتی اختلا فا ت کا آغاز زبان کی سختی اور غلط انداز میں استعمال کر نے سے ہو تا ہے اسی طرح اگر ہاتھ کا غلط استعمال اور ہاتھ میں پکڑے قلم کے غلط استعمال سے بھی فر قہ واریت کو فروغ ملتا ہے اس نازک گھڑی میں اتحاد امت کے لیئے اگر ہر منبر ومحراب سے سدا بلند ہو تو یہ وقت کا اہم ضرورت ہے ہمارے نزدیک فرقہ واریت ملک کے لیئے زہر قاتل ہے۔امن کے قیام کے لیئے جو ضابطہ اخلاق تمام مسالک کے علماء نے مرتب کیا ہے اس پر ہر فرد کو عمل کر نا چاہیے اور مو لا نا تھانوی کے اس مقولے کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چا ہئے اپنا مسلک چھوڑونہیں اور دوسرے کا مسلک چھیڑو نہیں ۔
چیئرمین پنجاب قرآن بورڈ مولانا غلام محمد سیالوی نے کہا کہ اسلامی سال کا آغاز  ماہ محرم الحرام سے ہوتا ہے اور یہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں قرآن پاک نے حرمت اور عزت والے مہینے قرار دیا ہے۔  ان مہینوں میں ہر قسم کے فتنہ و فساد اور جنگ و قتال کو ممنوع اور حرام قرار دیا ہے گیا ہے ۔ لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس ماہ مبارک میں فتنہ و فساد برپا کرنے، نفرتیں اور انتہا پسندی پھیلانے کی بجائے امن و سلامتی ، اخوت و محبت اور بھائی چارے کی فضا کو قائم رکھنے میں اپنا مثبت اور موثر کردار ادا کریں اور اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنائیں۔ اتحاد امت اور ملی یکجہتی کا مظاہرے کرتے ہوئے ہر قسم کی دہشت گردی ، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کر دیں۔  جن کی وجہ سے ہمارا ملک پاکستان آئے دن کمزور سے کمزور تر ہوتا جارہا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہر مسلمان کو اپنے مسلک پر قائم رہنے کی مکمل آزادی حاصل ہے کسی کو زبردستی ، ڈنڈے یا کلاشنکوف کے زور پر یا ڈرا دھمکا کسی گروہ کی منشاء کے مطابق اسلام کی ہر گز اجازت نہیں۔  

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...