حضرت سید امام علی الحق ؒ

08 نومبر 2013

ابو سعدیہ سید جاوید علی شاہ ۔۔۔
برصغیر پاک و ہند میں کفر و شرک کے خاتمے اور دین اسلام کی اشاعت و ترویج کے سلسلہ میں اولیائے اکرام‘ بزرگان دین اور مشائخ عظام کا ناقابل فراموش کردار رہا۔ حضرت امام علی الحق شہیدؒ المعروف حضرت امام صاحب کا شمار بھی انہی برگزیدہ ہستیوں میں ہوتا ہے جن کا شجرہ نسب داماد رسول حضرت علیؓ سے جا ملتا ہے۔ آپ 757ھ کے دوران مدینہ منورہ سے دین اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے سلسلہ میں برصغیر پاک و ہند  تشریف لائے اور حاکم وقت فیروز شاہ  تغلق کے ہاں قیام کیا۔ ’’سل کوٹ‘‘ جس کا موجودہ نام سیالکوٹ ہے  اس کے راجہ نے عہد تغلق  میں یہاںایک عظیم الشان قلعہ کی تعمیر شروع کروائی تو  پنڈتوں اور جوتشیوں  کے مشورے پر ’’مراد‘‘ نامی ایک نوجوان مسلمان کو قلعے کی بنیادوں میں  ذبح کر  کے شہید کا سر مبارک دیوار تلے دفن کر دیا گیا۔  قلعہ کی تعمیر مکمل ہو گئی تو مراد علی المعروف شہید اول سیالکوٹ کا مزار اقدس قلعہ سیالکوٹ کی شمالی جانب مرجع خلائق بن گیا۔ آپ کی والدہ مائی راستی اپنے لخت جگر کے قتل کی دکھ بھری داستان لیکر دہلی میں فیروز شاہ تغلق کے دربار میں حاضر ہوئیں تو فیروز شاہ تغلق رنجیدہ  ہوا اور اس نے راجہ سل کے خلاف لشکر کشی کے لئے مبلغ اسلام سید امام علی الحق شہیدؒ سے درخواست کی۔ آپ نے فیروز شاہ تغلق کی درخواست  پر راجہ سل کے خلاف جہاد کرنے کی خاطر فوراً ایک مختصر سا لشکر تیار کیا اور سل کوٹ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ راستے  میں جالندھر کے مقام پر حضرت سید امام علی الحق کے برادر حضرت سید امام ناصر اچانک انتقال کر گئے اور آپ کو وہیں دفن کرکے حضرت امام صاحب نے سل کوٹ کی جانب پیش قدمی دوبارہ شروع کر دی۔ لشکر امام سل کوٹ کی حدود میں داخل ہوا تو پسرور کے مقام پر  لڑائی میں آپ کے چھوٹے بھائی حضرت امام میراں برخودار نے لاتعداد کفار کو واصل جہنم کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔ ایمن آباد روڈ پر راجہ سل کے لشکر کیساتھ خونریز معرکہ آرائی میں حضرت امام علی الحق شہیدؒ کے ایک اور بھائی امام غالب  نے  راہ خداوندی میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ آپ کا مزار اقدس ایمن آباد روڈ پر ہی ایک ٹیلے پر واقع ہے۔ لشکر امام پیش قدمی کرتے ہوئے شہر ’’سل کوٹ ‘‘ میں داخل ہو گیا   جہاں اس نے قلعہ میں محصور راجہ سل کی فوج کو پسپا  ہو جانے پر مجبور کر دیا۔  سید امام الحق کے بھانجے سید سُرخ نے اپنی خداداد قوت ایمانی کے ذریعے قلعہ سیالکوٹ کے دیوہیکل دروازے کو ٹکر مار کر توڑ دیا اور لشکر اسلام ’’اللہ اکبر‘‘ کی فلک بوس صدائیں بلند کرتے ہوئے قلعہ کے اندر داخل ہو گیا۔ اس کے بعد فاتح حضرت سید امام علی الحق شہیدؒ نے سل کوٹ کے ایک ٹیلے پر ڈیرہ جما کر اسلام کی دعوت تبلیغ کا سلسلہ شروع کر دیا جس کے نتیجہ میں بھٹکے ہوئے لوگ تھوڑے ہی عرصہ میں حلقہ بگوش اسلام ہو گئے اور دور دور تک وسلام کا بول بالا ہو گیا۔ راجہ سل کے عزیز و اقارب اور حواریوں کو اپنی عبرتناک شکست کا بیحد صدمہ تھا اور وہ ہمیشہ انتقام کی کھوج میں رہتے تھے۔ حضرت امام علی الحق شہیدؒ متذکرہ ٹیلے پر رات کے وقت اکیلے عبادت خداوندی کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک روز راجہ سل کے سالے ’’بہمن‘‘ نے حضرت سید امام علی الحق شہیدؒ کو حالت نماز میں اکیلا پا کر دوران سجدہ آپ کو شہید کر دیا۔ (ان للہ وانا الیہ راجعون) ۔ ٹیلے پر  عبادت کی جگہ آپ کی تدفین کر دی گئی۔ بعدازاں وہاں آپ کا مزار اقدس تعمیر کر دیا گیا جوکہ آج ہر خاص و عام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آپ کے مزار اقدس کی بالائی منزل پر قبلہ کی جانب ایک چلہ گاہ ہے جہاں لاتعداد بندگان خدا چلہ کشی کرکے فیض امام سے فیضیاب ہوئے۔ مزار کی  رسم غسل کے موقع پر پنجاب بھر سے زائرین کثیر تعداد میں آستانہ عالیہ پر نہایت اہتمام کے ساتھ حاضری دیتے ہیں اور غسل شریف میں مستعمل پانی خیر و برکت کے لئے تقسیم ہوتا ہے۔ گھروں میں اس پانی کا چھڑکاؤ کرنے سے اللہ کی رحمت ہو جاتی ہے اور جادو ٹونے کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ اس غسل کی قیادت اجمل حسین شاہ امامی کرتے جبکہ غسل شریف کے اختتام پر (بعداز نماز عشائ) مزار پر حمد و نعت اور درود سلام کی ایمان افروز محفل منعقد ہوتی ہے جس میں بارگاہ نبویؐ میں ہدیہ صلوۃ و سلام اور منقبت امام پیش کی جاتی ہے۔