بلدیاتی انتخابات کیلئے مناسب وقت دیا جائے، قومی اسمبلی کی متفقہ قرارداد

08 نومبر 2013

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں + نوائے وقت نیوز) قومی اسمبلی نے بلدیاتی انتخابات کے التوا کے لئے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے جبکہ حکومت نے کروڑوں بیلٹ پیپر مقررہ مدت میں چھاپنے سے معذرت کر لی ہے۔ حکومتی معذرت کو الیکشن کمشن نے مسترد کر دیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمشن کی جانب سے دی گئی تاریخوں پر بلدیاتی انتخابات مشکل ہیں، سارا عمل تیزی سے مکمل کیا گیا تو انتخابات غیر شفاف ہونگے، عجلت کا عمل نتائج پر اثرانداز ہو گا، بلدیاتی انتخاب کے انعقاد کیلئے مناسب وقت دیا جائے، اس سلسلے میں سپریم کورٹ معاونت کرے۔ قرارداد پر خورشید شاہ، شاہ محمود قریشی، فاروق ستار، طارق بشیر چیمہ، محمود خان اچکزئی اور آفتاب شیخ کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے دستخط کئے، قومی اسمبلی میں قراداد پیپلز پارٹی کے رکن سید نوید قمر کی جانب سے پیش کی گئی۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے مناسب وقت دیا جائے، بیلٹ پیپرز کی چھپائی قانون کے مطابق ہونی چاہئے، بیلٹ پیپرز کی چھپائی نجی پرنٹنگ پریس سے نہ کرائی جائے۔ بلوچستان کا نام قرارداد میں شامل کرنے کی ترمیم بھی منظور کی گئی۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد پر پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں نے اتفاق کیا اور اس کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ خورشید شاہ نے نقطہ اعتراض پر کہا کہ کہ پرائیوٹ پرنٹنگ پریس سے بیلٹ پیپر چھپوا کر بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تو تسلیم نہیں کریں گے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ہر صورت میں انتخابات کرانے کے فیصلے سے ملک کا بیڑا غرق ہو جائیگا۔ انتخابات کرانا سپریم کورٹ کا نہیں ہمارا کام ہے۔ بیلٹ پیپرز کی چھپائی سے وفاق کا انکار سمجھ سے بالاتر ہے، جوڈیشری اتنی بھی آزاد نہیں ہونی چاہئے جو سیاسی فیصلے کرے، صوبائی حکومتیں اگر جھرلو پھیر دیں تو ہم اس الیکشن کو تسلیم نہیں کرینگے، الیکشن کمشن نے جلد بازی میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا ہے، کمشن پر پہلے ہی شک و شبہات ہیں، جلد بازی میں بلدیاتی الیکشن سے انتخابی نظام تباہ ہو جائیگا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ماضی میں الیکشن کمشن کی کارکردگی زیادہ تسلی بخش نہیں تھیں ابھی حلقہ بندیاں بھی نہیں ہوئیں اور شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ہے یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے، محرم الحرام میں الیکشن کا انعقاد کیسے ہو گا۔ بلدیاتی انتخابات کیلئے بیلٹ پیپر کی پرائیویٹ پریس سے چھپائی کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن چاہتے ہیں سلیکشن نہیں۔ بلدیاتی انتخابات عجلت میں کرانا عوام کے حق پر ڈاکہ ہے، بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کی گئی توہم سڑکوں پر نکلیں گے اور دھرنے بھی دیں گے، سپیکر نے اس موقع پر کہا کہ آئین میں ججز کے بارے میں جو لکھا ہے اس کا احترام کیا جائے جس پر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ بعض فیصلوں پر بات ہو سکتی ہے یہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آتی اس پر بات ہونی چاہئے، سپیکر نے جواب میں کہا کہ بلدیاتی الیکشن کرانے کے احکامات سپریم کورٹ نے دیئے ہیں اس لئے اس پر بات کرتے وقت آئین کو مدنظر رکھیں، اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آزادانہ صاف شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے، نئی حلقہ بندیوں کے مطابق انتخابی فہرستیں بھی تیار ہونی چاہئیں۔ خیبر پی کے میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کیا، نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے حق میں ہیں۔ غوث بخش مہر نے نقطہ اعتراض پر کہا کہ یونین کونسلر کی حق بندی بعد میں ہو گی اور کاغذات نامزدگی پہلے لئے جا رہے ہیں، پرنٹنگ پریس سے چھپوائی کی وجہ سے اگر دھاندلی نہ بھی ہو تب بھی حکومت پر الزامات لگیں گے، سندھ میں بلدیاتی شیڈول کا اعلان ہونے کے بعد بھی مخالفین کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ وزیر ریلوے سعد رفیق نے کہا کہ 43 کنٹونمنٹ میں الیکشن کا مسودہ وزیراعظم کو بھیج دیا ہے، کنٹونمنٹس میں عرصے سے مارشل لاء لگا ہوا ہے، سپریم کورٹ نے ہماری بات نہیں سنی سعد رفیق نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اس ایوان سے اٹھنے والی آوازوں پر غور کرنا چاہئے، زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں بے شک بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کچھ تاخیر ہوئی ہے مگر کچھ وقت مل جائے تو معاملہ سیدھا ہو جائے گا۔ عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ ہم نے اپنا کام مکمل نہیں کیا تو سپریم کورٹ کو ایکشن لینا پڑا، ایم کیو ایم کسی بھی صورت بلدیاتی انتخابات کے التوا کے حق میں نہیں صوبائی حکومتیں مرضی کا بلدیاتی نظام چاہتی ہیں، حکومت بلدیاتی انتخابات کرواتی تو سپریم کورٹ مداخلت نہ کرتی۔ امین فہیم نے کہا کہ عدلیہ کا کام سیاست کرنا نہیں ہے، جیسے ہم عدلیہ کے معاملات میں دخل نہیں دیتے، عدلیہ بھی پارلیمنٹ میں دخل اندازی نہ کرے، آئین میں ترمیم کی جائے، عدلیہ کوئی مقدس گائے نہیں، عدلیہ کا کام حکم چلانا نہیں ہے، الیکشن کمشن میں اہلیت نہیں تو الیکشن شفاف نہیں ہوں گے، غیر شفاف الیکشن کا نتیجہ تباہ کن ہو گا۔ شیر اکبر خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بلدیاتی انتخابات کرانا ممکن نہیں ہم صاف شفاف انعقاد چاہتے ہیں تاکہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں۔ جمشید دستی نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کرانے کا ابھی کوئی فائدہ نہیں، سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائے کہ ہمیں وقت دیا جائے۔ فاروق ستار نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے کہاکہ بلدیاتی انتخابات کا التوا نہیں چاہتے، قرارداد سے متعلق منفی تاثر نہ دیا جائے۔ فاروق ستار نے کہا کہ جادو کی چھڑی سے بھی مختصر وقت میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔ ڈرون حملوں پر بحث کے دوران ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرا کے ڈرون حملوں کا معاملہ اٹھائے جذباتی فیصلے کرنے کی بجائے نیٹو سپلائی روکنے کیلئے متفقہ فیصلے کئے جائیں، نئی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایک بار پھر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے، حکومت ڈرون حملے رکوانے میں سنجیدہ ہے تو امریکی جنگ سے نکلے، ڈرون حملے غیر قانونی ہیں قوم اور ایوان متفق ہے حملے بند ہونے چاہئیں، مسئلہ کشمیر حل کرانے کا اقوام متحدہ نے کہا اس وقت سے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا جا رہا ہے، امریکہ ہمارے قوانین پر عمل نہ کرے تو خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ قاری محمد یوسف نے کہا کہ اسلامی ملک بننے کے بعد بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہوئی، ہماری طرف سے آواز اٹھانے پر اقوام متحدہ نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر حل کرینگے۔ اس وقت سے اقوام متحدہ ہمارے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے۔ ایاز سومرو نے ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی نے غریبوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ میاں عبدالمنان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو عوام نے منتخب کیا ،ہمیں ملک کے حالات اور تباہ شدہ معیشت بھی دیکھنی چاہئے۔ شیر اکبر خان نے کہا کہ پاکستان نے اپنے قیام کے بعد امریکی اتحادی بننے سے جو نقصانات اٹھائے وہ سب کے سامنے ہیں۔ اعجاز الحق نے کہا کہ ہم نے کل جماعتی کانفرنس کے فیصلوں کی بھرپور حمایت کی، مذاکراتی عمل کے حوالے سے جو فیصلہ ہوا تھا اس پر میری رائے تھی کہ امریکہ کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ عارف علوی نے کہا کہ ڈرون حملے غیر قانونی ہیں اس پر قوم اور ایوان متفق ہے حملے بند ہونے چاہئیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارے بھی اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں تحفظ پاکستان آرڈیننس 2013ء اور انسداد دہشت گردی ترمیمی آرڈیننس 2013ء سمیت 3 آرڈیننس جمعرات کو پیش کر دئیے گئے، تینوں آرڈیننس وزیر مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی زاہد حامد نے ایوان میں پیش کئے۔ ادھر حکومت نے کروڑوں بیلٹ پیپرز مقررہ مدت میں چھاپنے سے معذرت کر لی ہے۔ کابینہ ڈویژن کے سیکرٹری کے مطابق الیکشن کمشن کی ہدایت پر حکومتی ذمہ داران سے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے معاملے پر بات ہوئی تاہم اتنی کم مدت میں 40 کروڑ بیلٹ پیپرز کی چھپائی ممکن نہیں۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمشن نے سیکرٹری کابینہ کو تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت کی تاہم بعدازاں الیکشن کمشن نے حکومت کو مقررہ مدت کے اندر بیلٹ پیپرز کی چھپائی یقینی بنانے کیلئے حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ حکم نامے میں حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کیلئے بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ مقررہ مدت کے اندر یقینی بنائے۔ الیکشن کمشن کے حکم نامے پر کمشن کے چار ارکان کے دستخط موجود ہیں، الیکشن کمشن آف پاکستان نے یہ حکم نامہ سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو بھجوا دیا ہے۔ الیکشن کمشن کو قومی اسمبلی کی قرارداد کی کاپی بھی مل گئی ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے الیکشن کمشن حکام سے ملاقات کی جس میں انہوں نے حکومت کی جانب سے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کیلئے صاف انکار کر دیا۔ سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد کے ساتھ میڈیا سے بات چیت میں وزیر خزانہ نے کہا کہ بیلٹ پیپرز 20 سے 25 دن میں نہیں چھپ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے معاملے میں نہیں پڑنا چاہتی۔ الیکشن کمشن خود یہ معاملہ حل کرے۔ حکومت بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے معاملے میں پڑی تو انتخابی شفافیت متاثر ہو گی۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ الیکشن کمشن پبلک سیکٹر پرنٹنگ پریس کے ذریعے بیلٹ پیپرز چھپوائے، حکومت ان کی پوری مدد کرے گی۔