ہماری ابتر حالت کی وجہ ہمارا طرز عمل

08 نومبر 2013

مکرمی! گذشتہ روز ایک قومی اخبار میں ایک ایسی تصویر دیکھنے کو ملی جس میں کچھ افراد جو بظاہر کافی معزز اور پڑھے لکھے لگ رہے تھے ٹوکیوکی گلیوں سے کوڑا کرکٹ چنتے نظر آ رہے تھے۔ یہ تصویر دیکھ کر پہلا خیال یہ آیا کہ اس طرح اگر لوگ پاکستان کے کسی بھی شہر میں کسی شخص کو وطن معاشرہ اور اپنے شہر سے محبت کے خیال سے گلیوں سڑکوں سے کوڑا کاغذ چنتا دیکھ لیں تو اسے پاگل کہیں گے۔ دراصل عام لوگوں کے روئیے کسی بھی معاشرہ یا ملک کی حالت بگاڑنے یا بہتر بنانے میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جاپان جیسے ملک میں افراد اگر اس طرح حب الوطنی کے جذبہ سے اور اپنی گلیوں اور کوچوں کو صاف ستھرا رکھنے کی غرض سے کبھی کبھار اس طرح مشق کا مظاہرہ کرتے ہیں تو یہ انکی اعلیٰ ظرفی وطن سے محبت کا ثبوت مثالی شہری ہونے کی روشن مثال ہے۔ مگر ہم جو اس طرح کے طرز عمل کو پاگل پن قرار دیتے ہیں ‘ کوڑا کرکٹ ڈسٹ بن یا اسکی مقرر شدہ جگہ کی بجائے جہاں دل چاہے پھینک دیتے ہیں اور تو اور ہمارے ہاں صفائی ستھرائی کا محکمہ بھی دیگر محکموں کی طرح فرض سے غفلت کام چوری‘ بدعنوانی اور لوٹ مار میں حصہ دار ہے۔ (شیر سطان ملک۔ ماڈل ٹائون لاہور)