طالبان کے ساتھ مذاکرات کا بین الاقوامی کسوٹی پر جائزہ

08 نومبر 2013

کچھ عرصہ سے پاکستان کے مختلف صوبوں میں امن و امان کی صورت حال مختلف سطح پر نہ صرف غیرتسلی بخش بلکہ تشویشناک صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ نہ ہی انفرادی سطح پر شہریوں کی جان و مال اور آبرو محفوظ ہے اور نہ ہی اجتماعی سطح پر پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں کوئی ادارہ بشمول دفاعی و حکومتی ایڈمنسٹریشن کے ادارے محفوظ ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ امن و امان قائم رکھنے کے سنٹر تجارتی مرکز‘مذہبی عبادت گاہیں اور ہر سطح کے تعلیمی ادارے خصوصاً لڑکیوں کے تعلیمی مراکز دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ دوسری طرف صدر مملکت سے لیکر وزیراعظم مرکزی اور صوبائی وزراء ممبران پارلیمنٹ افواج اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ ترین سطح کے افسران خود کش دھماکوں کی زد سے محفوظ نہیں ہیں۔ صورتحال بہ ایں جا رسید کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران حالیہ حکومت اور اس کی پیش رو ماضی کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی نا اہلی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ملک کے نظم و نسق کی بہتری اور عوام کو گڈ گورننس کے بنیادی فرائض بجا لانے کی بار بار تلقین کر چکے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ابھی تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔قیام پاکستان سے لیکر آج تک گزشتہ 65 سالوں کے دوران بدقسمتی سے مملکت خداداد کوعلامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کے تصورات کے مطابق ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کے ڈھانچے میں دنیا کے سامنے ایک مثالی رول ماڈل جو امن و امان مساوات اور انصاف کا گہوارا ہو پیش کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے چند سال کے اندر نوزائیدہ مملکت صوبائیت فرقہ واریت لسانیت قبائلی اور برادری ذہنیت کا شکار ہو کر باہمی مشاورت اور یگانگت کی جگہ منافقت اور ذات پات کے تعصبات کا شکار ہو کر اس فرمان الٰہی سے نافرمانی کے مرتکب ہوئے کہ اے مسلمانوں اپنے معاملات خوش اسلوبی سے طے کرنے کیلئے باہمی مشاورت کر لیا کرو۔ تاکہ تمہیں اپنے اعمال اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت اور نصرت حاصل ہو۔ اسکے برعکس پاکستان دشمن عناصر کی سازشوں کے جال میں پھنس کر ہم مشرقی پاکستان آدھا ملک کھو بیٹھے۔ لیکن وطن عزیز کے 1971ء میں دو لخت ہو جانے کے باوجود ہم نے کوئی سبق نہ سیکھا۔ اور آج 2013ء میں ہم اپنے باہمی انتشار اور وطن عزیز کی قومی سلامتی کے نازک تاریخی موڑ پر ایمان اتحاد اور یگانگت سے لاتعلق اور بیزار ہو کر ایسی وطن دشمن طاقتوں سے مذاکرات کیلئے ایسے مائل ہیں جیسے ایک تھکا ہوا مایوس مسافر زندگی کی بازی ہارنے سے قبل دور سے ریت کے چمکتے ذروں کو پانی سمجھ کر خود فریبی کے عالم میں اپنی خشک زبان کو اپنے خشک ہونٹوں پر اپنی تھوک سے پانی کی نمی تلاش کرتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مشاورت میں برکت ہے لیکن مشاورت کیلئے دو فریقین کا ہونا لازم ہے کیونکہ تالی صرف دو ہاتھوں سے ہی آواز پیدا کرتی ہے ورنہ ایک ہاتھ ہزار بار ہوا میں ہلانے سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ دوسرا مذاکرات کا اہم ترین پہلو دونوں فریقین کے معقول لیول کا تعین کرنا شرط اول ہے۔ زمانہ قدیم سے فریقین کے لیول کی سطح متعین ہے۔ بادشاہ صرف بادشاہوں سے ہی مذاکرات کرتے ہیں۔ وزیراعظم یا دیگر وزیر اپنے ہم مرتبہ لوگوں سے معاہدے اور مذاکرات یا مشورے کرتے ہیں۔ فوجی کمانڈر سیاسی لیڈر تاجر تعلیمی معاشی یا اقتصادی عہدیدار یا وفد اپنے برابر کے رتبے سے مشاورت یا معاہدوں کی کارروائیاں شروع کرتے ہیں۔ یہ ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ روایت ہے۔ امریکی حکومت اپنے خصوصی قومی مفاد کے پیش نظر افغانستان میں طالبان سے اس لئے بل واسطہ یا بلاواسطہ مذاکرات کیلئے آمادہ ہیں کیونکہ افغانستان کی ایک سابق تسلیم شدہ حکومت ملاعمر کی سربراہی میں کئی برس افغانستان میں برسر اقتدار رہی ہے۔ اور آج بھی ملا عمر کی سربراہی میں طالبان نے ایک متحدہ قوت کے طور پر ان کے ملک افغانستان پر امریکی قبضہ کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اپنی ماضی کی حکومت کی بحالی کی جدوجہد کو جاری رکھا ہوا ہے۔ چنانچہ تحریک طالبان افغانستان کا سرکاری STATUS افغانستان کی ایک سابقہ حکومت ہونے کاہے۔ جن کا متفقہ تسلیم شدہ واحد لیڈر اب بھی ملاعمر ہی ہے۔ اسکے برعکس تحریک طالبان پاکستان کا STATUS بے شک ایک ایسی تنظیم کا ہے جو طاقت اور تشدد کے استعمال سے گو پاکستان میں ایک اپنی پسند کا اسلامی انداز حکمرانی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ابھی تک ان کا تعلق اور دائرہ کار فاٹا کے علاقے میں شمالی وزیرستان کے بعض حصوں تک محدود ہے۔ ابھی تک انہوں نے نہ کبھی پاکستان کی مین سٹریم سیاست میں حصہ لیا ہے نہ اپنے آپ کو ایک سیاسی پارٹی الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ کروا کر کسی سطح کے صوبائی یا پارلیمنٹ کے الیکشن میں حصہ لیا ہے۔ اس لئے سیاسی طور پر وہ ایک پاکستان کے ایک مخصوص علاقے کا ایسا MILITANT گروہ ہے جن کے کچھ مذہبی اور سیاسی مطالبات ہیں جن پر غور کرنا اور مطالبات کا جائز آئینی حل تلاش کرنے کی خواہش یاعزم کااظہار کرنا یقینا باہمی مشاورت کا ایک احسن طریقہ ہے۔ لیکن اس بارے میں میری ناقص رائے میں ابتدائی سطح پر ان مذاکرات کا آغاز تحریک طالبان پاکستان کے نامزد لیڈر یا DELEGATION اور پولیٹیکل ایجنٹ نارتھ وزیرستان ہونا چاہئے جس میں صوبائی سطح کی حکومتیں خیبر پختونخواہ اور قائد تحریک طالبان کو اپنی سطح کی ROUND TABLE CONFERENCE کے دیگر شرکاء کو بات چیت کے دائرہ اور ایجنڈا کو وفاقی وزیر داخلہ اور گورنر خیبر پی کے کے سامنے مزید پیش رفت کیلئے آگے بڑھانا چاہئے کیونکہ فاٹا کے نظم و نسق کی ذمہ داری حکومت پاکستان کی طرف سے صوبائی گورنر کو سونپی گئی ہے۔ اس امر میں مجھے یقین ہے کہ گورنر خیبر پختونخواہ صوبائی وزیراعلیٰ اور مقامی کور کمانڈر ڈائریکٹر جنرل فرنٹیئر کور اور مقامی دیگر اہم شخصیات کو بھی ضرور شریک اور شامل کریں گے۔ اگر تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی نیت پاکستان کے بہترین مفاد میں مذمر ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ مذاکرات کی میز کو چھوڑ کر جنگ وجدل کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اگر پر امن آپشن اختیار کرنے سے ملکی سلامتی کا وجود خطرات سے دوچار ہو جائے تو ایسی صورت میں وزیراعظم اور صدر پاکستان کو اپنے آئینی فرائض ادا کرنا لازم ہو جاتا ہے۔