مذاکراتی عمل کی حمایت، خوش آئند ہے

08 نومبر 2013

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر کا سب سے اہم فائدہ یہ ہوا ہے کہ وہ لبرل حلقے جو کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حامی نہیں ہو پا رہے تھے انکی طرف سے بھی دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کیلئے کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنے کی حمایت شروع کر دی گئی ہے اس کا واضح ثبوت ایم کیو ایم کی طرف سے بھی ڈرون حملوں پر قومی اسمبلی میں بحث کے دوران مذاکراتی عمل کی حمایت کرنے سے ملتا ہے۔ کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود اور انکے ساتھیوں کی ڈرون حملے میں جاں بحق ہونے کے بعد تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ عوام بھی اس اہم ایشو پر کمربستہ ہو چکے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اسمبلی میں طالبان سے مذاکراتی عمل جاری رکھنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ نیٹو سپلائی بند کرنے کے معاملے پر اپوزیشن تقسیم ہے۔ تحریک انصاف نے خیبر پی کے کی صوبائی اسمبلی میں 20نومبر تک الٹی میٹم دیتے ہوئے اس تاریخ کے بعد نیٹو سپلائی بند کرنے کی قرارداد پاس کر رکھی ہے۔ عمران خان نے بھی 20نومبر کے بعد نیٹوسپلائی بند کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ حکومت اور اپوزیشن کی دیگر جماعتیں اس ایشو پر ایک نہیں ہیں۔ حکومتی موقف وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید کی زبانی سامنے آ چکا ہے جس میں انہوں نے برملا کہا ہے کہ نیٹوسپلائی کی بندش سے پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو جائیگا۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی طرف سے بھی کھل کر نیٹو سپلائی بند کرنے پر ملاجلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے یہ تو کہہ دیا ہے کہ امریکہ اگر کسی کتے کو بھی مارے تو شہید کہیں گے مگر انکی طرف سے نیٹوسپلائی کی بندش پر کھلم کھلا موقف سامنے نہیں آیا۔ نائن الیون کے بعد سے امریکہ نے جب 2002ء میں تورابورا پر حملہ کیا تب سے نیٹوسپلائی پاکستان کے راستے جاری ہے۔ اس سپلائی کے وطن عزیز کو سڑکوں اور معاشی و اقتصادی انفراسٹرکچر کے نقصانات کے علاوہ بھی امن عامہ اور دیگر کئی حوالوں سے نقصانات برداشت کرنا پڑے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اعتراف ہو چکا ہے کہ اب تک امریکہ کی طرف سے 9 ساڑھے 9سالوں میں صرف 60 سے 65ارب ڈالر کی امداد فراہم ہوئی ہے جب کہ ہمارا نقصان 100 سے 110ارب کے لگ بھگ ہے۔ قومی اسمبلی میں بحث کے دوران تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر کہا ہے کہ امریکہ خدا نہیں قوم یکسو ہو تو ہماری بات سننا پڑیگی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی قومی اسمبلی میں کلمہ طیبہ پڑھ کر کہا ہے کہ صرف ایک خدا سے ڈرنا ہو گا۔
 حکیم اللہ محسود جو پاکستان کی موجودہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے نہ صرف آمادہ ہو چکا تھا بلکہ طالبان کے بیشتر گروپس جو مذاکرات نہیں چاہتے تھے انہیں بھی مذاکرات پر قائل کر رہا تھا اس پر اس وقت ڈرون حملہ کر کے ہلاک کرنا کیا پاکستانی حکومت اور سیکورٹی فورسز کو چیلنج کرنے کے مترادف نہیں ہے جبکہ امریکہ ڈرون حملہ کر کے مذاکراتی عمل امن کو سبوتاژ کرنے کے باوجود بڑھکیں لگانے میں مصروف ہے۔
 امریکی ترجمان محکمہ خارجہ کے حالیہ بیان کو اس تناظر میں کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں نیٹو سپلائی کی بندش کا کوئی امکان نہیں۔ اس حقیقت کو کوئی نظرانداز نہیں کر سکتا کہ کالعدم تحریک طالبان کی طرف سے بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کے بعد اس تحریک کی حمایت کسی بھی زاویے اور نکتہ نظر سے جائز نہیں قرار دی جا سکتی لیکن حکومتی سطح پر انکے ساتھ مذاکرات امن عمل کیلئے انتہائی ضروری سمجھے گئے ہیں۔
 بہرحال امریکہ کی طرف سے مذاکراتی عمل شروع ہونے کے قریب ترین ڈرون حملے نے امریکہ کے اصل چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے جس پر نیٹوسپلائی بند کرنے کے ایشو پر اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں بھی تقسیم ہو چکی ہیں۔ تحریک انصاف 20نومبر کے بعد کیا کرتی ہے اس کا فیصلہ آنے والا وقت کر دے گا لیکن اگر امریکہ ڈرون حملے جاری رکھتے ہوئے مذاکراتی امن عمل کو سبوتاژ کر رہا ہے تو پھر نیٹوسپلائی بند کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں آخر سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد بھی نیٹوسپلائی لائن تقریباً ڈیڑھ ماہ تک بند رہی ہے اگر حکومت کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کرنے میں کامیاب ہو گئی اور یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہو گئے تو کوئی شک نہیں وطن عزیز میں امن و عامہ کی صورتحال کو یقینی بنایا جاسکتا ہے کیونکہ پٹھانوں کی تاریخ ہے کہ آج تک مذاکرات ناکام نہیں ہوئے ڈائیلاگ سے گل بہادر گروپ کا شمالی وزیرستان میں معاہدہ چل رہا ہے، نذیر گروپ کے ساتھ معاہدہ کامیابی سے رواں دواں ہے۔ تمام حلقوں کا مذاکرات پر متفق ہونا خوش آئند عمل ہے کیونکہ صرف آپریشن اس مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا اگر صرف آپریشن پر انحصار کیا جائے تو پھر امریکہ جس طرح عراق اور افغانستان میں اپنی جنگی کارروائیوں کی ناکامی کے بعد مذاکرات کو ترس رہا ہے اور مذاکرات نہیں ہو پا رہے خدشہ ہے ہم بھی پہلے آپریشن کا آپشن استعمال کر کے ایسی حماقت نہ کر بیٹھیں۔