لاشوںکے ڈھیر پر کھڑے بوزنے!

08 نومبر 2013

ڈھائی ہزار سال پہلے ایک جانب مغرب میں یونان اوردوسری جانب مشرق میں آندھرا پردیش دو متوازی تہذیبوں کے طور پر ابھر کر سامنے آئے، لیکن دونوں خطوں میں آندرا پردیش کو اپنی زمین کی زرخیزی، کسانوں کے خون پسینے کی محنت، کم لگان اور سب سے بڑھ کر ایک جمہور پسند حکومت کی وجہ سے ممتاز مقام حاصل ہوگیا،یوں آندھرا پردیش کی ایک ریاست اپنے وقت کی امیر ترین ریاستوں میں شمار ہونے لگی۔ یہ کالنگا کی ریاست تھی، جس کے کھلیان دریائے گنگا او ردریائے دامودر کا پانی پی کر سونا اگلتے اور کاشتکاروں کے خون پسینے سے جنم لینے والے گندم کے سنہری خوشے رقصِ درویش پیش کرتے تو یہ علاقہ جنت سے کم معلوم نہ ہوتا،اسی لیے مہم جوؤں کی رالیں ہر وقت اس ریاست کی دولت پر ٹپکتی رہتی تھیں۔ بہت سے تلوار بازوں نے اپنازورِ بازو آزمایا، لیکن کالنگا کے عوام کو کوئی غلام نہ بناسکا، کیونکہ ریاست ان کی محافظ تھی، یوں ریاست پر برا وقت آتا تو عوام بھی برچھے بالے اٹھاکر دشمن کے سامنے ڈٹ جاتے، لیکن260 قبل مسیح میں لڑی جانیوالی ایک ہولناک جنگ سقوطِ کالنگا پر منتج ہوئی۔جنگ کے اختتام پر کالنگا کی گلیوں ، بازاروں، عبادت گاہوں اور گھروں میں لاشوں کے ڈھیر پڑے تھے۔ ندی نالے اور نہریں خون سے اٹ چکی تھیں۔ سنہری بالیوں والی فصلیں جل کر راکھ ہوچکی تھیںاور ہر طرف وحشت کا عالم تھا۔ایک لاکھ سے زیادہ افراد تیر وتفنگ کا رزق بنے ، لاکھوں ہمیشہ کیلئے معذور ہوگئے اور کالنگا کا شہر جلاکر خاکستر کردیا گیا۔ لاشوں کی بساند سے اٹے کالنگا کے شہرسے گزرتے ہوئے اس جنگ کا فاتح اور موریا خاندان کا تیسرا حکمران اپنے سر پر خاک ڈالے جاتا تھا اور روئے جاتا تھا ’’یہ میں نے کیا کیا؟ اگر یہ فتح ہے تو پھر شکست کیا ہوتی ہے؟یہ فتح ہے یا شکست ہے؟یہ انصاف ہے یا ظلم ہے؟یہ بہادری ہے یا بزدلانہ پسپائی ہے؟کیا معصوم بچوں اور خواتین کو ہلاک کرنا بہادری ہے؟ کیا میںنے یہ اپنی سلطنت کو وسعت دینے اور عوام کو خوشحالی دینے کیلئے ایسا کیا یا دوسری سلطنت کو تباہ کرنے اور اجاڑنے کیلئے ایسا کیا؟یہ میں نے کیا کیا؟ اس جنگ میں کسی نے اپنے شوہر کو کھودیا ، کسی نے اپنے باپ کو، کسی نے اپنے بیٹے کو اور کسی ماں نے اپنے بچے کو جننے سے پہلے ہی کھودیا۔میں لاشوں کے ان ڈھیروں کو کیا کہوں؟ کیا یہ فتح کی علامت ہیں یا شکست کی نشانی ہیں؟ کیا لاشوں پر منڈلاتے یہ گدھ، کوّے اور چیلیںفاتح کی موت کی پیامبر ہی تو نہیں ہیں؟‘‘لاشوں کے درمیان اس خودکلامی سے اپنا دل کھول کر رکھ دینے والاکوئی اور نہیں بلکہ موریا خاندان کا سب سے عظیم حکمران اشوک اعظم تھا۔اشوکا نے اپنی یہ خود کلامی اپنے تینتیس فرامین میں سے تیرہویں فرمان میں خود نقش کرائی لیکن یہ خودکلامی آج بھی سمجھنے ، سوچنے اور شعور رکھنے والوں کو دعوت فکر دیتی ہے۔ جنگ ِ کالنگا نے اشوک پر گہرا اثر چھوڑااور اسکو یکسر بدل کر رکھ دیا۔وہ ایک جنگجو سے آہنسا کا پجاری بن گیااوراپنی باقی ساری زندگی عدم تشدد کا پرچار کرنے میں گزار دی۔
عجیب بات ہے کہ بھارت میں تئیس صدیاں گزرنے کے بعد بھی اشوکا کو ہر دور کا سب سے بڑا حکمران تو تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن اسکے فرامین پر عمل کرنے کو کوئی تیار نہیں۔ آج بھی کالنگا کو اجاڑنے والوں کی تو بھارت میں کوئی کمی نہیں، لیکن کالنگا کے نتائج سے سیکھنے والا ایک بھی نظر نہیں آتا۔یہی وجہ ہے کہ یو این ڈی پی کے وضع کردہ پیمانے کے مطابق بھارت کی آدھی سے زیادہ آبادی خط غربت کے نیچے زندگی گزاررہی ہے۔ خودبھارتی حکومت کی تشکیل کردہ ٹینڈولکر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی آبادی کا سینتیس فیصد حصہ انتہائی غربت کے زمرے میں آتا ہے۔جہاں اکسٹھ کروڑ لوگوں کو دو وقت کی روٹی ، سر پر چھت اور صحیح طریقے سے تن ڈھانپنے کو پورے کپڑے بھی میسر نہیںآتے۔ بھارتی منصوبہ بندی کمیشن کے حساب کتاب کا یہ عالم ہے کہ اس نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ جو لوگ بتیس روپے یومیہ خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہیں انتہائی غریب ہونے کے زمرے میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ یو این ڈی پی کے آمدنی، صحت اور تعلیم کی بنیاد پر وضع کیے جانے والے انڈیکس کے مطابق بھارت ایک سو ستاسی ممالک میں سے ایک سو چونتیسویں نمبر پر آتا ہے۔ بھارت میں غربت کی وجہ سے ’’کرائے کی ماؤں‘‘ کا مکروہ دھندہ بھی عروج پکڑ رہا ہے۔دیگرجنوبی ایشائی ممالک کی طرح بھارتی سرکار کے پاس بھی عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے وقت ہے نہ ہی وسائل، لیکن عسکری منصوبوں پر اربوں ڈالر بے دریغ لٹائے جاتے ہیں۔ ایک جانب بھارت میں کروڑوں زندگیاں داؤ پر لگیں ہیں تو دوسری جانب بھارت نے اربوں روپے لگاکر ’’زندگی‘‘ کی تلاش میں اپنا پہلا خلائی مشن ’’منگل یان‘‘ مریخ کی جانب روانہ کردیا ہے۔ یہ مشن سپرپاور بننے کی بھارت کی گمراہ کن خواہش کی تکمیل کا حصہ نہیں تو اور کیا ہے، حالانکہ بھارت جیسے غریب ملک کو خلائی مہمات کی ضرورت ہی نہیں ہے۔یوں بھی جب گزشتہ نصف صدی میں بڑی طاقتوں کی جانب سے مریخ کی جانب بھجوائے جانیوالے پینتالیس میں سے تیس مشن ناکام ہوچکے ہوں تو بھارت جیسے غریب ملک کی سرکار کو اربوں روپے اس منصوبے پر لگانے کی کیا ضرورت تھی؟
قارئین محترم! آج سے تئیس صدیاں پہلے جو مقام موریا حکمران کی سلطنت کو حاصل تھا، آج کا بھارت اُسکے بارے میں محض تصور ہی کرسکتا ہے، اسکے باوجود افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اشوکا نے جو سبق چند روزہ جنگ میں ایک شہر اجاڑ کرسیکھ لیا، وہ سبق جنوبی ایشیا کے خود ساختہ ’’تھانیدار‘‘نے طاقت کے خمار میںاپنے کروڑوں شہریوں کو اپنے جنگی جنون کی بھینٹ چڑھاکر بھی نہیں سیکھا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک ارب سے زائد کی آبادی والے اس ملک میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو ایک لمحے کو رُک کر پیچھے دیکھے اور کہے ’’ یہ ہم نے کیا کیا؟اگر یہ فتح ہے تو پھر شکست کیا ہوتی؟ بھارت کی بدقسمتی تو یہ ہے کہ مریخ پر مشن بھیج کراس نے ’’کالنگا‘‘ کا میدان تو فتح کرلیا، لیکن کروڑوں لاشوں کے درمیان اب کوئی قدر آور اشوکا نہیں بلکہ مودی اور راہول جیسے بوزنے کھڑے ہیں، جن کے قد سے لاشوں کے ڈھیرکہیں زیادہ بلند ہیں۔