ڈینگی مچھر بمقابلہ محکمہ تعلیم

08 نومبر 2013

گذشتہ ہفتے مَیں کالج جانے کیلئے گھر سے نکلا، تھوڑی دیر بعد میں مال روڈ پر پہنچ گیا۔ میں اپنی بائیک پر اپنے ساتھ ساتھ جانے والی اور مخالف سمت سے آنے والی تتلیوں کے رنگوں جیسی کاروں کا نظارہ کر رہا تھا۔ کاروں میں سفر کرنے والے لوگوں کے چہرے خوش و خرم تھے۔ دونوں طرف درختوں کی ہریالی اور پھولوں کی مسکراہٹ مال روڈ کو ارم بنا رہی تھی۔ میرے دل سے دعا نکل رہی تھی کہ خدا ہمارے پاکستانی لوگوں کو اسی طرح خوش و خرم رکھنا، میرے مال روڈ کو بھی اسی طرح شاد آباد رکھنا۔ لاہور کی مال روڈ ایک ایسی سڑک ہے جہاں پہنچ کر سکون اور نشاط کی چند ساعتیں نصیب ہو جاتی ہیں۔ کالج پہنچ کر کولہو کے بیل کی طرح ایک کلاس سے دوسری کلاس اور پھر تیسری کلاس میں پہنچے۔ آخری کلاس میں ایک سرکلر آ گیا، اس میں لکھا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف صاحب کی طرف سے ہدایت دی گئی ہے کہ اتوار کے روز تمام سٹاف حاضر ہو گا۔ ہمارے پائوں تلے سے کمرۂ جماعت کی زمین نکل گئی۔ زمین تو ہمارے پاؤں تلے سے پچھلے پورے ہفتے سے نکلی ہوئی تھی کہ ہم اپنے رشتے داروں اور دوستوں کی شادیوں پر نکلے ہوئے تھے۔ ہماری صحافت کے سپہ سالار ڈاکٹر مجید نظامی صاحب تو بارہا فرما چکے ہیں کہ ہم پرعذاب نازل ہو چکا ، اجتماعی توبہ کا دروازہ کُھلا ہے۔ نجانے ہمیں نظامی صاحب کے فرمان پر عمل کرنے کی کب توفیق ہوتی ہے۔
ہمارے سیاستدان اگرچہ دانا ہیں اور تسبیح کے دانے ہیں لیکن انہیں بکھرتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔ کچھ سیاستدان ڈرون حملوں کے حق میں ہیں اور کچھ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں کچھ ایسی بحثیں بھی شروع ہو گئی ہیں جن کا یہ موقع ہے نہ وقت۔ پہلے ہمارے مسجدوں سے اعلان ہُوا کرتا تھا کہ مسجد میں پانی اور بجلی نہیں ہے گھروں سے وضو کر کے آئیے اور ٹارچ یا موبائل کی روشنی ساتھ لیتے آئیے۔ اب مساجد سے جب یہ اعلان ہوتا ہے کہ فلاں کے والد، فلاں کے ماموں، فلاں کے چچا اور فلاں کے دادا ڈینگی بخار سے وفات پا چکے ہیں تو بندہ کانپنا شروع ہو جاتا ہے۔ اب تو رات کے وقتٰ مچھر کان میں گنگنائے تو ہم خوف سے بیدار ہو جاتے ہیں کہ ڈرون حملہ ہو گیا ہے۔ ہم اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے مچھر بھگائو لوشن تلاش کرتے کرتے دیوار کو سر مار لیتے ہیں اور صبح تک سر درد کی وجہ سے سوئے رہتے ہیں۔ ہمارے ہر دلعزیز وزیر اعلیٰ جناب شہباز شریف صاحب گزشتہ برسوں سے ڈینگی کے خلاف جنگی بنیادوں پر کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ہم ادب کے طالب علم ہیں ہم نے تحریک علی گڑھ کے بارے میں پڑھ رکھا ہے لیکن ہمارے وزیر اعلیٰ صاحب نے اسے تحریک ڈینگی کی شکل دے دی ہے۔ جب ہم تاریخی کالج اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں ڈی پی آئی کالجز جناب پروفیسر طارق جلیل اور پرنسپل پروفیسر امجد علی شاکر کی قیادت میں ڈینگی واک کر رہے تھے تو ایک پروفیسر صاحب نے کہا کہ ڈینگی مچھر نے ہماری اکلوتی چُھٹی پر حملہ کر دیا ہے اور ہم مومن اس موذی مچھر کیخلاف بے تیغ ہی نکل آئے ہیں۔ ہم نے اپنے دوست پروفیسر خالد رفیع سے کہا کہ ہم اردو کے استاد ہیں ہمارا اس ڈینگی مچھر سے کیا تعلق ہے۔ کہنے لگے خواجہ حسن نظامی کے انشائیے ’’مچھر‘‘ کی وجہ سے ہمارا اسے گہرا تعلق ہے۔ معروف انشائیہ نگار منور عثمانی، ہمارے ساتھ واک میں شریک تھے، ہم نے ان سے کہا کہ اب آپ ’’ڈینگی مچھر‘‘ پر انشائیہ لکھیں تاکہ ادب میں یہ ڈرون طیارے کی شکل کا مچھر محفوظ ہو جائے اور نئی نسل تک اسکی کمینگیاں پہنچیں۔ پہلے ہم کالج جانے سے قبل سوچتے تھے کہ بچوں کو پڑھانا ہے، لیکچرر تیار کرتے تھے، لُغت دیکھتے تھے، کتابیں پڑھتے تھے اب ہم کالج جانے سے قبل ڈبل جرابوں، فل بازو والی قمیضوں، گلے میں مفلر اور ہاتھوں میں دستانوں کا اہتمام کرتے ہیں۔