اسلامی ہجری سال کا آغاز اور اس کی اہمیت

08 نومبر 2013

مولانا محمد یونس پالنپوری
اسلام سے پہلے صرف عیسوی سال اور مہینوں سے تاریخ لکھی جاتی تھی اور مسلمانوں میں تاریخ لکھنے کا دستور نہیں تھا۔ حضرت عمرؓ کے دور خلافت 17ہجری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے حضرت عمر ؓ کے نام خط لکھا کہ آپ کی طرف سے حکومت کے مختلف علاقوں میں خطوط جاری ہوتے ہیں مگر آپ کے ان خطوط میں تاریخ  نہیںلکھی ہوتی، اور تاریخ لکھنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے کہ کس دن آپ کی طرف سے حکم جاری ہوا اور کب پہنچا اور کب اس پر عمل ہوا۔ ان سب باتوں کے سمجھنے کا انحصار تاریخ لکھنے پر ہے ، تو حضرت عمرؓ نے اس کو نہایت معقول بات سمجھا اور فوری طور پر اکابر صحابہؓ کی ایک میٹنگ بلائی۔ اس میں مشورہ دینے والے  صحابہء کرام ؓ  کی طرف سے چار قسم کی رائے سامنے آئی:
1۔ اکابر صحابہؓ کی ایک جماعت کی یہ رائے تھی کہ آپؐ کی ولادت کے سال سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے۔
2۔ دوسری جماعت کی یہ رائے ہوئی کہ نبوت کے سال سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے۔
3۔ تیسری جماعت کی رائے ہوئی کہ ہجرت سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے۔
چوتھی جماعت کی یہ رائے ہوئی کہ آپؐ کے وصال سے اسلامی سال کی ابتداء کی جائے۔
ان چاروں قسم کی رائیں سامنے آنے کے بعد ان پر باضابطہ بحث ہوئی۔ پھر حضرت عمرؓ نے یہ فیصلہ سنایا کہ ولادت یا نبوت سے اسلامی سال کی ابتدا کرنے میں اختلاف سامنے آ سکتا ہے۔ اس لئے کہ آپؐ کی ولادت کا دن اسی طرح آپ کی بعثت کا دن قطعی طور پر اس وقت متعین نہیں ہے۔ بلکہ اختلاف ہے اور وصال سے شروع کرنا اس لئے مناسب نہیں ہے کہ وصال کا سال اسلام اور مسلمانوں کے غم اور صدمہ کا سال ہے۔ اس لئے مناسب یہ ہو گا کہ ہجرت سے اسلامی سال کی ابتداء کی جائے اس میں چار خوبیاں ہیں:
1۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہجرت نے حق و باطل کے درمیان واضح امتیاز پیدا کر دیا۔
2۔ یہی وہ سال ہے جس میں اسلام کو عزت اور قوت ملی۔
3۔ یہی وہ سال ہے جس میں نبی کریمؐ اور مسلمان امن و سکون کے ساتھ بغیر خوف و خطر کے اللہ کی عبادت کرنے لگے۔
4۔ اسی سال مسجد نبوی کی بنیاد رکھی گئی۔
ان تمام خوبیوں کی بناء پر تمام صحابہ کرامؓ کا اتفاق اور اجماع اس بات پر ہوا کہ ہجرت کے سال ہی سے اسلامی سال کی ابتدا ہوئی۔
پھر اسی مجلس میں دوسرا مسئلہ اٹھا کہ سال میں بارہ مہینے ہیں ان میں چار ماہ حرمت والے ہیں:
1۔ ذیقعد 2۔ ذی الحجہ 3۔ محرم اور 4۔ رجب جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان میں ہے۔
سال کے مہینے کی ابتدا میں بھی اکابر صحابہؓ کی مختلف آراء سامنے آئیں کہ سال کے مہینے کی ابتدا کس مہینے سے کی جائے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں بھی  اکابر صحابہ کرامؓ کی طرف سے چار قسم کی رائیں سامنے آئیں:
1۔ ایک جماعت یہ مشورہ دیا کہ رجب کے مہینے سے سال کے مہینہ کی ابتدا کی جائے اس لئے کہ رجب سے ذی الحجہ تک چھ مہینے ہوتے ہیں۔ پھر محرم سے رجب کی ابتدا تک چھ مہینے ہوتے ہیں۔
2۔ دوسری جماعت نے یہ مشورہ دیا کہ رمضان کے مہینہ سے سال کے مہینے کی ابتدا کی جائے۔ اس لئے رمضان سب سے افضل ترین مہینہ ہے جس میں پورا قرآن کریم نازل ہوا ہے۔
3۔ تیسری جماعت نے یہ مشورہ دیا کہ محرم کے مہینے سے سال کے مہینے کی ابتداء کی جائے۔ اس لئے کہ ماہ محرم میں حجاج کرام حج کر کے واپس آتے ہیں۔
4۔ چوتھی جماعت نے یہ مشورہ دیا کہ ربیع الاول سے سال کے مہینے کی ابتدا کی جائے۔ اس لئے کہ اس مہینے میں حضور اکرمؐ نے ہجرت فرمائی کہ شروع میں ربیع الاول میں مکہ مکرمہ سے سفر شروع فرمایا اور 8ربیع الاول کو مدینہ منورہ پہنچ گئے تو حضرت عمرؓ نے سب کی رائے نہایت احترام کے ساتھ سنی۔ پھر آخر میں یہ فیصلہ دیا کہ محرم کے مہینے سال کے مہینے کی ابتدا ہونی چاہئے۔ اس کی دو خوبیاں سامنے ہیں۔
٭ حضرات انصار نے بیعت عقبہ کے موقع پر حضور اکرمؐ کو مدینہ منورہ ہجرت کر کے تشریف لانے کی دعوت پیش  فرمائی تھی اور آپ نے انصار کی دعوت قبول فرمائی اور یہ ذی الحجہ کے مہینے کے بعد حج پیش آیا تھا اور حضور نے محرم کے شروع سے صحابہ کرام کو ہجرت کے لئے روانہ کرنا شروع فرما دیا تھا، لہٰذا ہجرت کی ابتدا محرم کے مہینہ سے ہوئی اور اس کی تکمیل ربیع الاول میں آپ کی ہجرت سے ہوئی۔
٭ حج اسلام کی ایک تاریخی عبادت ہے جو سال میں صرف ایک مرتبہ ہوتی ہے اور حج سے فراغت کے بعد محرم کے مہینہ میں حاجی لوگ اپنے گھر واپس آتے ہیں۔ ان خوبیوں کی بنا پر سال کے مہینے کی ابتدا محرم سے مناسب ہے۔ اس پر تمام صحابہ کرامؓ کا اتفاق اور اجماع ہوا کہ سال کے مہینے کی ابتدا محرم سے ہو۔ لہٰذا اسلامی سال کی ابتدا ہجرت سے اور اسلامی مہینہ کی ابتدا محرم الحرام سے مان لی گئی اور اسی پر امت کا عمل جاری ہے۔ اللہ نے روزہ، عید، حج کا مدار اسلامی سال و اسلامی تاریخوں پر رکھا ہے۔ عیسیوی تاریخوں پر نہیں رکھا۔ عیسیوی تاریخ تابع ہے اسلامی تار یخ کے۔اسی لئے ہمارے  ہاں  شادی بیاہ کی تاریخیں، سفر کی تاریخیں، کاروبار شروع کرنے کی تاریخیں اور معاملات و معاشرت میں  اسلامی سال اور اسلامی تاریخوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ امت کا  ایک طبقہ جو اسلامی سال اور اسلامی مہینوں کی اہمیت سے واقف نہیں ،
 اللہ تعالیٰ  انہیں بھی عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...