عاشورہ محرم کے روزہ کی فضیلت

08 نومبر 2013

سید عبدالشکور ترمذی
  رسول اللہ ؐ  نے  ارشاد فرمایاکہ  رمضان کے بعد اللہ تعالیٰ کے ہاں  سب  سے افضل روزے  ماہ  محرم الحرام  کے ہیں( یعنی  دسویں محرم کا روزہ رکھنا رمضان کے سوا اور سب مہینوں کے روزے سے زیادہ ثواب رکھتا ہے) مسلم۔ جب آنحضرت  ؐ مدینہ میں تشریف لائے تو یہود کو عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے پایا۔اس لئے آپ ؐ نے اُن سے فرمایا ’’ یہ کیا دن ہے جس میں تم روزہ رکھتے ہو، انہوں نے کہا۔ یہ بڑا دن ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ اور ان کی قوم کو نجات عطا فرمائی اور فرعون اور اس کی قوم غرق ہوئی۔پس موسیٰ ؑ نے اس  دن کا روزہ بطور شکر انہ  رکھا تو ہم بھی اس دن  روزہ رکھتے ہیں۔پس ارشاد فرمایا رسول اللہ ؐ نے تو ہم زیادہ حق دار اور قریب ہیں موسیٰؑ کے تم سے۔ پھر حضور  ؐ نے اس کا روزہ رکھا اور( دوسروں کو) اس کے روزے کا حکم دیا۔(متفق علیہ) نیز ارشاد فرمایا رسول اللہ ؐ نے،میں امید رکھتا ہوں حق تعالیٰ سے کہ عاشور کا روزہ کفارہ ہوجاتا ہے اُس سال کا( یعنی اس سال کے چھوٹے گناہوں کا) جو اس سے پیشتر( گزرچکا) ہے۔(مسلم) اور  حدیث شریف میں ہے کہ جب رسول خدا   ؐ نے روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم دیا تو انہوں نے( یعنی صحابہؓ نے) عرض کیا کہ یہ ایسا دن ہے جس کو یہود اور نصاریٰ معظم سمجھتے ہیں۔ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نو(9) تاریخ کو(بھی) ضرور روزہ رکھوں گا۔(مسلم) اور ارشاد فرمایا  رسول اللہ ؐ نے روزہ رکھو تم عاشورہ کا … اور مخالفت کرو اس میں یہود کی اور (وہ اس طرح کہ) روزہ رکھو اس سے ایک دن پہلے کا یا ایک دن بعد کا( غرض تنہا عاشورہ کا روزہ نہ رکھو،اس سے ایک دن پہلے کا یا بعد میں ملا لینا چاہئے) جمع الفوائد عن احمد والبزاربلین والیہ ذھب فقھاء فکر ھو انفراد عاشوراء بالصوم ۔اور حدیث شریف میں ہے کہ عاشورہ کا روزہ رمضان( کے روزے فرض ہونے) سے پیشتر( بطور فرضیت) رکھاجاتا تھا۔
 پس جب رمضان( کے روزوں کا حکم) نازل ہوا جس نے چاہا( عاشورہ کا روزہ) رکھا اور جس نے چاہانہ رکھا۔ جمع الفوائد عن الستہ الاالنسائی اور ارشاد فرمایا رسول اللہ ؐ نے جس شخص نے فراخی کی اپنے اہل و عیال پر خرچ میں عاشورہ کے دن،فراخی کرے گا اللہ اس پر( رزق میں) تمام سال۔( رزین و بیھقی وفی المرفاۃ قال العراقی لہ طرق بعضھا صحیح و بعضھا علی شرط مسلم۔پس یہ دو باتیں تو کرنے کی ہیں، جن میں ایک روزہ رکھنا کہ وہ مستحب ہے دوسرے مصارف میں کچھ فراخی کرنا(اپنی حیثیت کے موافق) اور یہ مباح ہے۔