محرم الحرام میں امن و امان کے لیے تجاویز

08 نومبر 2013

چوہدری فرحان شوکت ہنجرا
قمری اور اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے ۔اسلامی کیلنڈر کے پہلا مہینے محرم الحرام میں حضرت امام حسین ؓ اور ان کے خانو ادے کی شہادت کا واقعہ پیش آیا ۔دنیا کے تمام مسلمان نواسہ رسول ؐ اور ان کے خاندان اہل بیت کے ہر فرد سے بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں۔9,10 محرم الحرام کو نفلی روزے بھی رکھتے ہیں ۔نبی مہربان حضرت محمد ؐ نے اپنے آخری خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر اہل ایمان سے کہا تھا کہ آج دین اسلام مکمل ہو گیا ہے میں اللہ کی کتاب قرآن اور سنت چھوڑ کر جا رہا ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنائے رکھنا تو تم دنیا میں بھی فلاح پائو گے اور روز حشر میں بھی اللہ کے دربار میں سر خرو ہو گے۔
آج ہم اگر اپنے حالات  پر نظر ڈالیں تو ، مسلمان کہلوانے کے لائق نہیں، ہم نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو چھوڑ کر فروعی اختلافات کو اوڑھنا بچھو ڑ نا بنا کر فرقہ واریت کی ایسی ریت قائم کر دی ہے کہ ہر طبقہ فکر پریشانی میں لاحق ہے۔ ایک دوسرے پر بہتان ،الزام تراشی ،بغض ،کینہ پروری کے ایسے ایسے رویے اختیار کیے ہوئے ہیں کہ آگ و خون کی ندیاں بہتی جا رہی ہیں دین اسلام کے دشمن خوش اور ہم تباہ و برباد ہو رہے ہیں ۔
صرف محرم الحرام ہی نہیں  ، ہماری ریاست  امن و امان کے قیام،  عوام کے جان و مال، عزت  وآبرو کے تحفظ کی  برابر  ذمہ دار ہے۔بد قسمتی سے محر م الحرام کے ماہ کی آمد پر ہر طرف سے خوف کی فضا، دہشت گردی ،قتل و غارت ،فساد ،امن و امان کی ناگفتہ بہ صورتحال پر  چہ میگو ئیاں شروع ہو جاتی ہیں۔عوام سہمے نظر آنے لگتے ہیں ۔حکومتی سطح پر  مختلف محکموں، پولیس،رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ماہ محرم الحرام  کے سلسلے میں اجلاس شروع ہو جاتے ہیں ۔یہ اجلاس اور  اس میں ہونے والی  مؤثر منصوبہ بندی بلا شبہ  عوام کے جان و مال عزت کے تحفظ ،امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے  مفید ثابت ہوتی ہے ۔ لیکن  صرف  ریاستی ادارے ہی نہیں تمام سیاسی ،مذہبی ،سماجی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کا بھی قومی  فریضہ ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حکومتی کوششوں کا ساتھ دے۔
1 ۔تمام مکاتب فکر کا اجلاس
تمام مکاتب فکر کے افراد  مل جل کر حکومتی سطح پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ماہ محرم الحرام میں مذہبی ہم آہنگی ، اورایک دوسرے کے مسلک کاا حترام  کے لیے اہم کردار اد ا کر سکتے ہیں لیکن یہ صورتحال اس وقت بگڑ جا تی ہے   جب علما و ذاکر ین کرام کے قول وفعل میں تضاد پر مبنی رویے سے ساری تد بیریں ناکام ہو جاتی ہیں۔لہٰذا حکومتی سطح پر علما ء و ذاکرین کے اجلاس میں ،ضلعی  انتظامیہ و پولیس کی جانب  سے  متفقہ اعلامیہ پر دستخط لیے جانے چاہئیں کہ وہ مساجد،امام بارگاہوں مجالس میںکسی مسلک کے مذہبی جذبات کو مجروح نہیں کریں گے ۔ مساجد ،امام بارگا ہوں ،مجالس میں شہادت امام حسین ؓ و اہل بیت ؓ و صحابہ کرام ؓ سے متعلق واقعات کو اسلامی تاریخ کی تعلیمات کی روشنی میں ہی بیان کریں گے۔ اس حوالے سے ضلعی و پولیس انتظامیہ کو چاہیے کہ سادہ لباس میں اہلکاروں کو تعینات کرے جو کہ روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ دیں تا کہ اگر کسی بھی فریق کی جانب سے کوئی خلاف ورزی ہو تو اس کا بر وقت سد باب کیا جا سکے ۔
2۔  کشیدگی کیسے بڑھتی ہے اور سد باب :
محرم الحرام میں مجالس ،یوم عاشورہ کے موقع پر جلوس اور دیگر پروگرامات کی جگہ ،وقت پہلے سے ہی متعین اور طے ہوتے ہیں ۔پولیس و ضلعی انتظامیہ نے شیڈول پروگرام پر عملدا آمد کر کے امن و امان کے انتظامات ترتیب دیتی ہے ۔کشیدگی اس وقت جنم لیتی اور بڑھتی ہے جب ایک مسلک کے لوگ اپنی خواہش کو جلا بخشنے کے لیے حدودو د قیود میں تبدیلی چاہتے ہیں تو دوسرا فریق سامنے آجاتا ہے اس موقع پر پولیس انتظامیہ کے افسران کو چاہیے کہ وہ مصلحت  کی بجائے صرف اور صرف حکومت و انتظامیہ کے چارٹر اور پلان پر عملدر آمد کروائے  ورنہ دونوں جانب سے تندو خیز جملوں سے حالات کشیدہ ہو جاتے ہیں لہٰذا پولیس و ضلعی انتظامیہ کے ذمہ دار یہ بات باور کروا دیں کہ وہ کسی کو بھی مقررہ حد سے تجاوز کی اجازت نہیں دیں گے اور کسی  مقررہ جگہ  سے ہٹ کر کوئی مذہبی پروگرام منعقد نہیں ہونے دیں گے۔
3۔  ضلعی و پولیس انتظامیہ کا تاجر وں اور ٹرانسپورٹروں نمائندوں کے ساتھ اجلاس :
ضلعی و پولیس انتظامیہ انٹر سٹی لوکل ٹرانسپورٹر ز ایسو سی ایشن کے ذمہ داران ،جنرل بس سٹینڈ پر ٹرانسپورٹ یونین چنگ چی رکشہ یونین ،کارگو ، موبائل فون کسٹمر ز سنٹر ،انجمن تاجران کے ساتھ اجلاس منعقد کریں ۔ ویگنوں ، منی بسوں ،رکشوں میں محرم الحرام کے دوران آڈیو کیسٹس نہ چلانے اور تاجران سے بازاروں میں دوکانوں بالخصوص پان شاپس،سگریٹ کے کھوکھوں پر مذہبی الفاظ پر مبنی آڈیو کیسٹس نہ چلانے کا حلف لیں ۔کیونکہ بسوں ،ویگنوں ،رکشوں ،پر جب یہ آڈیو کیسٹس چلتی ہیں تو تناؤ پیدا  ہو جاتا ہے ۔متعلقہ علاقے کا ایس ایچ او انجمن تاجران کے ذمہ داران کے ساتھ میٹنگ میں  یہ امو ر طے کروائے۔
4۔ معزز شہریوں اور دیہاتوں کے نمبر داروں سے میٹنگ :
انتظامیہ اس عمل کو بھی یقینی بنائے کہ معزز شہریوں بالخصوص گائوں کے نمبر داروں کے ذریعے عوام الناس میں ہم آ ہنگی فرقہ واریت کے تدارک کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے ان کے دیہات اورڈیروں میں ان کے پاس جائیں ۔
5 ۔  لائوڈ سپیکر کا استعمال :
پولیس و ضلع انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ محرم الحرام میں لائوڈ سپیکر صرف مذہبی اجتماعات والی جگہ پر ہی مقرر وقت تک محدود ہوگا۔اس کے علاوہ گاڑیوں پرانا ئو نسمنٹ یا گلی محلے میں لائود سپیکر یا ایکو سسٹم کی  قطعا کوئی اجازت نہ  دی جائے۔
6 ۔  بلا وجہ راستے بند کرنے کی مما نعت :
پولیس و ضلعی انتظامیہ عوام الناس کے آمد ورفت کے لیے خصوصی ٹریفک پلان ترتیب دے اور گلی محلوں ،چوکوں میں بلا جواز راستے بند کرنے کی حوصلہ شکنی کرے۔
7 ۔  مساجد کے ائمّہ کرام کے نام خط :
پولیس و ضلعی انتظامیہ تمام مکاتب فکرک علما ء کرام  کے نام خط کے ذریعے یا ممکن ہو سکے تو کسی بڑی جامع مسجد کمیونٹی سنٹر میں ائمہ کرام  سے  تعاون  طلب کرے۔
8۔  عوام سے اپیل :
حکومت پولیس و ضلعی انتظامیہ گا ہے بگا ہے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوام کے تمام طبقات سے اپیل کرے کہ وہ اس ضمن میں اداروں سے تعاون کریں اور یوم عاشور کے موقع پر گھروں کی چھتوں ،بالکونیوں سے باہر نہ جھانکیں ۔
9 ۔  محرم الحرام کے جلوس کے راستے کی مانیٹرنگ:
محرم الحرام میں عاشورہ اور دیگر نکالے گئے جلوس میں سڑکوں کے مین ہولوں کے ڈھکن ،لائٹس پول،سڑک کے دونوں جانب فٹ پاتھوں پر مارکیٹ مزدوروں کے زیر استعمال ہتھ گاڑیاں ،ٹھیلے اور دیگر سازوسامان جن کو دو کاندار کپڑوں سے ڈھانپ کر چلے جاتے ہیں ان کو فورا اٹھوادیا جائے ۔کیونکہ دہشت گرد ،تخریب کار سڑکوں بالخصوص مارکیٹوں کے باہر پڑے سامان میں ہی دہشت گردی میں استعمال ہونے والا مواد لگاتے ہیں ۔ہر قسم کی گاڑیوں کی پارکنگ چاہے وہ رہائشی علاقوں میں رہنے والے مکینوں کی گاڑیاں ہی کیوں نہ ہوں ان کو بھی دو دن کے لیے کہیں اور پارکنگ کرنے کے لیے  انتظامات  کئے  جائیں ۔
10 ۔ سی سی ٹی وی کیمرے:
محرم الحرام سے قبل جلوس کے راستوں ،اہم چوکوں ،جلوس میں شامل ہونے والے دیگر راستوں پر لگے سکیورٹی کیمروں کی اچھی طرح دیکھ بھال کر کے ان کے چوبیس گھنٹے چالو  رکھنے کو یقینی بنایا جائے۔