ماہ محرم کی عظمت و برکات

08 نومبر 2013

مولانا محمد الیاس گھمن
ماہ محرم الحرام  اسلامی سال کا پہلا  مہینہ ہے جو اپنی برکات و فضائل میں  اپنی مثال آپ ہے۔ اس مہینہ کی تاریخی حیثیت تو اپنی جگہ مسلم ہے لیکن اس کی حرمت اور آنحضرتؐ کے اس مہینہ میں خصوصی اعمال اس کی عظمت کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ تاریخ اسلامی  کے کئی واقعات اسی مہینہ میں پیش آئے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تاریخ کے بیشتر اہم اور سبق آموز واقعات اسی مہینہ میں رونما ہوئے۔ لہذا جہاں ماہ محرم سال نو کی ابتداء کی نوید دیتا  ہے۔ وہیں ان واقعات و حادثات کی بھی خبر دیتا ہے جن کا یاد رکھنا امت مسلمہ  کے لئے ضروری ہے۔ زندہ  اقوام کی علامت یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی تاریخ ‘ اسلاف کے کارناموں اور واقعات  سے بے خبر نہیں رہتیں۔  لہٰذا محرم کا آغاز  ہمیں  ان تاریخی حقائق سے باخبر ہونے  کا موقع فراہم  کرتا ہے۔
مسلمانوں کی باقاعدہ تاریخ کا آغاز  آنحصرتؐ کی ہجرت  سے ہوا۔ اس سے قبل مسلمان سن نبوت  یا آنحضرتؐ کے آخری حج وغیرہ سے تاریخ کا حساب کیا کرتے تھے‘ باقاعدہ سن مقرر نہیں تھا۔ اہل عرب کے ہاں مختلف واقعات مشہور تھے۔ جن کی بنیاد  پر تاریخ کا تخمینہ  لگاتے تھے۔ مثلاً جنگ بسوس‘ جنگ داحس‘ جنگ فجار اور عام الفیل وغیرہ (الکامل لا بن اثیر:ج:ا: ص: 14,13: دارالکتب العلمیہ)
اس لئے باضابطہ سن مقرر کرنے کی ضرورت محسوس  نہ کی گئی۔ جب حضرت عمر فاروقؓ  کا دور خلافت آیا اور فتوحات کا سلسلہ بڑھا تو عرب کے علاوہ  دیگر عجم ممالک میں بھی اسلامی حکومت باقاعدہ طور پر معرض وجود میں آئی  ۔لہٰذا انفرادی و اجتماعی  اور سرکاری سطح پر اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ باقاعدہ طور پر کوئی سن مقرر کیا جائے۔ 
چنانچہ  خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ نے صحابہ کرام  سے مشاورت فرمائی اور سن ہجری کا تقرر ہوا یعنی آنحضرتؐ کی مدینہ کی ہجرت کے واقعہ  کو اسلامی تقویم کی بنیاد بنایا گیا۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر:ج:ا‘ ص:44)
نیز صحابہؓ   کا اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ سال کی ابتداء  ماہ محرم سے کی جائے۔  چنانچہ محرم ہی  سے اسلامی سال  کا آغاز  ہونے لگا۔ (المختصر فی اخبار البشر لا بی الفداء اسماعیل بن علی: ج:اص:80‘ الہجرۃ النبویہ علیٰ صاجبا افضل الصلوٰۃ و السلام)
ماہ محرم کے فضائل
ماہ محرم  اپنی فضیلت و عظمت‘ حرمت وبرکت اور مقام مرتبہ کے لحاظ سے انفرادی خصوصیت کا حامل ہے۔ اسی وجہ سے شریعت محمدیہ  ؐ کے ابتدائی دور میں اس کے اعزاز و اکرام میں قتال کو ممنوع قرار دیا گیا۔ ارشاد ربانی ہے۔
(البقرہ: 217)
ترجمہ:  کہہ دیجئے اس میں قتال کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ اسے حرمت والے مہینوں میں بھی  شمار کیا گیا  ہے۔ ارشاد باری ہے۔ (التوبہ: 36)
ترجمہ: مہینوں کی گنتی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بارہ مہینے  ہے۔ ان میں چار مہینے ادب کے ہیں۔
حضرت ابو بکرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا۔
ترجمہ: زمانے کی رفتار وہی ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا تھا۔ ایک سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے۔ ان میں سے چار مہینے  حرمت والے ہیں جن میں سے تین  مہینے مسلسل ہیں۔ یعنی ذوالقعدہ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور ایک مہینہ رجب کا ہے جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔
محرم کے روزوں کی فضیلت
یوں تو اس ماہ میں کی جانے والے ہر عبادت قابل قدر اور باعث  اجر ہے۔ مگر احادیث مبارکہ میں محرم کے روزوں  کی خصوصی ترغیب  دی گئی  ہے۔ چنانچہ آنحضرتؐ ارشاد فرماتے ہیں۔
(مسلم :ج:ا:ص: 368 باب فضل صوم المحرم)
ترجمہ: رمضان کے روزوں کے بعد  سب سے بہترین روزے اللہ کے مہینہ ’’محرم‘‘ کے روزے ہیں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت   ہے:
(غنیتہ الطالبین للشیخ جیلانی: ص: 314 مجلس فی فضائل یوم عاشورا)
ترجمہ: جو محرم کے ایک دن کا روزہ رکھے اس کو ایک مہینہ کے روزوں کا ثواب ملے گا۔
پھر اس ماہ کے تمام ایام میں سے اللہ رب العزت نے ’’یوم  عاشورہ‘‘  کو ممتاز مقام عطا فرمایا ہے۔یہدن بہت سے فضائل کا حامل اور نیکیوں کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ارشاد نبویؐہے،ترجمہ  :جو شخص عاشورا کے دن کا روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ سال کے (صغیرہ) گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔
ترجمہ:  ایک دوسری روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا فرمان ہے  ( صحیح بخاری ؛ ج؛ ۱ ص  :268      باب صیام یوم عاشورا ) ۔ترجمہ:حضور اقدسؐ رمضان المبارک کے مہینہ اور دس محرم کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔
نوٹ: اہل ایمان کو یہود کی مخالفت کا حکم دیا گیا اور اس دسویں محرم کا روزہ  چونکہ یہود بھی رکھتے  ہیں۔  اس لئے  اب ہمارے لئے حکم یہ ہے کہ دسویں  تاریخ کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ  بھی رکھیں تاکہ  سنت بھی ادا ہو جائے اور مخالفت  یہود کا پہلو بھی نکل آئے جیسا کہ حضرت عبداللہ  بن عباسؓ کی روایت میں ہے۔
(مسند احمد:ج: ا:ص:241 حدیث نمبر 2154)
ترجمہ : تم عاشورہ کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو اور اس سے ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ بھی رکھو۔